اکلوتی سپر پاور کے سربراہ، صدر ڈونلڈ ٹرمپ ، آج بروز جمعہ بتاریخ 15مئی2026عظیم الشان چین کے دارالحکومت ، بیجنگ ، میں ہیں ۔
اکلوتی سپر پاور کے سربراہ، صدر ڈونلڈ ٹرمپ ، آج بروز جمعہ بتاریخ 15مئی2026عظیم الشان چین کے دارالحکومت ، بیجنگ ، میں ہیں ۔ ٹرمپ صاحب چین کے تین روزہ سرکاری دَورے پر ہیں ۔ وہ 13مئی کو بیجنگ پہنچے تھے اور شائد آج جمعہ کی رات اُن کا دَورہ اختتام کو پہنچ جائے ۔
اِس دَورے پر ساری دُنیا کی نظریں جمی ہیں کہ عظیم المرتبت چین رواں لمحوں میں دُنیا کی واحد ایسی مملکت و حکومت ہے جو اپنی روائتی خاموشی کے ساتھ معاشی ، سیاسی اورعسکری میدانوں میں امریکہ کو چیلنج کر رہی ہے ۔ طے شدہ شیڈول کے مطابق تو ڈونلڈ ٹرمپ کو رواں برس کے پہلے مہینے بیجنگ پہنچنا تھا ، مگر امریکہ و اسرائیل نے فروری کے آخری ایام میں جس طرح متحد ہو کر ایران پر بِلا وجہ اور وحشیانہ حملہ کیا، اِس نے ٹرمپ کے دَورے کو پندرہ مئی تک موخر کر دیا۔ اسرائیل اور امریکہ ایران کی تھیوکریٹک رجیم کو توقعات و خواہشات کے مطابق، شکست نہیں دے سکے ہیں ۔ دُنیا بھر میں اِس کا مطلب یہی اخذ کیا گیا ہے کہ ایران دونوں ،جارح ملکوں کے مقابل، سرخرو ہُوا ہے ۔ ایران کی استقامت اور پامردی نے ساری دُنیا کو حیرت میں مبتلا کررکھا ہے ۔
ویسے تو ڈونلڈ ٹرمپ کی بڑی تمنا تھی کہ وہ ایران سے اپنے آدرشوں اور ڈیزائن کے مطابق کسی معاہدے پر پہنچنے کے بعد ہی بیجنگ پہنچیں گے ، مگر ٹرمپ کی جملہ خواہشات کو ایرانی مذہبی و عسکری قیادت نے مٹّی میں ملا دیا ہے ؛ چنانچہ عالمی تجزیہ کار وں کا بجا ہی کہنا ہے کہ ٹرمپ بیجنگ تو پہنچے ہیں ، مگر نِیم دِلی سے ۔ اِس وقت عالمی میڈیا منتظر ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنے جلَو میں جو مقاصد و اہداف لے کر بیجنگ پہنچے ہیں ( اور مقابلے میں طاقتور چین کے طاقتور صدر، شی جن پنگ، اپنی بغل میں جو مقاصدو اہداف لیے بیٹھے ہیں) ، اِن سب کا نتیجہ کیا نکلتا ہے ؟ رواں لمحات میں دُنیا کا شائد ہی کوئی ایسا الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا ہوگا جو اپنے اپنے انداز میں ٹرمپ کے دَورئہ چین پر اندازے اور قیافے نہ لگا رہا ہو۔ یہی عالمی میڈیا ٹرمپ کے اِس اہم ترین دَورئہ چین بارے جو تجزیئے سامنے لایا ہے ، اگر اِنہیں مختصر ترین انداز میں سامنے رکھا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ امریکی صدر کے دَورئہ بیجنگ کو انگریزی کے تین حروف میں سمیٹا جا سکتا ہے ۔ یہ تین حروف انگریزی کے تین Tsپر مشتمل ہیں: تہران ، ٹریڈ اور تائیوان!!یہی تین موضوعات ٹرمپ کے مقاصدو اہداف کہے جا سکتے ہیں ۔اپنے میزبان چینی صدر ، جناب شی جن پنگ ، کے ساتھ ملاقاتوں اور مذاکرات میں یہی تین موضوعات مرکز و محور بنے ہیں ۔
