مریض کی اس سے قبل دو سرجری ہوئی تھیں، جس کے دوران ایچ آئی وی کی اسکریننگ منفی آئی تھی
ملتان کے نشتر اسپتال میں ایک اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو مشتبہ ایچ آئی وی مریض کی ٹیسٹنگ سے قبل سرجری پرفارم کرنے کے کیس کی تحقیقات کر رہی ہے۔
تفصیلات کے مطابق اس واقعے نے صحت کی دیکھ بھال کرنے والے عملے کے ممکنہ ایچ آئی وی سے متاثر ہونے اور انفیکشن کنٹرول پروٹوکول میں کوتاہی پر تشویش پیدا کردی ہے۔
اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق چار رکنی انکوائری کمیٹی واقعے کی تحقیقات کرے گی اور دو دن کے اندر اپنے نتائج پیش کرے گی۔
انکوائری کمیٹی کے رکن اور متعدی امراض کے انچارج ڈاکٹر ریواد نور نے نجی نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ صورتحال قابو میں ہے اور تمام سرجیکل آلات کو جراثیم سے پاک کرنے کi احتیاطی تدابیر اپنائی گئی ہیں۔
ہسپتال ذرائع نے بتایا کہ یہ سرجری منگل 19 مئی کو ہسپتال کے آپریٹنگ تھیٹر میں کی گئی۔ ایک جونیئر ڈاکٹر نے مبینہ طور پر آپریشن سے پہلے مریض کی ایچ آئی وی اسکریننگ رپورٹ نہ ہونے کی اطلاع دی تھی تاہم مبینہ طور پر اعتراض پر توجہ نہیں دی گئی اور طریقہ کار آگے بڑھا۔
وارڈ انچارج ڈاکٹر مسعود ہراج نے بتایا کہ انہیں بدھ کی صبح اس مسئلے کا علم ہوا اور انہوں نے فوری طور پر میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کے ساتھ ساتھ متعدی امراض کے انچارج کو فوری احتیاطی تدابیر کو یقینی بنانے کے لیے کہا۔
ڈاکٹر ہراج نے مزید واضح کیا کہ مریض کی اس سے قبل دو سرجری ہوئی تھیں، جس کے دوران ایچ آئی وی کی اسکریننگ کی گئی تھی اور اس کے نتائج منفی آئے تھے۔ بعد میں مریض کے ایچ آئی وی پازیٹو ہونے کی تصدیق ہوئی تاہم نتائج آنے سے پہلے سرجری کردی گئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ابتدائی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایچ آئی وی پازیٹو مریض کی سرجری سب سے آخر میں ہوئی تھی۔
Discussion
Sign in to join the thread, react, and share images.