Native World News

آج کا دن پاکستان سمیت دُنیا بھر کے لیے تاریخی ہوگا؟

آج کا دن پاکستان سمیت دُنیا بھر کے لیے تاریخی ہوگا؟

تو کیا جمعے کی عظمت اور تقدیس کو امریکی صدر ، ڈونلڈ ٹرمپ، نے بھی تسلیم کر لیا ہے ؟ بظاہر لگتا تو ایسا ہی ہے ۔

جمعہ کا دن ہم مسلمانوں کے نزدیک مقدس اور عظیم دن کہلاتا ہے ۔ تو کیا جمعے کی عظمت اور تقدیس کو امریکی صدر ، ڈونلڈ ٹرمپ، نے بھی تسلیم کر لیا ہے ؟ بظاہر لگتا تو ایسا ہی ہے ۔ ایران نے پچھلے تقریباً چار ماہ کے دوران امریکہ کو جو ٹَف ٹائم دیا ہے اور صہیونی اسرائیل اور اِس کے دہشت گرد وزیر اعظم کے ناپاک عزائم جس پامردی اور جرأت سے خاک میں ملا دیے ہیں ، اِن سب مناظر اور زمینی حقائق نے ڈونلڈ ٹرمپ پر بھی جمعے کی اہمیت و عظمت واضح کر دی ہے ۔ یہ کہنا بھی شائد بجا ہوگا کہ جمعے کی عظمت کو دُنیا بھر نے بھی مان لیا ہے ۔ امریکی صدر ، ڈونلڈ ٹرمپ، نے اعلان کررکھا ہے کہ آج بروز جمعہ ، بتاریخ 19جون2026، سوئٹزر لینڈ کے خوبصورت سیاحتی شہر، برگن اسٹوک، میں ایران اور امریکہ کے درمیان عالمی امن معاہدے پر دستخط ہو جائیں گے (پہلے امن معاہدے کی تقریب جنیوا میں منعقد کی جانی تھی) ایرانی قیادت بھی اِس اعلان کی تصدیق کر چکی ہے ۔

اگرچہ ایران کے اندر، مبینہ طور پر، موجود بعض ’’ہارڈ لائنرز‘‘ اِس موعودہ معاہدے کی سخت مخالفت بھی کررہے ہیں ۔ ایسے ہی کچھ مخالفانہ اور معاندانہ مناظر امریکہ میں بھی دکھائی اور سنائی دے رہے ہیں ۔ معاہدہ تو بہرحال ہونا ہے ۔ اگرچہ صہیونی اسرائیل کے پیٹ میں اِس بارے سخت مروڑ اُٹھ رہے ہیں ۔ یہ مروڑ اُٹھنے بھی چاہئیں کہ ایران نے،بے پناہ جنگی تباہیوں اور ہزاروں شہریوں کی شہادتوں کے باوصف،بیک وقت صہیونی اسرائیل اور امریکہ کو ناکوں چنے چبوا دیے ہیں ۔ شائد اِسی تاریخی پس منظر میں امریکی قومی سلامتی کے سابق مشیر، جان بولٹن، نے تاریخی جملہ کہا ہے:’’ ایران ، امریکہ جنگ میں ایران نے ٹرمپ کو وائلن کی طرح بجایا ہے ۔‘‘

ہمارے وزیر اعظم ، جناب شہباز شریف ، نے بھی برسر مجلس اعلان کیا ہے کہ آج بروز جمعہ، بتاریخ 19جون، سوئٹزر لینڈ میں، ایران و امریکہ امن معاہدے پر دستخط ثبت ہوں گے ۔ بقول شہباز شریف: جنیوا میں اِس عالمی و تاریخی امن معاہدے کی میزبانی پاکستان کرے گا ۔ اِس معاہدے میں پاکستان کے وہ تین بڑے بھی شرکت کریں گے جن کی شب و روز کی مساعی جمیلہ سے یہ دن آیا ہے: دن گنے جاتے تھے جس دن کے لیے!جب یہ کالم شائع ہوگا، یقین ہے کہ پاکستان کی یہ تینوں بڑی شخصیات ( جن میں سے دو کی تعریفیں تو امریکی صدر لا تعداد بار کر چکے ہیں) اپنے وفود کے ہمراہ برگن اسٹوک پہنچ بھی چکی ہوں گی ۔ حقیقت یہ ہے کہ اِس موعودہ معاہدے پر ساری دُنیا کی نظریں مرتکز ہیں ۔

