حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار اضافہ کرکے غریب عوام پر مہنگائی کے کوڑے برسا رہی ہے۔
حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار اضافہ کرکے غریب عوام پر مہنگائی کے کوڑے برسا رہی ہے۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ ڈیزل اور پٹرول کی قیمتوں میں جب بھی اضافہ ہوتا ہے تو اشیا ضروریہ کے پیداواری اخراجات بڑھ جاتے ہیں جس سے روزمرہ استعمال کی چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ ہو جاتا ہے جو مہنگائی و گرانی کے طوفان کا پیش خیمہ بنتا ہے۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ٹرانسپورٹر حضرات بھی من مانے کرائے بڑھا دیتے ہیں۔ حکومت نہ تو مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے ضروری اقدامات کرتی ہے اور نہ ہی ٹرانسپورٹر کو کرایوں میں اضافے سے روکتی ہے نتیجتاً عام آدمی کی مشکلات بڑھ جاتی ہیں۔ اس کی قوت خرید بری طرح متاثر ہوتی ہے جو حکومت کی کارکردگی پر بڑا سوالیہ نشان ہے جس کا جواب دینے کے لیے کوئی حاکم تیار نہیں ہوتا ہے۔ محض زبانی جمع خرچ سے عوام کو طفل تسلیاں دے کر بہلا یا جاتا ہے۔
یہ ٹھیک ہے کہ امریکا ایران جنگ کے نتیجے میں عالمی سطح پر توانائی کا بحران پیدا ہوا ہے اور دنیا بھر کی معاشی صورت حال میں مد و جزر کی سی کیفیت جنم لے رہی ہے لیکن بیرون دنیا کی حکومتیں اپنے عوام کو ریلیف فراہم کرنے اور ان کی مشکلات کم کرنے کے لیے ہر صورت ضروری اقدامات کرتی ہیں۔ ایسے مواقعوں پر بچت پالیسی اختیار کی جاتی ۔ حکمران طبقہ سرکاری اخراجات کو کنٹرول کرتا ہے، غیر ضروری طور پر شاہ خرچیوں سے گریز کیا جاتا ہے اور مالی بوجھ حکومت برداشت کرتی ہے جب کہ ہمارے ہاں کا باوا آدم ہی نرالا ہے۔
یہاں مالیات کا سارا بوجھ عوام پر ڈال دیا جاتا ہے، پاکستان کے حکمرانوں کو عوام کی جیبوں سے ٹیکسوں کی صورت میں پیسے نکلوانا سب سے آسان طریقہ لگتا ہے۔ آپ پٹرولیم مصنوعات پر عائد ٹیکس لیوی کو لے لیجیے جس کے ذریعے حکومت اربوں روپے عوام سے غیر ضروری طور پر وصول کرتی ہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے پٹرولیم ڈویژن کے حکام نے بتایا کہ پٹرول مہنگا ہونے کی بنیادی وجہ 117 روپے فی لیٹر لیوی کا نفاذ ہے۔ ایران امریکا جنگ کے بعد ڈیزل 48 فی صد اور پٹرول 56 فی صد مہنگا ہو چکا ہے۔
حکومت نے ہفتہ 9 مئی کو جب پوری قوم بھارت کے خلاف پاکستان کی عسکری تاریخ کی شان دار فتح ’’معرکہ حق‘‘ کا جشن منا رہی تھی، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ کر دیا جس سے ڈیزل کی نئی قیمت 414 روپے 58 پیسے اور پٹرول کی قیمت 414 روپے 78 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ یہ قیمتیں محض ایک ہفتے کے لیے مقرر کی گئی ہیں۔ گویا اگلے ہفتے حکومت پھر قیمتوں میں اضافہ کرے گی جو ملک کے کروڑوں غریب عوام پر جو مہنگائی کے ہاتھوں پہلے ہی عذاب جھیل رہے ہیں، نیا مہنگائی بم بن کر گرے گا، اگر حکومت پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی ٹیکس میں کمی کر دے تو پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کرکے عوام کو ریلیف فراہم کیا جاسکتا ہے۔
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں ڈیزل کی قیمت میں اضافے کے حساب سے اس کی قیمت تقریباً سات روپے فی لیٹر بڑھنی چاہیے تھی لیکن حکومت نے اس میں د گنا اضافہ کرتے ہوئے 15 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا جو سراسر ناانصافی ہے۔ سابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے بقول آئی ایم ایف سے پٹرول بم لیوی 85 روپے لیٹر طے ہوئی تھی لیکن حکومت اب 120 روپے وصول کر رہی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ایک موٹرسائیکل والا بھی ایک لیٹر پر اتنا زیادہ ٹیکس دے رہا ہے۔ ان کے بقول حکومت کی کفایت شعاری مہم کا تو کوئی قابل ذکر نتیجہ برآمد نہیں ہوا، اس لیے حکومت کی جانب سے لیوی بڑھا کر مالی خسارہ کم کرنے کا آسان راستہ اختیار کیا گیا۔
امریکی صدر ٹرمپ نے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے وفاقی پٹرولیم ٹیکس معطل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جب قیمتیں نیچے آئیں گی تو ٹیکس دوبارہ نافذ کر دیا جائے گا۔ شہباز حکومت کو چاہیے کہ وہ بجٹ خسارہ پورا کرنے اور ٹیکس اہداف حاصل کرنے کے لیے حکومت کے شاہانہ اخراجات میں کمی کے اقدامات کرے اور اپنے دعوؤں اور وعدوں کے مطابق عوام کو ریلیف فراہم کرے۔ عوام میں بے چینی و اضطراب بڑھتا جا رہا ہے۔ غربت، مہنگائی اور بے روزگاری کا گراف مسلسل اوپر جا رہا ہے جو پالیسی سازوں کے لیے بڑا سوالیہ نشان ہے۔
Discussion
Sign in to join the thread, react, and share images.