Native World News

’’ڈنکی ‘‘ پُرخطر راستوں کے مسافر

’’ڈنکی ‘‘ پُرخطر راستوں کے مسافر

ہمارے نوجوان فرسٹریشن کا شکار ہیں وہ کام کرنا چاہتے ہیں

پاکستان میں نوجوانوں کے لیے نوکریوں کے مسائل بڑھتے ہی جا رہے ہیں، پڑھنے لکھنے کے باوجود بھاری ڈگریاں اور دیگر خصوصیات کے باوجود نوجوان اپنے ملک میں نوکری کے لیے خوار ہوتے پھرتے ہیں، ایسے میں ان کو بیرون ملک جا کر کمانے کا شوق ابھرتا ہے۔

یہ جانے بغیر کہ باہر جا کر وہ کن مسائل میں الجھ سکتے ہیں۔ ایسا اکثر دیکھا گیا ہے بھاری رقوم دینے کے باوجود گھروں کے چراغ آندھیوں میں بجھ جاتے ہیں، کبھی کسی ریگستان میں دور دراز مقام پر کسی کنٹینر میں اکڑے ہوئے وجود ملتے ہیں تو کبھی بیچ سمندر میں کشتی میں طوفانوں سے نبرد آزما ہونے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے۔

ہر حال میں موت کی خوراک بنانے کو ہزاروں نہیں لاکھوں روپے ادا کرکے یہ مصیبت زدہ نوجوان اپنا مستقبل ہی نہیں بلکہ اپنی زندگی اپنی زندگی بھی داؤ پر لگا دیتے ہیں۔ پھر ان میں سے کبھی کوئی خوش قسمت بچ جاتا ہے تو ان مظلوموں کی داستان کا پتا چلتا ہے۔

حال ہی میں پاکستان میں ایک ایسے سرگرم خطرناک گروہ کا پتا چلا ہے جو نوجوانوں کو اچھی پرکشش ملازمتوں کا لالچ دے کر روس لے جانے کا دعویٰ کرتے ہیں اور پھر انھیں روس لے جا کر یوکرین کے خلاف لڑنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

یہ انکشاف ہوش ربا ہے لیکن ایک ایسی درخواست ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ راولپنڈی سرکل میں جمع کروائی گئی ہے۔ درخواست گزار کے مطابق یہ واقعہ خود اس کے ساتھ پیش آیا۔

نوجوان کے مطابق اسے محفوظ ملازمت، قانونی ورک پرمٹ اور ساتھ پانچ سے چھ لاکھ روپے تنخواہ کا جھانسا دیا گیا۔ یہ پرکشش مراعات ایک نوجوان کے لیے بہت تھیں۔ اس تمام عمل کے سلسلے میں محمود اختر جمال جو درخواست گزار کے بڑے بھائی ہیں، ان کے اکاؤنٹ سے تینتالیس لاکھ سے زائد رقم ایجنٹ کو ادا کی گئی۔

اس سے پہلے درخواست گزار اور دیگر نوجوانوں کو اعتماد میں لیا گیا، پوری طرح شیشے میں اتار لینے کے بعد روانگی اور اس کے بعد کی صورت حال خوفناک تھی، نوکری تو باورچی کی تھی لیکن اصل مدعا روسی فوج میں شمولیت کا تھا۔

درخواست گزار کے لیے یہ مرحلہ اذیت ناک اور ناممکن تھا ،لہٰذا اس نے اپنے گھر والوں کو اس بارے میں مطلع کیا کہ اسے یوکرین کے خلاف جنگ کے لیے مجبور کیا جا رہا ہے۔

سلسلہ پھر پاکستانی سفارت خانے کے ذریعے سے شروع ہوا اور ایک اور طویل صبر آزما سلسلہ شروع ہوا جہاں وقت اور پیسے کا ضیا الگ بہرحال روانگی پاکستان ہوئی، لیکن مسائل اور ذہنی اور جسمانی اذیت تکلیف دہ تھی۔

پاکستانی سفارت خانے اور دیگر ذرائع نے درخواست گزار کے لیے کام کیا یہ بھی حقیقت ہے کہ جسے اوپر والا رکھے اور یوں ایک نیا باب کھل گیا جس نے اس ماڈرن طرز کی ہیومن ٹریفکنگ ایجنسی کو عیاں کیا۔

ہمارے یہاں ایسے کتنے ہی خاندان حسرت و یاس کی صورت بنے نظر آتے ہیں جن کے لال کمائی کی غرض سے آنکھوں میں خواب سجائے اپنے پیاروں کو چھوڑ کر جاتے ہیں لیکن ان میں سے بہت کم ہی اپنے خوابوں کی تعبیر کو پاتے ہیں۔

ایسے خواب سجانے والے نوجوان زیادہ تر پنجاب اور اس کے بعد خیبرپختون خوا سے جاتے ہیں لیکن ان پُرخطر راستوں کو جانے والے یہ نوجوان جو ڈنکی کہلائے جاتے ہیں ترکیہ، یونان اور ایسے ممالک کا انتخاب کرتے ہیں جہاں سے یہ ڈنکی انھیں یورپ کی جانب لے چلے۔