گویا اِس معاہدے کو پاکستان سمیت دُنیا بھر کے لیے مسرت ، پائیدار امن اور تاریخی کہا جا سکے گا۔دُنیا بھر کے میڈیا اور عالمی سیاست کے ایوانوں میں پاکستان کے کردار کو جن اچھے الفاظ سے سراہا جا رہا ہے بھارت، نریندر مودی اور انڈین اسٹیبلشمنٹ کو اِس کی بڑی تکلیف پہنچ رہی ہے ۔ ہم اِس تکلیف اور اذیت کو بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔ آج ہونے والے اِس معاہدے کو ’’توڑ چڑھانے کے لیے‘‘ پاکستان نے جو تاریخی کر دار ادا کیا ہے، دُنیا کے ساتھ ساتھ مملکت ِ پاکستان اور ہر پاکستانی شہری اِس پر فخر کر سکے گا۔

پاکستان کی موجودہ سینئر ترین قیادت نے ایران و امریکہ خونی تصادم کو امن میں بدلنے ، ایرانی و امریکی قیادت کو قریب لانے اور پھر اِنہیں امن ساز معاہدے کی میز پر بٹھانے کے لیے جو ناقابلِ فراموش و انتھک کردار ادا کیا ہے، اِس پس منظر میں قوی اُمیدیں تو یہی تھیں کہ ایران اور امریکہ میں جو امن معاہدہ جب بھی طے پائے گا، اسلام آباد میں طے پائے گا۔ اور اِس تاریخی اور تاریخ ساز امن معاہدے کو ’’اسلام آباد ڈیکلیریشن‘‘ سے موسوم کیا جائے گا۔ ایسا نہیں ہو سکا ہے ۔ مگر اِسے کسی کی سازش کہنا بجا ہوگا نہ پاکستان کی سفارتی ناکامی۔حالات اگر توقعات کے مطابق ساز گار رہے اور آج اگر متحارب ایران و امریکہ میں امن معاہدہ طے پا گیا تو اِسے بھی ، مبینہ طور پر ، اسلام آباد ڈیکلیریشن ہی سے موسوم کیا جائے گا۔

سوئٹزر لینڈ کا شہرجنیوا یو این او کا مرکز بھی ہے اور عالمی معاہدوں کو اساس فراہم کرنے والا تاریخی شہر بھی۔ اگر تاریخ کے اوراق دیکھے جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ پچھلے ڈیڑھ سو سال کے دوران سوئٹزر لینڈ میں درجنوں ایسے عالمی معاہدے اور کنونشنز طے پائے ہیں جنھیں Foundational Agreementsکہا جاتا ہے ۔ یہ سب معاہدے ’’جنیوا اکارڈز‘‘ کہلاتے ہیں ۔ اِن تاریخی معاہدوں کو آج بھی دُنیا بھر میں تحسین و تحریم حاصل ہے ۔ مثال کے طور پر: ڈیڑھ سو سال سے بھی قبل یہ معاہدہ (یا اکارڈ) سوئٹزر لینڈ ہی میں طے پایا تھا کہ تصادموں ، جنگوں اور خانہ جنگیوں کے دوران زخمی ہونے والے سویلین، فوجیوں اور جنگی قیدیوں کے ساتھ کیسا سلوک کیا جائیگا ۔

اِس اکارڈ پر200سے زائد ممالک نے دستخط کر رکھے ہیں اور اِس پر آج تک عمل ہورہا ہے ۔75سال قبل پہلی انڈو چائنہ جنگ کے نتیجے میں ویت نام ، لاؤس اور کمبوڈیا کو جس معاہدے کے نتیجے میں آزادیاں ملیں، وہ بھی سوئٹزر لینڈ ہی میں ہُوا تھا۔ 38سال قبل افغانستان سے قابض سوویت فوجوں کے نکلنے کے وقت پاکستان ، امریکہ اور سوویت رُوس کے مابین جو عالمی معاہدہ طے پایا تھا، اس کا میزبان بھی یہی ملک تھا ۔ گیارہ سال قبل ایران و امریکہ کے درمیان جو نیوکلیئر ڈِیل ہُوئی تھی ، وہ بھی تو سوئٹزر لینڈ ہی میں بیٹھ کر طے پائی تھی ۔

