معرکہ حق میں سندور کی تاراجی سے دنیا باخبر ہے
دنیا کی تقریباً نصف آبادی کسی نہ کسی شکل میں پانی کی کمی کے خطرے سے دوچار ہے۔ گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں، بارشوں کے نظام تبدیل ہو رہے ہیں اور زیر زمین پانی کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہو رہے ہیں۔ ایسے حالات میں پانی صرف زرعی پیداوار یا گھریلو استعمال کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ غذائی تحفظ، توانائی کی پیداوار اور معاشی استحکام سے بھی براہ راست جڑا ہوا ہے۔
پاکستان کا معاملہ اس حوالے سے مزید حساس ہے۔ ملک کی معیشت کا بڑا حصہ زراعت پر منحصر ہے جب کہ زراعت کا انحصار دریائے سندھ کے نظام پر ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی، پانی کے ضیاع اور ذخیرہ کرنے کی محدود صلاحیت نے ملک کو آبی دباؤ کا شکار بنا دیا ہے۔
ماہرین مسلسل خبردار کر رہے ہیں کہ اگر پانی کے موثر انتظام، نئے آبی ذخائر کی تعمیر اور جدید آبپاشی کے نظام پر توجہ نہ دی گئی تو مستقبل میں یہ مسئلہ قومی سلامتی کے بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
عالمی سطح پر بھی پانی کو تزویراتی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کے رجحانات سامنے آ رہے ہیں۔ بالائی ریاستیں اکثر دریاؤں کے بہاؤ پر اثرانداز ہو کر زیریں ممالک پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کرتی ہیں۔ ایسے حالات میں بین الاقوامی قوانین، آبی معاہدوں اور سفارتی حکمت عملی کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
پانی پر کنٹرول درحقیقت مستقبل کی سیاسی اور معاشی طاقت پر کنٹرول کے مترادف بنتا جا رہا ہے۔پاکستان ایک ایسے آبی بحران کے دہانے پر کھڑا ہے جسے مزید نظر انداز کرنا ممکن نہیں ہے۔ ملک بھر میں پانی کی قلت مسلسل شدت اختیار کر رہی ہے اور اس کے اثرات معیشت، زراعت اور عوامی زندگی پر واضح طور پر نظر آ رہے ہیں۔
سندھ میں دادو کینال کا شدید آبی بحران اور صوبے کے مختلف علاقوں میں خشک سالی تشویش ناک صورتحال اختیار کر چکی ہے۔ دوسری جانب ملک کا سب سے بڑا شہر اور معاشی حب کراچی برسوں سے پانی کی دائمی قلت کا شکار ہے جہاں لاکھوں شہری بنیادی ضرورت کے اس وسیلے تک مناسب رسائی سے محروم ہیں۔
پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان بھی پانی کی قلت اور آبی وسائل کے غیر موثر انتظام جیسے مسائل سے دوچار ہیں۔
موسمیاتی تبدیلی نے اس بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ گلیشیئرز کے پگھلنے کے انداز میں تبدیلی، غیر متوقع بارشیں، طویل خشک سالی اور بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث پانی کی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جب کہ دستیاب آبی وسائل دباؤ کا شکار ہیں، اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو پاکستان کو مستقبل میں شدید غذائی اور معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس صورتحال میں سندھ طاس معاہدے سے متعلق جاری تعطل بھی پاکستان کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ بین الاقوامی معاہدوں کے تحت طے شدہ آبی حقوق کا احترام کیا جانا چاہیے اور کسی بھی یکطرفہ اقدام سے خطے کے کروڑوں لوگوں کی زندگی متاثر ہو سکتی ہے۔
عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے کے حل کے لیے فعال کردار ادا کرے اور بین الاقوامی قوانین و معاہدوں کی پاسداری کو یقینی بنائے۔ امریکا اور دیگر عالمی طاقتوں کو بھی خاموش تماشائی بننے کے بجائے جنوبی ایشیا میں آبی استحکام اور منصفانہ حل کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت کرنی چاہیے۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق ثالثی عدالت کے حالیہ فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے عدالت کے قیام کو ہی غیر قانونی قرار دے دیا۔ نئی دہلی کا کہنا ہے کہ وہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے اپنے فیصلے پر قائم ہے۔
بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق ثالثی عدالت کے حالیہ فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اپنی ہٹ دھرمی برقرار رکھی اور کہا کہ بھارت نے اس’’نام نہاد‘‘ عدالت کو کبھی تسلیم نہیں کیا.
