حادثہ اس قدر شدید تھا کہ پولیس موبائل مکمل طور پر تباہ ہوگئی، ٹرالر کے ڈرائیور کو پولیس نے گرفتار کرلیا
سپرہائی وے چکوال پمپ کے قریب تیز رفتار ٹرالر نے چیکنگ پر تعینات پولیس موبائل کو روند ڈالا، حادثے کے نتیجے میں سب انسپکٹر اور کانسٹیبل جاں بحق ہوگئے، حادثے کے ذمے دار ٹرالر کے ڈرائیور کو پولیس نے گرفتار کرلیا۔
تفصیلات کے مطابق نے گڈاپ سٹی کے علاقے سپرہائی وے چکوال پیٹرول پمپ کے قریب تیز رفتار ٹرالر پولیس موبائل پر چڑھ گیا جس کے نتیجے میں اے ایس آئی اور ایک کانسٹیبل جاں بحق ہوگئے، خوش قسمتی سے ایک اہلکار محفوظ رہا، حادثے کی اطلاع ملنے پر ریسکیو 1122 کی ٹیم اور ایدھی کے رضاکار ایمبولینسوں کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئے۔
پولیس کے مطابق پیر کی الصبح تقریباً 5 بجکر 40 منٹ پر ایک سرکاری پولیس موبائل نمبر SPC-536 چکوال پمپ مین سپر ہائی وے ( حیدرآباد تا کراچی سڑک) کے سامنے تعینات تھی۔
پولیس موبائل آفیسر سب انسپکٹر صاحب خان اور پولیس اہلکار کانسٹیبل پرورش اور ڈی پی سی واجد مذکورہ موبائل میں اپنے فرائض سرانجام دے رہے تھے، ڈیوٹی کے دوران ایک ٹرالر نمبر TMJ-944 (22 وہیلر) نے سرکاری پولیس موبائل کو ٹکر مار دی جس کے نتیجے میں سب انسپکٹر صاحب خان موقع پر جاں بحق جبکہ کانسٹیبل واجد شدید زخمی حالت میں تباہ شدہ پولیس موبائل کے اندر ٹرالر کے نیچے پھنس گیا، حادثے میں کانسٹیبل پرورش محفوظ رہا۔
موٹروے پولیس نے حادثے کے مقام پر پہنچ کر فوری طور پر لفٹر اور کرین کو موقع پر طلب کر لیا، ایک گھنٹے کے بعد کرین موقع پر پہنچی، ریسکیو 1122 اور ایدھی کے رضاکاروں نے ٹرالر کے نیچے پھنسی پولیس موبائل کو کرین اور لفٹر کے ذریعے نکال لیا۔
بعد ازاں، پولیس موبائل کے حصے کاٹ کر کانسٹیبل کو نکالا گیا تاہم اس دوران کانسٹیبل واجد بھی جاں بحق ہوگیا تھا، جاں بحق ہونے والے سب انسپکٹر کی لاش ایدھی ایمبولینس کے ذریعے عباسی شہید اسپتال منتقل کی گئی جبکہ کانسٹیبل کی لاش گڈاپ سٹی تھانے کے قریب واقعے نجی اسپتال منتقل کی گئی، جاں بحق ہونے والے گڈاپ سٹی تھانے میں تعینات تھے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ حادثے کے ذمے دار ٹرالر کے ڈرائیور ملزم شہاب الدین ولد یاسین خان کو گرفتار کر لیا، ٹرالر کے ڈرائیور نے اپنے ابتدائی بیان میں پولیس کو بتایا کہ دوران ڈرائیونگ اس کی آنکھ لگ گئی تھی جسے کے باعث حادثہ پیش آیا۔
Discussion
Sign in to join the thread, react, and share images.