Native World News

پاکستان جنگ کی قیمت کو اچھی طرح جانتا ہے، بلاول بھٹو

پاکستان جنگ کی قیمت کو اچھی طرح جانتا ہے، بلاول بھٹو

مہاجرین نشستوں کا فیصلہ گن پوائنٹ یا دھمکیوں کے ذریعے نہیں کیا جا سکتا، مہاجرین کی نشستیں بڑا تنازع بنا ہوا ہے

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان جنگ کی قیمت کو اچھی طرح جانتا ہے، گزشتہ الیکشن میں جنرل (ر) فیض کے دور میں مہاجرین کی نشستیں لیکر آزاد کشمیر میں پی ٹی آئی حکومت بنائی گئی۔

بلاول بھٹو نے بجٹ بحث پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ  آج پوری دنیا کیلئے امید کی ایک نئی کرن پیدا ہوئی ہے، ایران امریکہ معاہدہ اس بات کا ثبوت ہے امن جنگ سے بہتر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں صدر آصف علی زرداری، فیلڈ مارشل اور وزیر اعظم کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، پاکستان جنگ کی قیمت کو اچھی طرح جانتا ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ خطہ ابھی مکمل طور پر پرامن نہیں ہوا اور بھارت کی جانب سے “سندور ٹو” جیسے بیانات اور دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بیرونی قوتیں خطے میں دہشت گردی کی سرپرستی کر رہی ہیں جس کے باعث سیکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو رہی ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے دفاعی ذمہ داریاں مشترکہ طور پر اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے جو آئین کے دائرے میں رہ کر کیا گیا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ بجٹ کے دوران میڈیا پر اٹھارویں ترمیم کے خاتمے اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے حوالے سے غیر مصدقہ افواہیں پھیلائی گئیں، جن میں کوئی صداقت نہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ وزیراعظم، نائب وزیراعظم اور وزیر خزانہ کے شکر گزار ہیں کہ سیاسی اتفاق رائے سے جمہوری حل نکالا گیا۔

بلاول بھٹو زرداری کے مطابق حکومت کے ساتھ طے پایا ہے کہ قومی دفاع کے لیے سب اپنا حصہ ڈالیں گے جبکہ وفاقی حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ این ایف سی ایوارڈ کو محفوظ رکھا جائے گا اور آئندہ دو سے تین سال کی عبوری حکمت عملی کے بعد صوبوں سے مزید مالی مطالبات نہیں کیے جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ قوموں کی اصل طاقت ہتھیار نہیں بلکہ قومی یکجہتی ہوتی ہے، اور خوش آئند بات ہے کہ پاکستان نے اس موقع پر قومی یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اسی جذبے کے ساتھ آگے بڑھا جائے تو ملک کے بیشتر مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں یہ تاثر غلط ہے کہ صوبوں کے پاس زیادہ وسائل اور وفاق کے پاس کم ہیں، حقیقت میں دونوں سطحوں پر مالی دباؤ موجود ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم ایک بڑی کامیابی ہے لیکن اس کے باوجود بعض صوبوں کو ان کا مکمل مالی شیئر نہیں مل سکا۔

انہوں نے پیٹرولیم لیوی کے معاملے پر کہا کہ یہ وفاق کے پاس رہتی ہے اور صوبوں کو اس میں حصہ نہیں دیا جاتا۔ اسی طرح آئی ایم ایف پروگرام کے دوران ہر سال صوبوں سے سرپلس بجٹ دکھانے کا کہا جاتا ہے، جس کے تحت پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں سرپلس دکھایا جاتا رہا ہے۔