یوں اِس تاریخی پس منظر میں ہم آج کے ایران و امریکہ امن معاہدے کے پیش منظر بارے بھی پُر اُمید ہو سکتے ہیں ۔ ایران و امریکہ ( پلس صہیونی اسرائیل) جنگ کے نتیجے میں پاکستان سمیت دُنیا بھر نے مہنگائی ، ذہنی پریشانیوں اور بد امنی کے جن ہلاکت خیز مہینوں کو بھگتاہے، اب اِس مبینہ نئے امن معاہدے سے اُمیدیں وابستہ کی جارہی ہیں کہ دُنیا کو متعدد ذہنی کشاکشوں سے نجات مل سکے گی ۔ ہمارے حکمرانوں نے ایران و امریکہ جنگ کے بہانے پاکستانیوں کو مہنگے ترین تیل سے جو رگڑا دیا ہے ، یہ رگڑا ہنوز جاری ہے ۔

اس لیے پاکستانی بالخصوص اِس امن معاہدے سے بلند توقعات لگائے بیٹھے ہیں کہ ہمارے لیے، کم از کم، 28فروری2026 کے دن والے پٹرول و ڈیزل کی قیمتیں بحال ہو سکیں گی ۔ اور عوام سُکھ کا سانس لے سکیں گے ۔ آج کے مبینہ امن معاہدے کی خبر پا کر دُنیا بھر میں تیل کی قیمتیں گر کر80ڈالر فی بیرل سے بھی نیچے آ چکی ہیں ، مگر وائے افسوس کہ ابھی تک یہ حکومت مہنگے ترین تیل کے نام پر بیدردی سے عوام کا تیل نکال رہی ہے۔ کسی ستم ظریف نے طنزاً یوں بھی کہا ہے کہ ’’شہباز حکومت ، ایران و امریکہ تصادم کے بہانے ، اب تک پاکستانی عوام کا اتنا تیل نکال چکی ہے کہ اب یہ حکمران اوپیک(OPEC) کا ممبر بن سکتے ہیں ۔‘‘

ایران و امریکہ امن معاہدے کی محض خبر پا کر عالمی اسٹاک مارکیٹیں تیز ہو گئیں ۔ تیل کی عالمی قیمتیں گر گئیں اور جب آج ایران و امریکہ امن معاہدہ اپنے شاندار انجام کو پہنچے گا تو اِس کے فوری مثبت اثرات دُنیا بھر میں محسوس کیے جائیں گے ۔ آبنائے ہرمز کھل جانے سے آبنائے میں رُکے تیل کے سیکڑوںعالمی کنٹینرز آبنائے سے امن کے ساتھ گزر کر اپنی منزل تک پہنچیں گے تو تیل کی گرم عالمی منڈی ٹھنڈک محسوس کرے گی ۔ ساتھ ہی ہم سب بھی ( بشرطیکہ پٹرول و ڈیزل و گیس کے نرخ گر جائیں) امن چَین کا سانس لے سکیں گے۔ایران کے متنازع افزودہ یورینیم کا فیصلہ اگلے 60دنوں میں طے پا سکے گا۔ پاکستان و پاکستانی قیادت کی خدمات بارے ، بہرحال، دُنیا صدقے واری جا رہی ہے۔

پاکستان میں متعین ایرانی سفیر، جناب رضا امیری، نے اگلے روز کہا ہے:’’ امریکہ کے ساتھ جنگ بندی اور امن معاہدے کے لیے پاکستان نے جو مخلصانہ کردار ادا کیا ہے، ایرانی قوم اِسے ہمیشہ یاد رکھے گی ۔‘‘اِس اعتراف کی موجودگی میں ہم توقع رکھتے ہیں کہ ماضی قریب میں ایران جس گرمجوشی کے ساتھ ، پاکستان کے ازلی دشمن، بھارت، سے پینگیں بڑھاتا رہا ہے، شائداب ایران کی آنکھیں بھی کھل جائیں ۔ اب تو پاکستان میرٹ پر امن کے نوبل انعام کا حقدار بھی بن چکا ہے اور یہ ٹاپ ٹرینڈ ہے ۔

Source: https://www.express.pk/story/2818183/aaj-ka-din-pakistan-samait-duniya-bhar-ke-liye-tareekhi-hoga-2818183

Discussion

Sign in to join the thread, react, and share images.