ورکنگ گروپس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے ابتدائی فریم ورک کو عملی شکل دینا ہے
ایران اور امریکا کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے تکنیکی مذاکرات اختتام پذیر ہوگئے ہیں، جہاں دونوں ممالک نے مستقبل کے مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے مختلف شعبوں میں مشترکہ ورکنگ گروپس قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے آئی آر این اے کے مطابق ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے بتایا کہ مذاکرات کے دوران فیصلہ کیا گیا ہے کہ اہم امور پر پیش رفت کے لیے چار الگ الگ ورکنگ گروپس تشکیل دیے جائیں گے۔
کاظم غریب آبادی کے مطابق پہلا ورکنگ گروپ اقتصادی پابندیوں کے خاتمے، دوسرا جوہری امور، تیسرا تعمیر نو اور معاشی ترقی جبکہ چوتھا معاہدے پر عمل درآمد اور نگرانی کے معاملات پر کام کرے گا۔
ایرانی صدر کا دورۂ پاکستان، راولپنڈی میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات مکمل
امریکا ایران مذاکرات کے بعد تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی، آبنائے ہرمز سے سپلائی بحال ہونے لگی
ایران نے ٹرمپ کے دعوے کو چیلنج کر دیا، 6 ارب ڈالر امریکی اشیا پر خرچ کرنے سے انکار
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ان ورکنگ گروپس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے ابتدائی فریم ورک کو عملی شکل دینا اور اختلافی امور پر تکنیکی سطح پر پیش رفت ممکن بنانا ہے۔
مبصرین کے مطابق ورکنگ گروپس کا قیام اس بات کا اشارہ ہے کہ دونوں فریق مذاکراتی عمل کو محض سیاسی بیانات تک محدود رکھنے کے بجائے عملی اور تکنیکی سطح پر آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔ خاص طور پر جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیوں میں نرمی، ایران کے منجمد اثاثوں کی واپسی اور اقتصادی تعاون جیسے موضوعات آئندہ مذاکرات میں مرکزی حیثیت اختیار کر سکتے ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حالیہ امریکا۔ایران مفاہمتی عمل کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں، تاہم متعدد حساس معاملات پر ابھی مزید مذاکرات اور اتفاق رائے درکار ہے۔
Discussion
Sign in to join the thread, react, and share images.