اربو ں ڈالرز کی جائیدادیں اور سرمایہ کاری دبئی اور بیرونی ممالک میں ہورہی ہے
عقلمند اپنے عیب خود دیکھتا ہے،بے وقوفوں کے عیب دنیا دیکھتی ہے،کچھ سمجھ نہیں آرہا کیا ہورہا،کیا ہوچکا ہے یا کیا ہونے جارہا ہے۔ہر طرف ایک انتشار اور ابہام کی سی کیفیت ہے۔حکمراں ہیں کہ عوام کو یقین دلانے کی ہر ممکن کوشش کررہے ہیں کہ پاکستان کی معیشت مستحکم ہورہی ہے،ملک ترقی کررہا ہے،لیکن عوام ششدر ہیں کہ یہ ترقی اُن تک کیوں نہیں پہنچ رہی۔
ان کی حالت ترقی یافتہ پاکستان میں ابتر سے ابتر کیوں ہوتی جارہی ہے۔البتہ آپ حالات و واقعات پر اگر ایک اچٹتی نظر بھی ڈالیں تو آپ دیکھیں گے کہ پاکستان کی اشرافیہ تو ترقی کی اونچی منزلوں پر ہے، مگر عام آدمی کی وہی اجڑی حالت،کیا تضاد ہے؟کیا مذاق ہے؟ایک طرف اربوں ڈالرز کے ہوائی جہاز خریدے جارہے ہیں۔
اربو ں ڈالرز کی جائیدادیں اور سرمایہ کاری دبئی اور بیرونی ممالک میں ہورہی ہے۔اور عام آدمی پریشان ہے کہ وہ اپنی محدود آمدنی میں اپنی کھٹارہ موٹر سائیکل میں 414.78 روپے کا ایک لیٹرپیٹرول ڈلوا کر کتنا سفر طے کرلے گااورپھر دوسرا لیٹر ڈلوانے کے لیے پیسے کابندوبست کیسے کرنا ہے۔
ملک میں ایندھن کے اتنے شدہد بحران کے باوجود حکمرانوں کی عیاشیاں عروج پر ہیں۔ عوام کے رہنما ایک قافلے کی شکل میں باہر نکلتے ہیں،جس میں پچیس تیس کے قریب بہترین گاڑیاں جو پیٹرول کے غرارے کرتی ہیں۔
ان کے قافلے میں محض نمود و نمائش کے لیے ساتھ چل رہی ہوتی ہیں،انھیں نہ مہنگائی کا خوف،نہ لیوی کا جھنجٹ،نہ ٹیکسوں کی ادائیگی کی فکر،ہر چیز مفت،فری پیٹرول،فری گیس،گاڑیاں، ڈرائیورز اور مینٹینس سرکار کی طرف سے اعزازیہ،بے تحاشا سہولیات۔عوام تو ایک لیٹر پیٹرول پر بھی لیوی دے رہے ہیں،مگر یہ ہر طرح کے ٹیکس سے مستثنیٰ۔
سوچنے والی بات یہ ہے کہ انھوں نے ملک و قوم کے لیے ایسا کیا کارنامہ انجام دیا ہے جو اس قدر مراعات کے حقدار و مستحق ٹھہرے۔اس پر طرہ یہ کہ اراکین پارلیمنٹ کے لیے 104 فیملی سو یٹس اور 400 سرونٹ کوارٹرز تعمیر کیے جارہے ہیں جس پر7 ارب10 کروڑ روپے لاگت آئے گی،یہ پروجیکٹ چار بلاکس پر مشتمل ہے جس میں جم، سوئمنگ پول و دیگر پُرتعیش سہولیات بھی میسر ہوں گی۔
پہلے حکمران ڈرتے ڈرتے،چھپ چھپا کے کرپشن کرتے تھے،وہ بھی لاکھو ں کی،لیکن اب پوری ڈھٹائی کے ساتھ اربوں ڈالرکی مسلسل کرپشن کی جارہی ہے۔ یہ ترقیاتی فنڈزتک کھا جاتے ہیں۔آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کا قرضہ ہضم کرجاتے ہیں۔
حتیٰ کہ غریبوں کی زکواۃ تک کھا جاتے ہیں اور پھردعویٰ،پاکستان ترقی کررہا ہے۔کھوکھلا ہی سہی بہرحال وعدہ تو ہے۔پانچ سال سے زیر تعمیر یونیورسٹی روڈ اب بھی زیر ِ تعمیر ہی ہے،مستقل مزاجی دیکھیے عزم و استقلال دیکھیے اور عش عش کیجیے۔
اشیائے خورو نوش سے لے کر ادویات تک بے تحاشا مہنگی کردی گئی ہیں،عام آدمی کا جینا حرام ہوچکا ہے،عام آدمی کے استعمال کی ہر چیز مہنگی کردی گئی ہے اوراشرافیہ کے لیے لگژری گاڑیاں سستی کردی گئی ہیں۔1800cc سے اوپر کی کاروں کے لیے ریگولیٹری ڈیوٹی میں 40 فیصد کمی کی گئی ہے۔
ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی میں بھی تمام درآمد شدہ گاڑیوں پر 7 فیصد سے گھٹا کر6 فیصد کردی گئی ہے۔یہ بظاہر معمولی لگنے والی ایک فیصد کی کمی، زیادہ قیمتی گاڑیوں کے لیے بڑی اہمیت رکھتی ہے۔الیکٹر ک کے بل عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوگئے ہیں۔
گیس کے بل کو بھی الیکٹرک بل کے مساوی کرنے کی پوری کوشش کی جارہی ہے۔بجلی اورگیس دستیاب نہیں، مگر بل کا حجم بڑھتا جارہا ہے،سلیب کا بوجھ الگ ہے،جب حکمرانوں کو اپنے عیش و عشرت کے لیے پیسے درکار ہوتے ہیں۔