سندھ طاس معاہدے کی مکمل پاسداری اور عالمی بینک کی ثالثی میں پانی کی تقسیم کے اس معاہدہ کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان نے ہمیشہ امن اورقابل قبول کردار ادا کیا ہے لیکن بھارت نے ہمیشہ پست ذہنیت کا ثبوت دیا ہے۔ بھارت نے ہمیشہ یزیدیت کا کردار ادا کرتے ہوئے پاکستان کا پانی روک کر جنگ کا ماحول بنایا ہے،جس میں ہمیشہ رسوا ہوا ہے۔
معرکہ حق میں سندور کی تاراجی سے دنیا باخبر ہے۔اسی شرمندگی کو مٹانے کے لیے بھارت پاکستان کو قحط آب کے مسائل سے دوچار کرنا چاہتا ہے جو اسے مہنگا پڑے گا کیونکہ بھارت کا پانی چین سے آتا ہے اور چین. پاکستان کا دیرینہ دوست ہے،اگر چین نے بھارت کا پانی روک لیا تو بھارت کی آدھی آبادی متاثر ہوگی۔
بھارت ہوش کے ناخن لے،وہ صورتحال کو اس نہج پر مت لائے کہ معاملات مزید پیچیدہ ہوں ، لہٰذا بھارت پر لازم ہے کہ وہ سندھ طاس معاہدے کی مکمل پاسداری کرے اور اس کے مندرجات کے تحت پانی کے مناسب اور جائز استعمال کو یقینی بنائے۔
سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جو پاکستان اور بھارت کے مابین عالمی بینک کی ثالثی سے 1960 میں معاہدہ طے پایا تھا۔ اس کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان پانی کی تقسیم کا ایک مستقل حل اور منصفانہ طریقہ کار بنانا تھا، کیونکہ برصغیر کی تقسیم کے بعد دریاؤں کا نظام مشترکہ تھا۔
معاہدے کے تحت بھارت کو 3 مشرقی دریاؤں بیاس، راوی اور ستلج کا زیادہ پانی ملتا ہے، تینوں مشرقی دریاؤں پر بھارت کا کنٹرول زیادہ ہوگا۔ مقبوضہ کشمیر سے نکلنے والے مغربی دریاؤں چناب اور جہلم اور سندھ کا زیادہ پانی پاکستان کو استعمال کرنے کی اجازت ہوگی۔
معاہدے کے باوجود بھارت کی جانب سے مسلسل اس کی خلاف ورزیاں جاری رہی ہیں، بھارت نے معاہدے کے باوجود پاکستان کو پانی سے محروم رکھا ہے۔ مزید یہ کہ بھارت کو ان دریاؤں کے پانی سے بجلی بنانے کا حق تو ہے لیکن پانی ذخیرہ کرنے یا بہاؤ کو کم کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔
اس معاہدے کی ضرورت 1948 میں اس وقت پیش آئی جب انڈیا کی جانب سے مشرقی دریاؤں کا پانی بند کردیا گیا تھا۔ دونوں ملکوں کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کے باعث عالمی برادری متحرک ہوئی اور 19 ستمبر1960 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس معاہدہ طے پایا۔
اس تناظر میں ایک معروف فرانسیسی اخبار کی حالیہ رپورٹ بھی قابل توجہ ہے جس میں سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو جنوبی ایشیا کے آبی تحفظ کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ معاہدہ دونوں ممالک کی رضامندی کے بغیر ختم یا معطل نہیں کیا جا سکتا اور اس کی قانونی حیثیت بدستور برقرار ہے۔
اخبار نے نشاندہی کی کہ آبی اعداد و شمار اور معلومات کے تبادلے میں رکاوٹ پاکستان کے لیے سیلاب کی پیشگی وارننگ، آبی منصوبہ بندی اور پانی کے موثر انتظام کو متاثر کر سکتی ہے۔
رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ پاکستان کی معیشت اور زرعی نظام بڑی حد تک دریائے سندھ کے پانی پر منحصر ہے، لہٰذا پانی کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنا لاکھوں لوگوں کے روزگار، غذائی تحفظ اور علاقائی استحکام کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
عالمی برادری بالخصوص امریکا پر یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ جنوبی ایشیا میں آبی استحکام کے فروغ اور سندھ طاس معاہدے کی مکمل پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے فعال اور موثر کردار ادا کرے۔
ایک بااثر عالمی قوت اور اہم سفارتی رابطہ کار کے طور پر امریکا دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی، تعمیری مذاکرات اور بین الاقوامی قوانین کے احترام کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔
موجودہ صورتحال محض دو ممالک کے درمیان آبی تنازع نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کے مستقبل، غذائی تحفظ اور علاقائی امن و استحکام سے جڑا ہوا معاملہ ہے، جس کے حل کے لیے عالمی سطح پر سنجیدہ اور مربوط سفارتی کوششوں کی ضرورت ہے۔
Discussion
Sign in to join the thread, react, and share images.