Native World News

نیشنل آرکائیوز پاکستان

نیشنل آرکائیوز پاکستان

نادر دستاویزات کو محفوظ رکھنے کا سب سے بڑا ادارہ

گذشتہ سال مئی میں ایک ادبی دوست محترمہ سمیرا مقبول کے ساتھ نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کے دورے کا موقع ملا جو خود وہاں کی باقاعدہ طالبہ ہیں۔

اس بار بھی ہمیشہ کی طرح میری آمد پر اسلام آباد میں بادل برس رہے تھے۔

محترمہ راولپنڈی کے ایک اسکول میں معلمہ کے فرائض انجام دینے کے ساتھ ساتھ جامعہ گجرات سے ہنزہ پر پی ایچ ڈی کر رہی ہیں جو جلد مکمل ہونے والی ہے۔ ان کا پی ایچ ڈی کا موضوع

Hunza State Under the Mirs:

A Political and Administrative History  بھی بہت منفرد ہے اور امید ہے ان کا مقالہ بھی بہترین ہوگا۔

محترمہ سمیرا مقبول نے وہاں مجھے ایک اور نابغئہ روزگار شخصیت سے ملوایا ، ڈاکٹر محمد مظہر سعید صاحب، ڈائریکٹر آف نیشنل آرکائیوز آف پاکستان جنہوں نے ہمیں آرکائیوز کے مختلف حصوں کا تفصیلی دورہ کروایا اور ان سیکشنز کی بابت اہم معلومات فراہم کیں۔

چائے پر میں نے ان کے کتب خانے کے لیے اپنی دونوں کتابیں شاہ نامہ اور حیرت سرائے پیش کیں۔

اسلام آباد کے کانسٹیٹیوشن ایونیو میں واقع ’’نیشنل آرکائیوز آف پاکستان‘‘ ریاست پاکستان کا وہ قومی ادارہ ہے جو ملک کی تاریخی، سرکاری اور نجی دستاویزات، مخطوطات، تصاویر، اخباری ریکارڈ، آڈیو ویڑول مواد اور دیگر اہم تاریخی ریکارڈ کو محفوظ رکھنے کا کام کرتا ہے۔

اس ادارے کا بنیادی مقصد قومی ورثے کو آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ کرنا اور محققین، طلبہ اور عام شہریوں کو تاریخی معلومات تک رسائی فراہم کرنا ہے۔

تقریباً ایک لاکھ پچاس ہزار مربع فٹ پر پھیلی اس کی سفید عمارت انتظامی بلاک، ریڈنگ رومز اور خصوصی ذخیرہ خانوں پر مشتمل ہے جہاں ریکارڈ کو محفوظ رکھا جاتا ہے۔ نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کا قیام 8 دسمبر 1973ء کو عمل میں آیا۔ یہ ادارہ وفاقی حکومت کے تحت کام کرتا ہے اور اس کا مرکزی دفتر اسلام آباد میں واقع ہے۔ بعد ازآں 1993ء میں ’’نیشنل آرکائیوز ایکٹ‘‘ نافذ کیا گیا جس کے ذریعے تاریخی ریکارڈ کے تحفظ اور عوامی رسائی کے اصول وضع کیے گئے۔

ادارے کے مقاصد میں قومی تاریخ اور ثقافتی ورثے سے متعلق دستاویزات کا تحفظ، سرکاری ریکارڈ کی حفاظت، نایاب مخطوطات اور تاریخی کتب کی نگہداشت، محققین اور طلبہ کو تحقیقی سہولیات کی فراہمی شامل ہیں۔

اس ادارے میں مختف شعبے ہیں جن میں کتب خانہ، دفاتر، فوٹو آرکائیوز سیکشن، اخباروں کا سیکشن، ویڈیو آرکائیوز ڈیٹا سیکشن، اہم تاریخی دستاویزات کا سیکشن، قائداعظم پیپرز، کانفرنس روم، علامہ اقبال تصاویر گیلری اور آرکائیوز کو محفوظ رکھنے کے لیے سائنسی لیبارٹری شامل ہیں۔

آرکائیوز کے ذخیرے میں پاکستان کی وفاقی حکومت کے تاریخی ریکارڈ اور سرکاری فائلیں، تصاویر، نایاب کتابیں، مخطوطات، فلمیں اور آڈیو ریکارڈنگز شامل ہیں۔ تحریک پاکستان اور قیامِ پاکستان سے متعلق دستاویزات بھی یہاں دیکھی جاسکتی ہیں۔ قائد اعظم محمد علی جناح کے ذاتی کاغذات، خطوط، تقاریر اور سیاسی ریکارڈ سمیت محترمہ فاطمہ جناح کے خطوط اور دستاویزات بھی یہاں رکھے گئے ہیں۔ علامہ محمد اقبال کی تصاویر، ان سے متعلق کاغذات اور دیگر اہم شخصیات کے نجی مجموعے بھی آرکائیوز کے ذخیرے میں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بہت سے اخبارات، رسائل، ریڈیو پاکستان کے ریکارڈ اور میڈیا رپورٹس کا ذخیرہ، سرکاری گزٹ، گزٹیئرز اور اسمبلی کے مباحث مائیکرو فلم شدہ تاریخی اخبارات اور دستاویزات یہاں موجود ہیں۔