بلوں میں ٹیکسوں کا اضافہ کرکے وصول کر لیے جاتے ہیں۔عوام کی کمر ٹوٹ گئی ہے بل ادا کرتے کرتے، مگر بل ادا کرنے سے انحراف ممکن نہیں۔یہ حقیقت حکمرانوں پرآشکارہو چکی ہے کہ عوام پر چاہے جتنا بوجھ ڈال دو۔ان کی بزدلی انھیں آگے بڑھنے نہیں دے گی۔
نوجوان جو کسی بھی معاشرے یا ملک کا سرمایہ اور مستقبل ہوتے ہیں۔ان کو غیر محسوس طریقے سے منشیات کا عادی بنایا جارہا ہے یا دوسرے معنوں میں ناکارہ بنایا جارہا ہے۔تعلیمی ادارے بھی اب اس علت سے محفوظ نہیں رہے۔
ایک انتہائی منظم طریقے سے آئس و دیگر جدید ڈرگ کو باقاعدہ تعلیمی اداروں میں پھیلایا جارہا ہے اور نوجوان طلبا و طالبات میں یہ زہر سرایت کرتا جارہا ہے،سنا تھا کہ پیسہ کمانے کے لیے مافیا کسی بھی حد تک جا سکتی ہے، دیکھا اب ہے۔
یقین آگیا کہ مافیا کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔ شہر کا پورا انفرا اسٹرکچر اُدھڑچکا ہے، ٹوٹی پھوٹی سڑکیں،پانی کا سنگین بحران، پانی سپلائی کا گھناؤنا کھیل جس میں واٹر بورڈ کے اعلیٰ افسران سے لے کر لائن مین تک ملوث ہیں۔
پانی کی مصنوعی قلت نے غیر قانونی، نجی ہائیڈرنٹس کے کاروبار کو چمکا دیا ہے۔منہ مانگے داموں پر ٹینکر فروخت ہورہے ہیں۔ سرکاری ہائیڈرنٹس سے بھی عوام سرکاری نرخ پر پانی حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔ پینے کا پانی عوام سے چھین کر صنعتی اداروں اورکثیرالمنزلہ عمارتوں کو ایک بڑی رقم کے عوض فروخت کیا جارہا ہے،کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔
واٹر بورڈ کے افسران اس تمام معاملات سے بالکل لا تعلق بیٹھے ہیں،انھیں ا س بات سے کوئی غرض نہیں کہ عوام پیاسے مررہے ہیں،ان کا حصہ ان کو مل رہا ہے۔حال ہی میں کے فور منصوبے کے تحت ہونے والے برائے نام کام کو جب ورلڈ بینک کی شکایت پر چیک کیا گیا تودیگر بدعنوانیوں کے علاوہ انکشاف ہواکہ زمین میں دبے پانی کے پائپ کو اوپر سے تو ویلڈ کردیا گیا ہے مگر پائپ کے نچلے حصے پر ویلڈنگ ندارد،پوسٹ مارٹم کے لیے زمین سے نکالی جانے والی لاش نے کرپشن کی تمام کہانیاں بے نقاب کردیں۔
ایک طویل عرصے سے یہ منصوبہ تعطل کا شکار ہے اور لاگت بڑھتی جارہی ہے،کوئی پوچھنے والا نہیں۔سزا اور جزا کا کوئی تصور ہی نہیں رہا ہمارے معاشرے میں۔اسپتالوں میں کرپشن کا ایک نیا منظر ہے،آپ اگر صرف بخار اور کھانسی کے لیے بھی جائیں تو ڈاکٹرز لیب ٹیسٹ کی ایک لمبی فہرست تھما دیتا ہے اوران کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ آپ کو اسپتال میں داخل کرلیا جائے،تاکہ ان کا کمیشن کھرا ہوجائے۔
یہ دیار تو کب کا اجڑچکا،اپنی آزادی تو ہم کب کے کھو چکے۔اس ملک کو تو کوئی اور ہی چلا رہا ہے۔کارندے عیش کررہے ہیں، کراچی جیساپُررونق، بین الاقوامی شہر کھنڈر بنا دیا گیا،جو کسی زمانے میں عروس البلاد کہلاتا تھا،ملک کا پورا نظام تہس نہس ہوچکا ہے۔
صنعتیں تباہ و برباد ہو گئیں،زراعت روبہ زوال ہے۔برآمدات نہ ہونے کے برابر ہیں۔سوچنے والی بات تو یہ ہے کہ ہماری ایسی کون سی مصنوعات ہیں جو ہم برآمد کرسکتے ہیں۔
آمدنی کا ذریعہ سمٹ کر عوام پر لادے جانے والے ٹیکسوں تک محدود ہوگیا ہے،جب اشرافیہ کو پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے،بجلی، گیس اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا جاتا ہے۔
دنیا منتظر ہے کہ عوام کو مزاحمت کرتا ہوا دیکھیں،مگر یہ برداشت کرتے کرتے خودپتھر کے بن گئے ہیں۔پاکستان اب ایک ایسی تماشگاہ بن گیا ہے جہاں اٹھائیس کروڑ تماشائی اپنی بربادی کا تماشا دیکھ رہے ہیں۔بے بسی اور لاچارگی کی اس انتہا پر بس اتنا ہی کہا جاسکتا ہے۔۔
ایک ستم اور میری جان۔۔کہ ابھی جان باقی ہے!
Discussion
Sign in to join the thread, react, and share images.