ٹرمپ نے بیجنگ روانگی سے قبل چین کو ، بین السطور، کئی دھمکیاں بھی دی تھیں اور کئی چینی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کرنے کے بیانات بھی دیے تھے ۔ پچھلے ایک سال کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ پہنچنے والی اربوں ڈالر کی چینی مصنوعات پر متعدد بار جو بھاری ٹیکس اور ٹیرف عائد کر چکے ہیں، یہ سب مناظر اعلیٰ ترین چینی قیادت صبر و تحمل سے ملاحظہ کرتی رہی ہے۔اگر ہم چینی میڈیا بغور دیکھیں تو صاف نظر آتا ہے کہ چینی صدر نے بھی امریکی صدر سے دو دو ہاتھ کرنے کی خوب تیاری کررکھی ہے ۔
اب امریکی و چینی صدور آمنے سامنے ہیں اور دُنیا دَم سادھے نتیجے کے انتظار میں ہے ۔ کہنے کو تو کوئی امریکی صدر 9سال بعد پہلی بار چین پہنچا ہے ،مگر حقائق بتاتے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ پہلی بار نہیں ، بلکہ آج ، مورخہ15مئی ، ساتویں بار چینی صدر شی جن پنگ کے رُوبرو بیٹھ رہے ہیں ۔ دونوں رہنما پہلی بار 6اپریل2017 کو فلوریڈا میں ٹرمپ کی شاندار نجی رہائش گاہMar a Lagoمیں ملے تھے ۔اُس وقت ٹرمپ پہلی بار نئے نئے صدر منتخب ہُوئے تھے ۔اُس وقت بھی ٹرمپ نے چین پر بھاری ٹیکس عائد کیے تھے ، اس لیے یہ ملاقات کوئی خاص خوشگوار نہیں گردانی گئی تھی۔ اِس ملاقات کے بعد ہی ٹرمپ نے شام ( جہاں بشار الاسد کی حکومت تھی اور جسے چائنہ کی بھرپور حمائت حاصل تھی) پر مہلک حملوں کا حکم دیا تھا۔
اِس پہلی ملاقات کے بعد جولائی2017 کو ہیمبرگ ( جرمنی) میں ،جی ٹونٹی کے اجلاس میں، ٹرمپ اور شی جن پنگ دوسری بار رُو برو بیٹھے ۔ دونوں کے درمیان تیسری براہِ راست ملاقات اُس وقت ہُوئی جب 8نومبر2017 کو ڈونلڈ ٹرمپ نے باقاعدہ چین کا سہ روزہ دَورہ کیا ۔اِس دَورے سے ٹرمپ بڑے خوش اور مطمئن واپس آئے تھے کہ ٹرمپ نے اِس دَورے میں دیوارِ چین بھی دیکھی ، چینی صدر اور اُن کی اہلیہ محترمہ کے ساتھ بیٹھ کر بیجنگ کے معروفِ عالم اوپیرا کو بھی انجوائے کیا ، اُنھوں نے بیجنگ کے صدیوں پرانے ’’شہرِ ممنوعہ‘‘ کا بھی دَورہ کیا ، ایک عظیم الشان ڈِنر سے بھی لطف اندوز ہُوئے اور آخر میں چینی صدر سے تنہائی میں خاص ملاقات بھی کی تھی ۔اربوں ڈالرز کی بزنس ڈِیلز بھی کیں ۔ لیکن ٹرمپ پھر بھی چین پر بھاری ٹیرف عائد کرنے سے باز نہ آئے ۔
ٹرمپ اور شی جن پنگ چوتھی باریکم دسمبر2018ء کو ارجنٹینا میں ملے جہاں جی ٹونٹی کی سربراہی کانفرنس ہو رہی تھی ۔ اِسی دوران ٹرمپ نے امریکہ پہنچنے والے 250ارب ڈالر کے چینی سامان پر جب بھاری ٹیرف عائدکیا تو چین نے بھی چین پہنچنے والے 110ارب ڈالرزکے امریکی سامان پر بھاری تر ٹیرف عائد کر کے ترکی بہ ترکی جواب دے ڈالا تھا ۔ 29جون 2019ء کو امریکہ اور چین کے یہ دونوں رہنما پانچویں بار اوساکا (جاپان) میں ملے ۔ یہ موقع بھی جی ٹونٹی سمّٹ ہی کا تھا ۔ اِس ملاقات میں ٹرمپ نے چین پر عائد بھاری ٹیکسز میں کمی کر دی تھی ۔ اور یوں ، بدلے میں، چین نے امریکہ سے 200ارب ڈالر کا سامانِ تجارت خریدا۔ دونوں میں چھٹی ملاقات30اکتوبر2025 کو بوسان ( جنوبی کوریا) میں ہُوئی تھی اور یہی تھی وہ ملاقات جس میں یہ طے پایا تھا کہ دونوں رہنما جنوری 2026میں بیجنگ میں باقاعدہ ملیں گے ۔چارماہ کی تاریخ سے اب یہ ملاقات ظہور میں آ ئی ہے۔ یعنی ہُوئی تاخیر تو کچھ باعثِ تاخیر بھی تھا!
