Native World News

امریکی زوال پذیری بمقابلہ چینی طاقت

امریکی زوال پذیری بمقابلہ چینی طاقت

امریکا چین کے سامنے اپنی سیاسی و عالمی پوزیشن کو کمزور کرتا ہوا دکھائی دیا

سرد جنگ کے خاتمے کے بعد عالمی طور سے خود کو ’’عظیم عالمی قوت ‘‘سمجھنے والے ملک امریکا کی عالمی عظمت کا غرور ٹوٹتا ہوا دکھائی دے رہا ہے، دوران مذاکرات ایران پر امریکا اور اسرائیلی جارحیت نے جہاں امریکا کی عالمی حیثیت کو کمزور کیا، وہیں امریکا عالمی طور سے جنگی حکمت عملی اور امریکی اڈے رکھنے والے خلیجی ممالک کے دفاع میں بھی کوئی موثر کردار دنیا کے سامنے پیش نہ کر سکا۔

امریکا اسرائیل کی ایران اور خلیج میں مسلط کردہ اس جنگی صورتحال نے ’’آبنائے ہرمز‘‘ کی بندش اور امریکا کی جانب سے بحری ناکہ بندی نے عالمی طور سے دنیا کی اقتصادیات کو شدید نقصان پہنچایا جس سے یورپ و امریکا سمیت دنیا کے دیگر خطے اور ممالک بھی متاثر ہوئے اور ہنوز امریکا اور اسرائیلی جارحیت کے پیش نظر دنیا کا عام فرد مہنگائی اور شدید مالی بحران کا شکار ہے ۔

اس عالمی اقتصادی بحران نے امریکا کی عالمی حیثیت و عظمت پر سوالیہ نشان لگا دیئے ہیں، جو کسی بھی طرح اب تک صدر ٹرمپ کو امریکی عوام کی ناراضگی سے نہیں بچا سکے ہیں۔

یاد رہے کہ ایران پر جنگ مسلط کرنے کے ضمن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنا چین کا دورہ بھی منسوخ کیا تھا۔ ایران پر امریکا اور اسرائیل کی جارحیت کے نتیجے میں خراب عالمی اقتصادی صورتحال کے بعد صدر ٹرمپ کا دورہ چین کیوں اور کن مقاصد کے تحت کیا گیا ؟

یہ آج کی دنیا کا اہم سوال بھی ہے اور اس کے ساتھ جنگی ہزیمت اٹھانے اور اس کے نتیجے میں امریکی صدر کے چین کا موجودہ دورہ امریکا کو عالمی طور سے کس مقام پر لے آیا ہے ؟

یہ ازخود آج کی عالمی سیاست کا اہم نکتہ بن چکا ہے۔ اس حقیقت سے کیسے انکار کیا جا سکتا ہے کہ ایران پر امریکی و اسرائیلی جارحیت اور جنگ مسلط کرنے کے ضمن میں یورپ اور امریکا کے اکثر ممالک پہلے کی طرح صدر ٹرمپ یا امریکا کا ساتھ دینے سے دور رہے۔

یورپ اور امریکا کے دیگر اتحادیوں کی خلیج و فارس کی اس جنگ سے علیحدگی کی بہت سی سیاسی و اقتصادی وجوہات ہو سکتی ہیں،مگر ایک سادہ سی وجہ یہ ضرورنظر آتی ہے کہ امریکا کے ایران پرحملے کو امریکی اتحادیوں نے عالمی تناظر کے بجائے امریکا کے ذاتی مفادات کی جنگ کے طور پر دیکھا اور اس جنگ کو مشترکہ مفادات کی جنگ سے الگ کرکے صرف امریکی مفادات میں جانچا۔

محض یہی وہ سادہ اور اپنے عوام کی مرضی کے خلاف وجہ رہی جس کے تناظر میں امریکی اتحادی اور نیٹو کے ممالک اس خلیج و فارس کی جنگ میں نہیں کودے، جس کے سبب ایران پر مسلط کی گئی جنگ میں نہ صرف امریکا اور اسرائیل کو تنہا کر دیا بلکہ امریکا کی عالمی عظمت پر بھی ڈینٹ لگایا۔

امریکی صدر ٹرمپ کا چین کا یہ دورہ عالمی تناظر میں ایک ایسے وقت میں کیا گیا جب امریکا کی عالمی ساکھ اور حیثیت کسی قدر کمزور پڑ چکی تھی،سوال یہ ہے کہ صدر ٹرمپ نے یہ منسوخ شدہ دورہ اس نازک وقت میں کیوں کیا؟ اور صدر ٹرمپ اس دورے سے کیا حاصل کر سکے؟

امریکی حکام کی جانب سے بظاہر یہ دورہ منسوخ کیے جانے والے دورے کے تسلسل کے طور پر دکھایا گیا ہے جب کہ امریکی حکام کے اس تاثر کو دنیا تسلیم کرنے کے لیے تیار نظر نہیں آتی،دوسری جانب صدر ٹرمپ کے چینی دورے کی اہم وجہ معاشی اور اسٹرٹیجک سمجھوتے کرنے کی بتائی گئی،جب کہ تیسری وجہ خطے کی جنگی صورتحال کے بارے میں دو ممالک کی بات چیت اور اس کے اثرات کی بتائی گئی۔

