اس عید پر بچوں اور خود سے چھوٹوں کو عیدی دینے کا مسلہ بھی نہیں ہوتا
دو تین دن کے بعد ہم سب عید قربان منا رہے ہوں گے، دلوں میں خوشی کا احساس ہے اورزور وشور سے منصوبے بن رہے ہیں ، تیاری تو ہو گئی ہو گی آپ کی… کیا کیا تیاری کی ہے آپ نے؟ کپڑے، جوتے، چوڑیاں، مہندی، دعوتوں کے لیے خوان اور سب سے بڑھ کر قربانی کا جانورخریدنا جس کے لیے گزشتہ کئی ماہ سے ہی بجٹ بن رہا ہوتا ہے کیونکہ عید قربان پر سب سے اہم، قربانی کا جانور ہی ہوتاہے۔
جی تو سب کا چاہتا ہے کہ کپڑوں اور جوتوں سے بڑھ کر رقم قربانی کا جانور خریدنے کے لیے خرچ کی جائے کہ اس سے ہی شان بنتی ہے عید قربان کی۔ ہر سال قربانی کے جانوروں کی قیمتیں متوسط اور سفید پوش طبقے کی استطاعت سے بڑھتی جا رہی ہیں اور جو قربانی کا جانور خریدتے ہیں، وہ بھی جانے اپنے دلوں کے کون کون سے ارمان دفن کر کے خرید پاتے ہیں۔ بچے بالے تو قربانی کے جانور کو چند دن کے لیے بھی ٹہلا کر خوش ہو جاتے ہیں۔
اب دور ایسا ہو گیا ہے کہ قربانی کا جانور سال بھر کے لیے پال کر اسے قربان کرنا ممکن نہیں رہا، گھروں میں جگہ بھی نہیں ہوتی اور نہ ہی کسی کے پاس وقت ، یوںبھی سال بھر کے لیے جو جانور پالنا پڑ جائے تو اس پر بہت خرچہ آجاتا ہے۔ خواہشات حقائق سے ہٹ کر تو نہیں ہوسکتیںاس لیے اب کوئی اس خواہش کوبھی دل میں نہیںپالتا کہ قربانی کا جانور سال بھر پال کر قربان کیا جائے -
اس عید پر بچوں اور خود سے چھوٹوں کو عیدی دینے کا مسلہ بھی نہیں ہوتا، اس لیے اس خرچے سے بے فکری ہوتی ہے۔ سب سے بڑھ کر فکر یہی لاحق ہوتی ہے کہ قربانی کا جانور چھان پھٹک کر لیا جائے،کم از کم دو دانت بھی ہوں ، دانتوں کو بھی ہلا ا کر دیکھا جاتا ہے کہ کہیں مصنوعی دانت نہ لگے ہوئے ہوں ۔
اس کا وزن چیک کیا جاتا ہے … کنڈا وزن کچھ بتا رہا ہو اور جانور کی ظاہری حالت مختلف نظر آتی ہو تو کئی بار کنڈا چیک کیاجاتا ہے کہ کہیں کنڈے میں کوئی خرابی نہ ہو۔ پھر جانور کا پیٹ دبا دبا کر دیکھا جاتا ہے کہ اسے کتنا پانی پلا پلا کر اس کا وزن بڑھانے کی کوشش کی گئی ہے۔
ٹٹول ٹٹول کر جانچا جاتا ہے کہ کہیں کسی مریل بھیڑ کے اوپر بکرے کی کھال کی سلائی نہ کی گئی ہو، کانوں کے اندر اور اس بالو ں میں چیک کیا جاتا ہے کہ اسے جوئیں نہ پڑی ہوئی ہوں، کوئی چوٹ نہ لگی ہو کہ قربانی کے جانور کو بے عیب ہونا چاہیے۔ ایسا اس لیے کرنا پڑتا ہے کہ یہ سب فراڈ ہو رہے ہیں۔
قربانی کا جانور تو بے عیب ہونا چاہیے مگر ہاں ، قربانی کرنے والا… ہر طرح کا چلتا ہے، ریا کار، جھوٹا، بد زبان، ہتھ چھٹ، بد لحاظ، ظالم، ملاوٹ کرنے والا، ناپ تول میں کمی کرنے والا، ایسے دولت مندوں کو دکھاوے کا شوق ہو گا، اس کے پاس جن ذرائع سے پیسہ آتا ہے ، وہ خرچ بھی اس انداز سے ہوتا ہے کہ لوگ دیکھیں، شو شا بنے، جھوٹی شان اور شوکت کے ڈنکے بجیں۔ ایک سے زائد تگڑے بکرے، پوری کی پوری صحت مند گائے، خوبصورت اور مہنگا بکنے والا بچھڑا۔
قربانی کی جس سنت کی ہم تقلید کرتے ہیں اس کی تو کہیں جھلک بھی نظر نہیں آتی، ہم حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت کی تقلید میں قربانی کرتے ہیں جنھوںنے پہلی تین بار خواب میں اشارہ ملنے پر اللہ کی راہ میں اپنے بیٹے کو قربان کرنے پر دل کو آمادہ کیا اور بیٹا بھی ایسا سعادت مند کہ باپ کی خواہش پر کہ اللہ کی رضا اس میں ہے، ہنسی خوشی قربان گاہ کی طرف چل دیا، باپ نے سینے پر پتھر رکھا اور آنکھیں بند کر کے اپنے محبوب بیٹے کی گردن پر چھری چلادی۔
