Native World News

سندھ بجٹ، اعلانات ، ترجیحات اور عملدرآمد

سندھ بجٹ، اعلانات ، ترجیحات اور عملدرآمد

وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی جانب سے مسلسل گیارہواں بجٹ پیش کرنا انتظامی تسلسل اور سیاسی استحکام کی علامت قرار دیا جا سکتا ہے۔

سندھ حکومت نے آیندہ مالی سال کا بجٹ ایک ایسے وقت میں پیش کیا ہے جب ملک مجموعی طور پر معاشی دباؤ، محدود مالی وسائل، بلند مہنگائی، موسمیاتی خطرات اور ترقیاتی ضروریات کے پیچیدہ چیلنجوں سے نبرد آزما ہے۔ ایسے حالات میں کسی بھی صوبائی بجٹ کی اہمیت محض اعداد و شمار تک محدود نہیں رہتی بلکہ یہ ایک سیاسی، معاشی اور انتظامی دستاویز کی صورت اختیار کر لیتا ہے جو حکومت کی ترجیحات، صلاحیت اور وژن کی عکاسی کرتی ہے۔ سندھ حکومت کی جانب سے پیش کردہ بجٹ بھی اسی تناظر میں سنجیدہ تجزیے کا تقاضا کرتا ہے۔

وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی جانب سے مسلسل گیارہواں بجٹ پیش کرنا انتظامی تسلسل اور سیاسی استحکام کی علامت قرار دیا جا سکتا ہے۔ ان کی تقریر میں مالیاتی پائیداری، آئینی حقوق، قومی استحکام اور عوامی فلاح کو بنیادی ستون قرار دیا گیا۔ بلاشبہ یہ تمام اہداف اہم ہیں، تاہم پاکستان میں ترقیاتی منصوبوں کا اصل مسئلہ اکثر وسائل کی قلت نہیں بلکہ ان وسائل کے شفاف اور موثر استعمال کا فقدان رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی بجٹ کی کامیابی کا انحصار مختص رقوم سے زیادہ ان کے نتائج پر ہوتا ہے۔

لوکل گورنمنٹ، بلدیاتی انفرا اسٹرکچر اور پانی و نکاسی آب کے منصوبوں کے لیے بڑے پیمانے پر فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ یہ فیصلہ خصوصاً کراچی کے تناظر میں اہم ہے، جو ملک کی اقتصادی شہ رگ ہونے کے باوجود بنیادی شہری مسائل سے دوچار ہے۔ ٹریفک کا دباؤ، ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، نکاسی آب کا ناقص نظام، پینے کے صاف پانی کی قلت اور بے ہنگم شہری پھیلاؤ ایسے مسائل ہیں جو کئی دہائیوں سے حل طلب ہیں۔ ماضی میں بھی کراچی کے لیے اربوں روپے کے ترقیاتی پیکیجز کا اعلان کیا جاتا رہا ہے، مگر عوامی زندگی میں اس کے اثرات محدود نظر آئے۔ اس مرتبہ حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہوگا کہ مختص وسائل کو زمینی حقائق میں کیسے تبدیل کیا جائے۔

زراعت کے شعبے کے لیے مختص وسائل اور زرعی سپر ٹیکس میں کمی قابل توجہ اقدامات ہیں۔ سندھ کی ایک بڑی آبادی براہ راست یا بالواسطہ زراعت سے وابستہ ہے۔ موسمیاتی تبدیلی، پانی کی قلت، زمین کی زرخیزی میں کمی اور پیداواری لاگت میں اضافے نے کسانوں کے مسائل بڑھا دیے ہیں۔سیلاب متاثرین کے لیے تعمیر کیے گئے گھروں اور خواتین کو زمین کے مالکانہ حقوق کی فراہمی کے دعوے سماجی ترقی کے حوالے سے اہم پیش رفت سمجھے جا سکتے ہیں۔ 2022 کے تباہ کن سیلاب نے سندھ میں لاکھوں افراد کو متاثر کیا تھا۔ بحالی کے عمل کو صرف تعمیرات تک محدود رکھنے کے بجائے روزگار، تعلیم اور بنیادی سہولیات کی بحالی سے جوڑنا ضروری ہے۔ اسی طرح خواتین کو زمین کی ملکیت دینا نہ صرف معاشی خودمختاری کو فروغ دیتا ہے بلکہ سماجی انصاف کے تصور کو بھی مضبوط بناتا ہے۔

بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافے کے ساتھ کم از کم اجرت کو 43 ہزار روپے مقرر کرنے کا فیصلہ بھی اہم ہے۔ تاہم موجودہ مہنگائی کے تناظر میں یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ آیا یہ اضافہ حقیقی قوتِ خرید میں خاطر خواہ بہتری لا سکے گا یا نہیں۔ صوبائی حکومت نے این ایف سی ایوارڈ میں اپنے حصے کے تحفظ کا ذکر کیا ہے، جو آئینی اور مالیاتی اعتبار سے نہایت اہم معاملہ ہے۔ پاکستان جیسے وفاقی نظام میں وسائل کی منصفانہ تقسیم نہ صرف صوبوں کی ترقی بلکہ قومی یکجہتی کے لیے بھی ضروری ہے۔ اگر صوبوں کو اپنے ترقیاتی اہداف کے مطابق وسائل میسر نہ ہوں تو بنیادی خدمات کی فراہمی متاثر ہوتی ہے۔تاہم بجٹ کا سب سے اہم امتحان شفافیت، نگرانی اور احتساب کے نظام میں پوشیدہ ہے۔

مجموعی طور پر سندھ کا نیا بجٹ ترقی، سماجی بہبود، انفراسٹرکچر اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کا ایک جامع خاکہ پیش کرتا ہے۔ اس میں کئی ایسے اقدامات شامل ہیں جو درست سمت کی نشاندہی کرتے ہیں، تاہم بجٹ کی اصل کامیابی کا تعین آیندہ برس عوام کی زندگی میں آنے والی عملی تبدیلیوں سے ہوگا۔ اگر تعلیم اور صحت کی خدمات بہتر ہوئیں، شہری مسائل میں کمی آئی، روزگار کے مواقع پیدا ہوئے اور ترقیاتی منصوبے وقت پر مکمل ہوئے تو یہ بجٹ اپنی افادیت ثابت کر دے گا۔ جمہوری حکومتوں کا اصل امتحان اعلانات نہیں بلکہ نتائج ہوتے ہیں، اور سندھ حکومت کو بھی اسی معیار پر جانچا جائے گا۔

Source: https://www.express.pk/story/2818178/sindh-budget-ailanat-tarjihat-aur-amal-daramad-2818178

Discussion

Sign in to join the thread, react, and share images.