بلاشبہ امریکی صدر ٹرمپ کے چین میں دورے کے موقع پرچین ایک اچھے میزبان کے طور پر نظر آیا،مگر دوسری جانب دو روزہ دورے کے مندرجات پر غور کیا جائے تو امریکی صدر ٹرمپ چین کے اس دورے میں نہ ہی ایرانی قیادت کی جانب سے ایران کے خلاف کوئی باضابطہ اعلان کرا سکے اور نہ ہی آبنائے ہرمز پر چینی قیادت واضح طور پر امریکی بیانیے کو آگے بڑھاتی ہوئی نظر آئی۔

سوائے اس کے کہ امریکی اقتصادی صورتحال کو بہتر کرنے کی غرض سے چین سے معاشی سرمایہ کاری کے پانچ سو میں سے دو سو جہازوں کی یادداشت یا امریکی گوشت کی چین کو بہتر رسائی کے معاہدے پر دستخط کروا سکی جب کہ چین کے صدر شی جن پنگ نے تائیوان کے بارے میں واضح اور دو ٹوک موقف رکھتے ہوئے صدر ٹرمپ کو انتباہ کیا کہ ’’امریکا تائیوان کے بارے میں اپنی دفاعی حکمت عملی پر غور کرے، وگرنہ تائیوان کا معاملہ امریکا اور چین کی جنگ کا سبب بھی بن سکتا ہے۔‘‘

چینی صدر شی جن کے تائیوان پر واضح موقف کے جواب میں امریکی وزیر خارجہ کا یہ کہنا بہت کمزور لگا کہ ’’امریکا اور چین آبنائے ہرمز‘‘کھولنے پر ایک پیج پر ہیں۔‘‘یہاں یہ واضح رہے کہ چین کی جانب سے آبنائے ہرمز کے بارے میں اب تک پالیسی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے،اسی کے ساتھ جب صحافیوں نے گریٹ ہال کی تقریب کے بعد صدر ٹرمپ سے تائیوان کے بارے میں مسلسل سوالات کیے تو امریکی صدر ٹرمپ نے تائیوان کے بارے میں امریکی موقف دینے سے کم از کم چین میں پرہیز کیا،ہاں مگر بادل نخواستہ صدر ٹرمپ چینی قیادت کی تعریف ضرور کرتے رہے۔

صدر ٹرمپ کے چین کے اس دورے میں چین اپنی سیاسی و معاشی پوزیشن رکھنے میں یکسو نظر آیا جب کہ امریکا چین کے سامنے اپنی سیاسی و عالمی پوزیشن کو کمزور کرتا ہوا دکھائی دیا ۔ صدر ٹرمپ کے چینی دورے کے بارے میں ہمارے برطانیہ میں مقیم دوست ثقلین امام اور حیدرآباد سندھ کے دوست آفتاب چانڈیو کے تجزیے امریکا اور چین کے مابین تعلقات کو سمجھنے کے لیے بہت دلچسپ ہیں۔

ثقلین امام کے نزدیک قدیم یونان کی’’ تھیوسی ڈائٹی ٹریپ‘‘ کے نکتہ نظر کے تحت ایک عالمی قوت کے مقابلے میں مد مقابل ابھرتی ہوئی قوت کمزور پڑنے والی عالمی قوت کو احساس دلاتی ہے کہ اب اس کی عالمی طور پر سیاسی و معاشی گرفت کمزور پڑ چکی ہے ،لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ کمزور عالمی قوت ابھرتی ہوئی عالمی قوت کے اہداف و مقاصد کا خیال رکھے وگرنہ وہ کسی بھی جنگ کے لیے تیار رہے۔‘‘

اسی طرح آفتاب چانڈیو کا خیال ہے کہ ’’ڈونلڈ ٹرمپ کا حالیہ دورہ چین محض ایک سفارتی ملاقات یا روایتی مذاکرات کا حصہ نہیں،بلکہ اس کو موجودہ عالمی نظام کے اندر بڑھتے ہوئے معاشی،سیاسی،تکنیکی اور فوجی تضادات کے پس منظر میں سمجھنا چاہیے،حقیقت میں دراصل یہ تصادم دنیا کی دو بڑی معاشی اور سیاسی قوتوں کے درمیان عالمی بالادستی،ٹیکنالوجی کی قیادت،سپلائی چینز،مالی طاقت اور اسٹرٹیجک اثر و رسوخ کی کشمکش کا اظہار ہے۔

یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ ٹرمپ کا یہ دورہ کسی مستقل امن یا حتمی تجارتی حل کی ضمانت نہیں ہے بلکہ ٹرمپ کا یہ دورہ امریکی معاشی دباؤ کم کرنے اور عالمی بحران کو قابو میں لانے کی ایک کوشش ہے ،دیکھنا یہ ہے کہ صدرٹرمپ کا یہ چینی دورہ زوال پذیر امریکی بالادستی اور ابھرتی ہوئی چینی طاقت کے درمیان کشمکش کو کم کرتا ہے یا بڑھاتا ہے ؟اس عالمی سوال پر ہی عالمی سیاست اور معیشت کا دارومدار ہوگا،جس پر غور و فکر آج کی دانش کی ضرورت ہے۔

Source: https://www.express.pk/story/2813396/american-decline-vs-chinese-power-2813396/

Discussion

Sign in to join the thread, react, and share images.