کسی مقدمے میں بھی پنکی کا چالان نہیں کیا گیا، چاروں مقدمات میں اس کی گرفتاری التوا میں رکھی گئی، ذرائع
کوکین کوئین انمول عرف پنکی کو مقدمات میں کتنا ریلیف ملا؟ کون افسر اسے بچانے میں ملوث رہا، اس حوالے سے تفتیش کا دائرہ کار وسیع کردیا گیا ہے۔
منشیات اسمگلر انمول عرف پنکی کے خلاف انویسٹی گیشن پولیس نے تفتیش کا دائرہ کار وسیع کر دیا ہے۔ ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور سید ذیشان رضا نے ایس پی سی آر او کی سربراہی میں ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو لاہور کے تمام تھانوں میں پنکی کا گزشتہ 10 سال کا ریکارڈ چیک کرے گی۔
ذرائع کے مطابق اب تک لاہور میں انمول عرف پنکی کے خلاف 4 مقدمات سامنے آچکے ہیں۔ کوٹ لکھپت، اقبال ٹاؤن، لیاقت آباد اور وحدت کالونی تھانوں میں پنکی کے خلاف نامزد مقدمات درج ہیں، تاہم مقدمات میں نامزد ہونے کے باوجود پنکی کا کسی ایک کیس میں بھی کریمنل ریکارڈ نہیں بنایا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کسی ایک مقدمے میں بھی پنکی کا چالان نہیں کیا گیا جبکہ چاروں مقدمات میں اس کی گرفتاری التوا میں رکھی گئی۔ کمیٹی اس بات کی تحقیقات بھی کر رہی ہے کہ پنکی کو کیوں گرفتار نہیں کیا گیا، کون سے پولیس افسران پنکی کو بچانے میں ملوث ہیں اور کس افسر نے کتنی رشوت لی۔
ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور سید ذیشان رضا نے کہا ہے کہ فرائض میں غفلت برتنے والے افسران کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پنکی کو بچانے میں ملوث افسران کے خلاف کریمنل دفعات کے تحت مقدمات درج کیے جائیں گے۔
Discussion
Sign in to join the thread, react, and share images.