Native World News

کرپشن کیس میں رضاکارانہ واپس کی گئی رقم کے تقاضے سے متعلق اپیل پر سماعت

کرپشن کیس میں رضاکارانہ واپس کی گئی رقم کے تقاضے سے متعلق اپیل پر سماعت

جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت کی

وفاقی آئینی عدالت میں کرپشن کیس میں رضاکارانہ واپس کی گئی رقم کے تقاضے سے متعلق اپیل پر سماعت ہوئی، جس میں عدالت نے کیس واپس لینے کی بنیاد پر نمٹا دیا۔

جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت کی۔ وکیل درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ ان کے مؤکل سے دباؤ ڈال کر رضاکارانہ رقم کی واپسی کروائی گئی۔

انہوں نے کہا کہ نیب ترامیم کے مطابق دباؤ ڈال کر کی گئی ریکوری واپس ہوگی اور کیس چلے گا۔

جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ کیس 2015 کا ہے اور نیب قانون میں ترمیم آٹھ سال بعد ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ نیب ترامیم کا اطلاق ماضی سے کیسے ہو سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پہلے رقم ادا کی اب واپس مانگ رہے ہیں، جبکہ ملزم آدھی رقم تو ادا بھی کر چکا ہے۔

عدالت نے سوال اٹھایا کہ نیب عدالت سے بھی ملزم کی رضاکارانہ رقم واپسی منظور ہو چکی تھی، وہاں کیوں اعتراض نہیں کیا گیا۔

جسٹس حسن اظہر رضوی نے مزید کہا کہ ملزم نے ایک کروڑ روپے ادا کیے جبکہ باقی ایک کروڑ آٹھ لاکھ کے عوض جائیداد گروی رکھوائی گئی۔

وکیل درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ دوران حراست ملزم کے عزیز ملنے آئے تو ان کی جائیداد نیب نے رکھ لی۔ جسٹس کے کے آغا نے ریمارکس دیے کہ یہ سب معمول کے بہانے ہیں۔

سماعت کے دوران وکیل درخواست گزار نے کہا کہ وہ نیب کورٹ سے رجوع کر لیں گے، جس پر عدالت نے قرار دیا کہ وہ آپ کی مرضی ہے۔

وکیل کے مطابق ملزم حسین اللہ کنٹونمنٹ بورڈ راولپنڈی میں تعینات تھا اور اس پر غیرقانونی لیز کے ذریعے کروڑوں روپے کی کرپشن کا الزام تھا۔

Source: https://www.express.pk/story/2813019/hearing-on-appeal-regarding-requirement-of-voluntary-return-of-money-in-corruption-case-2813019/

Discussion

Sign in to join the thread, react, and share images.