Native World News

فنانس بل پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان لفظی گولہ باری

فنانس بل پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان لفظی گولہ باری

خواجہ آصف نے آئی پی پیز معاہدوں اور حکومتی مؤقف پیش کیا، بیرسٹر گوہر نے بجٹ کو کاروبار دشمن قرار دے دیا

قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں فنانس بل پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا، خواجہ آصف نے آئی پی پیز معاہدوں اور بجلی کے شعبے میں اصلاحات پر حکومتی مؤقف پیش کیا جبکہ بیرسٹر گوہر نے بجٹ کو سرمایہ کاری اور کاروبار دشمن قرار دیا۔ دوسری جانب اسپیکر ایاز صادق نے آئین شکنی کے الزامات کا جواب دیا جبکہ اپوزیشن کے بعض ارکان ایوان سے واک آؤٹ بھی کر گئے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق قومی اسمبلی اجلاس میں بجٹ کی منظوری کے دوران ارکان نے ایک دوسرے پر لفظی گولہ باری کی۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے 3500 ارب روپے کے آئی پی پیز بوجھ میں کمی کی ہے اور پاور پلانٹس کی لائف میں بھی کمی لائی جا رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدے گزشتہ 35 برس کے دوران مختلف حکومتوں نے کیے، اس لیے اس معاملے کی ذمہ داری سب پر عائد ہوتی ہے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ اگر یہ گناہ ہے تو تمام حکومتیں اس میں شریک رہی ہیں، اس لیے دوسروں پر تنقید کرنے سے پہلے اپنے کردار کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت کپیسٹی پیمنٹس میں مزید کمی کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے فنانس بل پر بحث کرتے ہوئے حکومت کی معاشی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ بجٹ میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے کوئی مؤثر اقدامات شامل نہیں کیے گئے۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ امیر طبقے کو ٹیکس میں ریلیف دیا جا رہا ہے جبکہ غریب عوام کو مزید ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ فنانس بل ملک میں باقی ماندہ کاروباری سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کو بھی متاثر کرے گا۔

اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے آئین شکنی کے الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہیں بتایا جائے کہ انہوں نے کون سا آئین توڑا ہے؟ اسپیکر کا کہنا تھا کہ اگر کوئی پاکستان کے مقابلے میں افغانستان کا ساتھ دینے کی بات کرے گا تو اسے ایوان میں ایسا نہیں کرنے دیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ فوج اور عدلیہ کے خلاف غیر ضروری گفتگو کی بھی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ایاز صادق نے کہا کہ اگر آئین پر عملدرآمد کو آئین شکنی قرار دیا جاتا ہے تو وہ یہ کام بار بار کریں گے۔

قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ ارکان اور ان کی اتحادی جماعتوں نے ایوان سے واک آؤٹ کیا، جبکہ جمعیت علمائے اسلام کے ارکان ایوان میں موجود رہے۔ اپوزیشن کی جانب سے فنانس بل پر ترامیم پیش نہ کیے جانے پر اسپیکر نے متعدد ارکان کے نام بھی پکارے۔ جے یو آئی کی رکن عالیہ کامران نے چند ترامیم پیش کیں جبکہ ایوان میں بجٹ پر بحث کا سلسلہ جاری رہا۔

Source: https://www.express.pk/story/2818936/verbal-exchange-between-government-and-opposition-over-finance-bill-2818936/

Discussion

Sign in to join the thread, react, and share images.