انسانی اسمگلنگ کا یہ دھندہ ویسے تو ایک سنگین جرم ہے لیکن باقاعدگی سے انجام دیا جا رہا ہے۔ ایف آئی اے نے اپنی ایک ایڈوائزری میں ایسے پندرہ ممالک کی واضح طور پر نشان دہی کر دی ہے جہاں ان نوجوانوں کو لاکھوں روپوں کے عوض غیر قانونی طور پر منتقل کیا جا رہا ہے۔

کہا جا رہا ہے کہ ایف آئی اے کی اس ایڈوائزری کا عام نوجوان پر کوئی خاص فرق نہیں پڑ رہا کیونکہ ان کے خیال میں قانونی طور پر جانے کا راستہ سخت مراحل سے گزر کر جاتا ہے اور کسی ایک بھی قدم پر کوئی معمولی سی لغزش بھی انھیں آف لوڈ کر سکتی ہے۔

ابھی حال ہی میں ایک نوجوان کی ویڈیو خاص وائرل ہو رہی تھی جسے خلیجی ریاست جانے کے لیے ریجیکٹ کر دیا گیا تھا۔ ایئرپورٹ پر کھڑے اس نوجوان کا کہنا تھا کہ اس نے بھاری رقم دے کر ویزا خریدا تھا جو اس کے لیے اب نقصان کا باعث ہوگا۔

کیا عام لوگوں کی بھی سخت چیکنگ کی جاتی ہے۔ ’’بھئی! تقریباً دس بارہ سال پہلے ہمیں ایک خلیجی ریاست جانا تھا۔ بات مجبوری کی تھی میرا کیس اپنے شوہر سے چل رہا تھا اور وہاں مجھے کورٹ میں پیش ہونا تھا، یہ آسان نہیں تھا، لیکن ہمارے کراچی کے ایئرپورٹ پر اس قدر عجیب سوالات پوچھے جا رہے تھے کہ نہ پوچھیے۔

بھئی! ایک فیملی میٹر ہے تو ظاہر ہے اس کی شدت ایسی ہوگی کہ مجھے قانونی چارہ جوئی کرنا پڑ گئی۔ یہاں تک کہ میری ساس نے مجھے تشدد اور جان تک سے مارنے کی کوشش کی۔

اب یہ بتائیں کہ ہم نے اتنا پیسہ دے کر وزٹ ویزا لیا اور سب تیاری کرکے تاریخ سے پہلے وہاں پہنچنا تھا۔ پر ایئرپورٹ پر ایسے سوالات کہ بھائی کیوں، کیسے، کب۔ اب میں پہلے ایک ایک تفصیل ساس، شوہر اور دیور کی باتیں انھیں گوش گزار کروں پھر آگے جا کر جج نے تو جو فیصلہ کرنا ہے وہ کرنا ہے لیکن پہلے یہاں ہمارے یہاں جو قدم قدم پر فیصلے کرنے والے تھے اس سے میں بڑی دل برداشتہ ہوئی۔

ایک جینوئن بات ہے کوئی ہم وہاں کمانے یا رکنے نہیں جا رہے۔ میں تو وہیں رہتی تھی اور اوپر والے نے میری ماں کی دعاؤں سے مجھے واپس پاکستان بھیجا، پھر اوپر والے کی کرم نوازی سے میں نے ظلم کے خلاف آواز اٹھائی۔

میرا خیال ہے کہ جو لوگ غیر قانونی طریقوں سے جاتے ہیں، اس کے پیچھے جو ریزن ہے اس پر غور کریں اور سوچیں کہ جو نوجوان واقعی کمائی کے لیے جاتے ہیں ،ان کے لیے کوئی ایسا سسٹم کریں کہ وہ مہینہ بھر پہلے اپنے کاغذات جمع کروائیں تاکہ ان کی فل چیکنگ ہو، کاغذات کلیئر ہوں اور نوجوان محفوظ رہیں تاکہ ان کو عین وقت پر آف لوڈ نہ کیا جائے۔ یہ زیادتی ہے اور اس طرح ہمارے نوجوان ڈنکی اختیار کرتے ہیں جو قطعی محفوظ نہیں۔

ہمارے نوجوان فرسٹریشن کا شکار ہیں وہ کام کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کی اہلیت کے مطابق روزگار دستیاب نہیں، بے روزگاری مسائل کو جنم دیتی ہے، ہمیں مل جل کر ان قوم کے معماروں کے لیے ایک محفوظ راستہ چننا ہے۔

ہمارے پڑوسی ملک بھارت نے ترقی کی راہ کا سفر ایسے ہی بیرون ملک شہریوں کی بدولت حاصل کیا تھا۔ آج خلیجی ممالک سے لے کر یورپی ممالک تک بھارتیوں کی تعداد دیکھیں، ان کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ان کے لیے کس قدر آسانیاں پیدا کی گئی تھیں کہ وہ باآسانی روزگار کمائیں اور اپنے ملک کو زر مبادلہ بھیجیں۔ تو ہم کیوں نہیں؟ ابھی دنیا جنگ سے نبرد آزما ہے پر آگے راستہ صاف نظر آ رہا ہے۔ ہمیں اس راستے کی جانب دیکھنا ہی ہوگا۔

Source: https://www.express.pk/story/2813387/dinki-travelers-on-dangerous-routes-2813387/

Discussion

Sign in to join the thread, react, and share images.