نائب وزیراعظم کا سعودی وزیر خارجہ سے رابطہ، امریکا، ایران مذاکرات اور دستخطی تقریب کی پیش رفت پر تبادلہ خیال
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے بعد آج تحریری امن معاہدہ و نے کا امکان ہے جس پر پاکستان الیکٹرانک دستخط کرے گا۔
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلیفون رابطہ کیا اور خطے کی صورتحال، امریکا-ایران مذاکرات اور آئندہ علاقائی سفارتی سرگرمیوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
دونوں رہنماؤں نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کے حتمی مرحلے میں داخل ہونے کا خیرمقدم کیا جبکہ گفتگو اس امید کا اظہار کیا کہ کل متوقع الیکٹرانک دستخطی تقریب کے بعد ہونے والی پیش رفت خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے قیام میں معاون ثابت ہوگی۔
گفتگو کے دوران سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے مذاکراتی عمل کے دوران ثالثی، مفاہمت اور مکالمے کے فروغ کے لیے پاکستان کی مسلسل اور مؤثر کوششوں کو سراہا۔
تاہم وزارت خارجہ کی جانب سے الیکٹرانک دستخطی تقریب کے انعقاد اور مقام کے حوالے سے تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
اعلامیے کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے رواں ماہ کے آخر میں مصر میں ہونے والے علاقائی چار ملکی وزرائے خارجہ اجلاس (آر-4) کی تیاریوں اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے قریبی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔
ایران معاہدے کا مقصد عارضی جنگ بندی نہیں، مستقل امن ہونا چاہیے؛ برطانوی وزیراعظم
ایران کیساتھ معاہدے پر دستخط آج ہوں گے؛ آبنائے ہرمز سب کیلیے کھول دی جائیگی؛ ٹرمپ
آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران امریکا ایران تاریخی امن معاہدے کو حتمی شکل دے دی جائے گی، شہباز شریف
دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ معاہدے پر الیکٹرانک یا ورچوئل دستخط کے انتظامات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے اور امن معاہدے پر دستخط کل اتوار کو متوقع ہیں، جبکہ پاکستان اس سفارتی عمل میں مرکزی ثالث کررہا ہے۔
ذرائع کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان مجوزہ امن معاہدے پر الیکٹرانک دستخط کے مختلف آپشنز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ حکام ورچوئل دستخط کے طریقہ کار پر غور کر رہے ہیں، جبکہ اس مقصد کے لیے زوم میٹنگ کے انعقاد کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ ورچوئل اجلاس میں پاکستان مرکزی ثالث کی حیثیت سے شریک ہوگا، جبکہ بیک ڈور ڈپلومیسی میں کردار ادا کرنے والے دیگر اہم ممالک بھی اس عمل کا حصہ ہوں گے۔
متوقع شرکاء میں سعودی عرب، ترکی، قطر، مصر سمیت خطے کے دیگر اہم ممالک شامل ہو سکتے ہیں، ذرائع کے مطابق مجوزہ معاہدے کو "اعلانِ اسلام آباد" یا "میمورنڈم آف انڈراسٹینڈنگ اسلام آباد" کا نام دینے پر بھی غور کیا جا رہا ہے جبکہ امن معاہدے کے دیگر مراحل اور تکنیکی امور پر بھی کام جاری ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان اس امن معاہدے پر آج اتوار کو دستخط متوقع ہیں۔ اسی تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر امن معاہدے پر اتوار کو دستحط کرنے کی پوسٹ کی تھی۔
Discussion
Sign in to join the thread, react, and share images.