انہوں نے سابق فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں کے وعدے ابھی تک مکمل نہیں کیے گئے، جبکہ بعض ٹیکس مراعات بھی ختم کی جا رہی ہیں۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بعض ممالک پاکستان کے خلاف منفی عزائم رکھتے ہیں لیکن قومی دفاع کے لیے تمام صوبے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں، اور بعض صوبائی حکومتوں نے بھی وفاقی مالی تعاون میں حصہ ڈالا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی سے قبل بھارتی وزیراعظم نریندر مودی تل ابیب میں موجود تھے، اور جب ایران پر حملہ ہوا تو بعض تنظیمیں اس اقدام کو خوش آمدید کہہ رہی تھیں۔ ان کے مطابق بلوچستان میں بھی کچھ ایسی سرگرمیاں اور گروہ موجود رہے ہیں جن کے بارے میں خدشات پائے جاتے ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آزاد کشمیر کے معاملے پر کوئی دو رائے نہیں ہونی چاہئیں، اور اگر کوئی قانون کو ہاتھ میں لے تو اس کے خلاف کارروائی ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو بھی ریاست اور اداروں کے خلاف سازش کرے گا اسے روکا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران اور امریکہ کے معاہدے کے بعد بھارت اور اسرائیل پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوششیں تیز کر سکتے ہیں، اور کشمیر کے کاز کو کمزور کرنے کی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے واضح کیا کہ ان کی جماعت کبھی کشمیر کاز کو نقصان نہیں پہنچنے دے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ بعض عناصر احتجاج کو طول دے رہے ہیں، تاہم اب وقت آ گیا ہے کہ یہ سلسلہ ختم کیا جائے۔ ان کے مطابق جن لوگوں کے ساتھ معاملات طے پا گئے ہیں وہ اب مزید مطالبات کے لیے انتخابات کے ذریعے راستہ اختیار کریں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کے دروازے کھلے رکھے ہیں، مگر اب ضروری ہے کہ احتجاج کرنے والے پرامن طور پر واپس جائیں اور جنہوں نے قانون ہاتھ میں لیا ہے انہیں پولیس کے حوالے کیا جائے۔ بلاول بھٹو زرداری کے مطابق اگر پرامن طریقے سے احتجاج ختم کیا جاتا ہے تو پابندیوں کے نوٹیفکیشن پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ احتجاج غیر مشروط طور پر ختم ہونا چاہیے۔ مہاجرین کی نشستوں کے معاملے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ایک بڑا تنازعہ ہے، تاہم کسی کو زبردستی یا دباؤ کے ذریعے آئینی فیصلے تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان یا کسی بھی صوبے کی نشستوں کے فیصلے متعلقہ آئینی اور انتخابی فورمز پر ہی ہونے چاہئیں، اور کشمیر کی نشستوں کا فیصلہ بھی کشمیری عوام خود کریں گے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مہاجرین نشستوں کا فیصلہ گن پوائنٹ یا دھمکیوں کے ذریعے نہیں کیا جا سکتا، اور نہ ہی احتجاج یا دھرنوں کے ذریعے آئین کو تبدیل کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے، مہاجرین کی نشستیں بڑا تنازعہ بنا ہوا ہے، پی ٹی آئی کی حکومت آزاد کشمیر میں مہاجرین کی نشستیں لیکر جنرل فیض نے بنوائی۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اگر بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی پاکستان کا پانی روکنے کی کوشش کریں گے تو پاکستان اس کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ پاکستان کسی بھی جارحیت کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور قومی دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کشمیر کے حوالے سے کہا کہ اس مسئلے کا فیصلہ صرف کشمیری عوام کو ہی کرنا چاہیے اور بندوق کے زور پر نہ تو نشستیں ختم کی جا سکتی ہیں اور نہ ہی عوام کے حقوق سلب کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے احتجاج کرنے والوں پر زور دیا کہ وہ کشمیر کاز اور اس کی شناخت کو نقصان نہ پہنچائیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ آزاد کشمیر کو ایک آزاد خطہ دیکھنا چاہتے ہیں نہ کہ مقبوضہ، اور گلگت بلتستان کی طرز پر وہاں کے عوام کو بھی حقوق ملنے چاہئیں۔ ان کے مطابق مظفرآباد کے نمائندے کو قومی سطح پر مؤثر نمائندگی ملنی چاہیے اور عبوری طور پر انہیں مناسب سیاسی حیثیت دی جا سکتی ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی رائے ہے کہ مہاجرین نشستوں کے معاملے کو اس طرح حل کیا جائے کہ ہر جماعت کو اس کی انتخابی نشستوں کے تناسب سے نمائندگی دی جائے تاکہ کسی کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں مسلسل احتجاج خطے کے استحکام کے لیے نقصان دہ ہے اور مسائل کا حل سیاسی مکالمے کے ذریعے نکالنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت آئندہ انتخابات میں بھرپور حصہ لے گی اور عوام کے اعتماد سے حکومت بنائے گی۔

بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ کشمیر کے مسئلے کا حل رائے شماری کے ذریعے ہی ممکن ہے اور اس وقت تک کشمیری عوام کی آواز کو ہر سطح پر اجاگر کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کسی بھی بھارتی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دے گا اور قومی یکجہتی کے ساتھ ہر چیلنج کا مقابلہ کیا جائے گا۔

Source: https://www.express.pk/story/2818102/pakistan-knows-the-cost-of-war-well-bilawal-bhutto-2818102/

Discussion

Sign in to join the thread, react, and share images.