مزید یہ کہ نیشنل آرکائیوز میں تقریباً 19,000 سے زائد کتابوں پر مشتمل ایک تحقیقی لائبریری بھی موجود ہے، جس کا بڑا حصہ برصغیر اور پاکستان کی تاریخ سے متعلق ہے۔

اگر آپ کسی خاص موضوع مثلاً قیامِ پاکستان، قائداعظم کے خطوط، پرانے اخبارات، اہم اسمبلی سیشن یا خاندانی/علاقائی تاریخ کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں تو یہاں کی رکنیت لے کر اس کے اسٹاف سے مطلوبہ دستاویزات تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔

مختصراً، نیشنل آرکائیوز آف پاکستان ملک کی اجتماعی یادداشت کا محافظ ہے۔ یہاں محفوظ دستاویزات پاکستان کی سیاسی سماجی، ثقافتی اور تاریخی داستان کو زندہ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

پرانی دستاویزات کو کیسے محفوظ رکھا جاتا ہے؟

نیشنل آرکائیوز میں ایک سائنس لیبارٹری بھی ہے جہاں پرانی دستاویزات کی حفاظت کے لیے بہت سے جدید طریقے استعمال کیے جاتے ہیں۔

دستاویزات کو درجۂ حرارت اور نمی کے کنٹرول والے کمروں میں رکھا جاتا ہے تاکہ کاغذ خراب نہ ہو اور دستاویزات محفوظ رہیں۔ اگر کوئی دستاویز پھٹ جائے، دھندلی ہوجائے یا کیڑوں سے متاثر ہو تو ماہرین اس کی سائنسی بنیادوں پر مرمت کرتے ہیں۔ پرانی دستاویزات کی پی ایچ ٹیسٹنگ بھی کی جاتی ہے۔ یہ ایک ایسا تحفظ کا عمل ہے جسے تاریخی کاغذ کی تیزابیت یا کھارے پن کی پیمائش کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ آرکائیوسٹ اور کنزرویٹرز اس ٹیسٹ کو استعمال کرتے ہیں کیوںکہ تیزابی کاغذ تیزی سے خراب ہوتا ہے، سو اس کے تحفظ کے لیے پی ایچ کا تعین بہت ضروری ہے۔

اِنک فِکسنگ یا سیاہی کی درستی قدیم دستاویزات کے انتظام میں ایک اہم عمل ہے خصوصاً جب کاغذ پرانا ہو اور سیاہی مٹ چکی ہو۔ اس عمل میں تاریخی نمونوں پر کم زور سیاہی کو محفوظ کرنے سمیت دھوئیں کو روکنے کے لیے جدید ڈیجیٹل سیاہی کو کیمیائی طور پر فکس کرنا اور لیزر ٹونر کو کاغذ پر فزیکل فیوز کرنا شامل ہے۔

ساتھ ہی اہم دستاویزات کی مائیکرو فلم تیار کی جاتی ہے تاکہ اصل دستاویز کے ضائع ہونے کی صورت میں اس کا ریکارڈ محفوظ رہے۔ یہ ایک منفرد اور بہترین طریقہ ہے۔

تاریخی ریکارڈ کو اسکین کرکے ڈیجیٹل شکل میں محفوظ کیا جاتا ہے، جس سے اصل دستاویز کو بار بار ہاتھ لگانے کی ضرورت کم ہوجاتی ہے اور یہ دوردراز بیٹھے لوگوں کو بھی دست یاب ہوتا ہے۔ آج جب ہر ادارے کا ریکارڈ مکمل طور پر ڈیجیٹل ہوجانا چاہیے تھا وہیں ہمارے کئی ادارے آہستہ آہستہ اس طرف جا رہے ہیں۔

نایاب مخطوطات، تصاویر اور سرکاری فائلوں کو تیز روشنی، گردوغبار اور نمی سے محفوظ خصوصی الماریوں اور بکسوں میں رکھا جاتا ہے، جہاں ہم جیسے محقق ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اخباروں کو الگ سے خاص فائلوں میں رکھ کے الماریوں میں رکھ دیا جاتا ہے۔

یہ تو تھا اس ادارے کا بنیادی تعارف، یہاں رکھے گئے نوادرات اور انہیں محفوظ رکھنے کا طریقہ کار۔ آپ میں سے کوئی بھی دفتری اوقات میں اس ادارے کا دورہ کرنے جا سکتا ہے۔ یاد رہے کہ بنیادی معلومات تک رسائی کا حق سب کو حاصل ہے جس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

Source: https://www.express.pk/story/2818981/national-archives-pakistan-2818981

Discussion

Sign in to join the thread, react, and share images.