یہ تو اللہ کی طرف سے آزمائش تھی کہ وہ دیکھے کہ اس کا بندہ کس حد تک اس کی خوشنودی کی خاطر جا سکتا ہے ۔ وہ اس بندے کو کیسے اس دکھ میں مبتلا کرسکتا تھا کہ اس کا اتنا محبوب بندہ آنکھ کھولے تو اپنے سامنے اپنے بیٹے کو ذبح ہوا دیکھے۔
اتنی ہی دیر میں کہ جتنی دیر میں انھوں نے اپنے بیٹے کی گردن پر چھری چلائی تھی، فرشتوں نے اس بچے کی جگہ پر ایک دنبہ رکھ دیا تھا جس کی گردن پر چھری چلی تھی اور حضرت اسماعیل علیہ السلام باپ کے پاس کھڑے مسکرا رہے تھے۔
بظاہر ہم کہتے ہیں کہ قربانی سنت ابراہیمی کی تقلید میں ہوتی ہے مگر کیا ہمارے دلوں میں اتنی مضبوط اللہ کی محبت ہوتی ہے اور ہم واقعی دل سے اس نیت سے خرچ کرتے ہیں؟
حقیقت تو یہ ہے کہ جس جانور کو اتنا مہنگا خریدتے ہیں ، ہمارے ذہن میں یہی ہوتا ہے کہ قربان کر کے ہم نے اس کا نصف سے زائد گوشت اپنے ہی پاس رکھ لیناہے کیونکہ اس سے زائد رکھنے کی جگہ نہیں ہوتی اور اس سے کم رکھ کر دل کو تسکین نہیں ہوتی، جوگوشت دوسروں کو دیا جا رہا ہوتا ہے، ا س میں بھی درجہ بندی ہوتی ہے کہ غریب کو دے رہے ہیں تو کیسا ہوگا، چربی اور چھچھڑوں سے بھرا ہوا۔اپنے جیسوں کودیں تو کیسا ہو اور خود سے امیر لوگوں کے ہاں بھجوانا ہو تو اس کا کیا معیار ہوناچاہیے۔
معیار کے خیال کے ساتھ ہی خود سے بہتر رشتہ داروں، دوستوں، باس اور محلے دار وں کا خیال آتا ہے ۔ جانور کے بہترین حصے اپنے پاس ہی رکھ لیے جاتے ہیں، تازہ تازہ کلیجی ناشتے میں پکا کر کھانے کا اپنا ہی لطف ہے اورچانپوں کادن کو پلاؤ بنتا ہے -
رانیں اور دستیاں تو ثابت بنوائی جاتی ہیں کہ ان چار لوگوں کو بھیجیں جن سے ہماری کوئی غرض بندھی ہوئی ہو اورا نہیں خوش کرنامقصود ہو، اس کے بعد باقت کیا بچ جاتا ہے، ا س کا آپ کو بھی علم ہے۔
قربانی کا مقصد ہی ہمیں سمجھ میں نہیں آتا اور نہ ہی ایسا ہے کہ قربانی ہمیں سال میں صرف اسی ایک دن کرنا ہوتی ہے۔ قربانی کا مقصد ہے کہ اپنی وہ چیز کسی اور کو دینا، جس چیز کی ہمیں خود بھی اتنی ہی ضرورت ہو جتنی کہ دوسرے کو ہے۔
اگر وہ چیز ہماری ضرورت سے زائد ہے تو وہ ایسی اور اس حالت میں ہو کہ ہمیں کسی دوسرے کو دیتے وقت اس کے چھن جانے کی ذرا سی کسک ہو مگر دل میں یہ خیال مضبوط ہو کہ ہم یہ اللہ کی رضا اور خوشنودی کے لیے کر رہے ہیں۔
وہ چیز جو ہم نے بڑے شوق سے اپنے لیے خریدی ہو اور کسی دوسرے کو پسند آجائے یا اسے اس کی ضرورت ہو تو ہم اس چیز کو اسے دے دیں، کپڑے، جوتے، فرنیچر، برتن، زیور، پیسہ… غرض اس میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ ہم اتنے تھڑدلے ہوتے ہیں کہ سال ہا سال ان چیزوں کو بھی خود سے لپٹائے رکھتے ہیںجن کے بارے میں ہمیں علم ہوتا ہے کہ وہ ہم شاید کبھی بھی استعمال نہ کر سکیں۔
قربانی ہمیں یہ سکھاتی ہیںکہ بسا اوقات ہمیں اللہ کی راہ میں وہ چیزیں بھی قربان کرنا پڑتی ہیں جن کے بارے میں ہم سوچ بھی نہیں سکتے۔ہماری ضد، ہماری انائیں، ہماری نفرتیں، بڑی بڑی خواہشات، برے جذبات، غصہ، لالچ،تکبر، رسومات، رواج، معاشرتی برائیاں ، ہم سے یہ سب تو قربان کیا نہیں جاتا، کسی دوست یا رشتہ دار کی خاطر، بہن بھائیوں کی خاطر، والدین کی خاطر، مذہب کی خاطر یا ملک کے مفادات کی خاطر، ہم کیا قربان کریں گے یاقربانی کی روح کو سمجھیں گے۔
بس قربانی کی عید منائیں، اچھے اچھے لباس پہنیں، علی الصبح عیدکی نماز پڑھیں اور اس کے بعد شروع ہو جائیں، کلیجی سے لے کر چانپوں کے پلاؤ اور رات کے کھانے میں حلیم کا لطف اٹھائیں، احباب کے ساتھ عید کی خوشیاں منائیں۔ عید الضحی کی اصل روح کو جان کر کیا کرنا ہے، ا س پر کون عمل کرتا ہے!! آپ سب کو عید مبارک!!
Discussion
Sign in to join the thread, react, and share images.