آج بیجنگ میں معیشت و عسکریات کے دو عالمی پہلوان ساتویں بار آمنے سامنے بیٹھے ہیں ۔ یہ ایک غیر معمولی اور تاریخ ساز بیٹھک ہے ۔ ٹرمپ کو BargainاورDealکا ’’بادشاہ‘‘ کہا جاتا ہے اور یوں کہا جارہا ہے کہ اگر ٹرمپ کے پاس چینی قیادت کو دباؤ میں لانے کے لیے Bargaining Chipsہیں تو چینی قیادت بھی خالی ہاتھ نہیں بیٹھی ہے ۔ چین کا دعویٰ ہے کہ مسٹر ٹرمپ اگر چین کو اپنے ڈَھب پر لانے کے لیے کوئی غیر معمولی ہتھکنڈہ بروئے کار لاتے ہیں تو چین کے پاس بھی کئی جوابی حربے ہیں ۔ مثال کے طور پر چین جواباً امریکہ سے اربوں ڈالر کا سویابین نہ خرید کر کسی بھی وقت امریکی کسانوں کی کمر توڑ سکتا ہے ۔
چین، امریکہ کو نادر و نایاب و مہنگی دھاتیں(Rare Earth) فروخت کرنا بند کر سکتا ہے ۔ اِنہی نادر دھاتوں کے محور پر پر جدید ترین امریکی ٹیکنالوجی کا پہیہ گھوم رہا ہے ۔یاد رکھنے والی بات مگریہ ہے کہ امریکی و چینی صدور آج اگر باہم اور آمنے سامنے بیٹھ کر دُنیا کو درپیش اہم ترین معاملات طے کررہے ہیں تو اِن دونوں طاقتوں کو باہم بٹھانے اور ملانے کا تاریخی اور تاریخ ساز کردار پاکستان نے ادا کیا تھا۔ یہ محیر العقول کارنامہ 55سال قبل پاکستان ( زیر نگرانی صدر و جنرل یحییٰ خان) نے نہائت رازداری اور حکمت سے انجام دیا تھا ۔ اور یوں امریکہ و چین پہلی بار سفارتی سطح پر دعا سلام لینے کے اہل ہُوئے تھے ۔
اگر ہم اِس سلسلے میں پاکستان کے نامور دانشور ، مورّخ اور استاد، جناب ایف ایس اعجاز الدین، کی معرکہ خیز اور نقاب کشا کتابFrom a Head. Through a Head, To a Headکا غائر نظر سے مطالعہ کریں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ پاکستان نے چین اور امریکہ میں سفارتی تعلقات قائم کروا کر دونوں ممالک پر ایک احسانِ عظیم کیا تھا، یوں کہ کسی کو کانوں کان خبر بھی نہیں ہونے پائی تھی ۔ امریکی وزیر خارجہ (ہنری کسنجر) رات کے اندھیرے میں راولپنڈی کے ائر پورٹ سے اُڑ کر، تاریخ میں پہلی بار، بیجنگ پہنچ گئے ، مگر دُنیا بے خبر ہی رہی ۔
Discussion
Sign in to join the thread, react, and share images.