ایران امریکا معاہدہ خطے میں عدم استحکام کے خاتمے اور سفارتی حل کی جانب اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے
جی سیون کے سربراہ اجلاس میں رکن ممالک نے ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والے معاہدے کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ بات میزبان ملک فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے جی 7 سربراہی اجلاس کے اختتام پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
انھوں نے مزید کہا کہ جی 7 کے تمام رکن ممالک نے امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ یہ پیش رفت مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔
ایمانوئیل میکرون نے کہا کہ عالمی رہنماؤں کا مشترکہ مؤقف ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والا معاہدہ خطے میں عدم استحکام کے خاتمے اور سفارتی حل کی جانب اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔
انھوں نے لبنان کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہاں فوری، مکمل اور پائیدار جنگ بندی ناگزیر ہے۔ ان کے بقول ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر عمل درآمد کے دوران لبنان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کا ہر صورت تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے۔
فرانسیسی صدر نے بتایا کہ جی 7 اجلاس میں یوکرین کی جنگ بھی اہم موضوع رہی جہاں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ موجودہ حالات میں عسکری اور سفارتی توازن یوکرین کے حق میں تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
ایمانوئیل میکرون نے اجلاس کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی رہنماؤں نے مختلف بین الاقوامی بحرانوں پر مشترکہ حکمت عملی، اتحاد اور تعاون کے عزم کا اعادہ کیا، جو موجودہ عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے انتہائی اہم ہے۔
Discussion
Sign in to join the thread, react, and share images.