Native World News

بغیر جاب آفر بیرون ملک جانے کا راستہ، پاکستانیوں کیلیے اہم تفصیلات

بغیر جاب آفر بیرون ملک جانے کا راستہ، پاکستانیوں کیلیے اہم تفصیلات

اعلیٰ تعلیم یافتہ پاکستانیوں کے لیے یورپ میں روزگار اور کاروبار کے مواقع تلاش کرنے کا ایک نیا راستہ سامنے آیا ہے

اعلیٰ تعلیم یافتہ پاکستانیوں کے لیے یورپ میں روزگار اور کاروبار کے مواقع تلاش کرنے کا ایک نیا راستہ سامنے آیا ہے۔

سویڈن کی حکومت غیر یورپی یونین ممالک کے باصلاحیت اور اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کے لیے خصوصی رہائشی اجازت نامہ (ہائی ٹیلنٹ ویزا) فراہم کر رہی ہے، جس کے تحت امیدوار سویڈن جا کر ملازمت تلاش کر سکتے ہیں یا اپنے کاروبار کے امکانات کا جائزہ لے سکتے ہیں۔

اس پروگرام کا مقصد ایسے افراد کو موقع فراہم کرنا ہے جو اپنی تعلیمی قابلیت اور پیشہ ورانہ مہارتوں کی بنیاد پر سویڈن کی لیبر مارکیٹ میں جگہ بنانا چاہتے ہیں۔

اس اجازت نامے کے تحت امیدوار زیادہ سے زیادہ 9 ماہ تک سویڈن میں قیام کر سکتے ہیں، تاہم اجازت نامے کی مدت پاسپورٹ کی باقی ماندہ مدت سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔ اس ویزا کے لیے درخواست جمع کرواتے وقت امیدوار کا سویڈن سے باہر ہونا ضروری ہے۔

سویڈش حکام کے مطابق اس پروگرام کے لیے درخواست دینے والے افراد کے پاس کم از کم ایسی اعلیٰ تعلیمی قابلیت ہونی چاہیے جو سویڈن کے سیکنڈ سائیکل (Second Cycle) تعلیمی معیار کے مساوی ہو۔

اس میں 60 یا 120 کریڈٹ ماسٹر ڈگری، پروفیشنل ڈگری، ایم فل، پی ایچ ڈی یا اس کے مساوی پوسٹ گریجویٹ ڈگری شامل ہیں۔ اگر پاکستانی تعلیمی اسناد مطلوبہ معیار پر پورا اترتی ہوں تو انہیں بھی قابل قبول سمجھا جا سکتا ہے۔

اس ویزا کے حصول کے لیے صرف تعلیمی قابلیت ہی کافی نہیں۔ امیدوار کو یہ بھی ثابت کرنا ہوگا کہ وہ سویڈن میں قیام کے دوران اپنے اخراجات خود برداشت کرنے کی مالی استطاعت رکھتا ہے۔

اس مقصد کے لیے کم از کم 13 ہزار سویڈش کرونا ماہانہ دستیاب ہونے چاہییں، جبکہ 9 ماہ کے ممکنہ قیام کے لیے کم از کم 117 ہزار سویڈش کرونا کے مساوی رقم بینک میں موجود ہونا ضروری ہے۔

اس کے علاوہ واپسی کے سفر کے اخراجات کے لیے بھی اضافی مالی وسائل درکار ہوں گے۔

درخواست گزار کے پاس ایسی جامع ہیلتھ انشورنس ہونا بھی لازمی ہے جو پورے قیام کے دوران مؤثر رہے۔ اس انشورنس میں ہنگامی طبی علاج، معمول کا علاج، اسپتال میں داخلے کے اخراجات، ہنگامی دانتوں کے علاج اور طبی بنیادوں پر وطن واپسی جیسے اخراجات شامل ہونے چاہییں۔

سویڈش مائیگریشن ایجنسی کے مطابق اس پروگرام کی درخواست فیس 2,200 سویڈش کرونا مقرر کی گئی ہے۔ مکمل اور درست درخواستوں میں تقریباً 75 فیصد کیسز کا فیصلہ 7 ماہ کے اندر ہو جاتا ہے، جبکہ نامکمل یا اضافی جانچ پڑتال کی متقاضی درخواستوں میں یہ مدت 8 ماہ تک بڑھ سکتی ہے۔

درخواست کے لیے پاسپورٹ کی واضح کاپی، ڈگریاں، تعلیمی اسناد، ٹرانسکرپٹس، بینک اسٹیٹمنٹس، ہیلتھ انشورنس دستاویزات اور سویڈش کونسل فار ہائر ایجوکیشن (UHR) کو تعلیمی اسناد کی تصدیق کی اجازت دینے والا رضامندی فارم جمع کروانا ضروری ہے۔

اگر دستاویزات انگریزی یا سویڈش کے علاوہ کسی اور زبان میں ہوں تو ان کا مصدقہ ترجمہ بھی فراہم کرنا ہوگا۔

درخواست کا عمل مکمل طور پر آن لائن ہے۔ امیدوار سویڈش مائیگریشن ایجنسی کی ویب سائٹ پر درخواست جمع کروا سکتے ہیں، تمام دستاویزات اپ لوڈ کر سکتے ہیں، متعلقہ سفارتخانے یا قونصل خانے کا انتخاب کر سکتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر بائیومیٹرکس بھی جمع کروا سکتے ہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ یہ ویزا فوری ملازمت کی اجازت نہیں دیتا بلکہ ملازمت تلاش کرنے یا کاروباری منصوبہ بندی کے لیے جاری کیا جاتا ہے۔ اگر امیدوار کو سویڈن میں ملازمت مل جائے تو اسے باقاعدہ ورک پرمٹ کے لیے درخواست دینا ہوگی۔

اسی طرح کاروبار شروع کرنے کے خواہشمند افراد کو سیلف ایمپلائیڈ رہائشی اجازت نامے کے لیے الگ درخواست دینا ہوگی۔

ماہرین کے مطابق یہ پروگرام ان پاکستانیوں کے لیے ایک اہم موقع ثابت ہو سکتا ہے جو ماسٹرز، ایم فل یا پی ایچ ڈی جیسی اعلیٰ تعلیم رکھتے ہیں اور بین الاقوامی سطح پر کیریئر یا کاروبار کے امکانات تلاش کرنا چاہتے ہیں۔

تاہم کامیابی کے امکانات ان امیدواروں کے لیے زیادہ ہوں گے جن کی تعلیم، تجربہ اور مہارتیں سویڈن کی موجودہ لیبر مارکیٹ کی ضروریات سے مطابقت رکھتی ہوں۔

Source: https://www.express.pk/story/2817365/ways-to-go-abroad-without-a-job-offer-important-details-for-pakistanis-2817365

Discussion

Sign in to join the thread, react, and share images.