پنجاب بار کونسل میں مومنہ اقبال کی بہن اور ثاقب چدھڑ کے وکیل میاں علی اشفاق کا لائسنس معطل کرنے کی درخواست پر سماعت
اداکارہ مومنہ اقبال کی بہن رمشا اقبال نے الزام عائد کیا ہے کہ دونوں بہنوں کو ڈرایا اور دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور رات کو گھر میں نامعلوم افراد کی گاڑیاں بھیجی گئیں۔
اداکارہ مومنہ اقبال کی بہن رمشا اقبال نے پنجاب بار کونسل میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پرسوں مومنہ کے سسرال میں نامعلوم بندوں کی گاڑی بھیجی گئی، حکومت کی جانب سے جو سیکیورٹی فراہم کی گئی ہے ان کے الرٹ ہونے پر نامعلوم گاڑی والے بھاگ گئے۔
انہوں نے کہا کہ رات میرے گھر میں بندوں کو بھیجا گیا، ہمیں ڈرایا اور دھمکیاں دی جارہی ہیں تاہم رات کو تھانہ چوہنگ پولیس میں درخواست جمع کروا دی گئی ہے۔
رمشا اقبال نے کہا کہ مومنہ اقبال اور میرے اوپر بے بنیاد اور جھوٹے الزامات عائد کیے گئے، مختلف جگہوں پر جھوٹی درخواستیں دی جا رہی ہیں، میں اپنی بہن کے کیسز کا بہادری کے ساتھ مقابلہ کروں گی۔
پنجاب بار کونسلمیں سماعت
مسلم لیگ (ن) کے رکن صوبائی اسمبلی ثاقب چدھڑ کے وکیل میاں علی اشفاق اور مومنہ اقبال کی بہن رمشا اقبال کا لائسنس معطل کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی اور پنجاب بار کی ڈسپلنری کمیٹی نے مومنہ اقبال اور ثاقب چدھڑ کے وکلا کو کیس سے متعلق میڈیا پر بات کرنے سے روک دیا۔
چئیرمین ڈسپلنری کمیٹی عباس علی چدھڑ کی سربراہی میں چار رکنی کمیٹی نے سماعت کی اور انہوں نے کہا کہ کیس سے جڑا کوئی بھی وکیل کیس کے متعلق میڈیا پر بات نہیں کرے گا۔
چئیرمین ڈسپلنری کمیٹی نے سوال کیا کہ میاں علی اشفاق یہ بتائیے کیا آپ بیرسٹر ہیں، کیا اپ کے پاس بار ایٹ لا کی ڈگری ہے اور کیا آپ نے وہ بار کونسل میں جمع کرائی۔
پنجاب بار کونسل کی ڈسپلنری کمیٹی نے میاں علی اشفاق کو بار ایٹ لا کی ڈگری پیش کرنے کی ہدایت کردی۔
اداکارہ مومنہ اقبال کی بہن رمشا اقبال کے لائسنس معطل کرنے کی درخواست پر عباس علی چدھڑ نے سوال کیا کہ رمشا اقبال وکیل ہوتے ہوئے آسٹریلیا میں ملازمت کر رہی تھیں، قانون کے تحت وکیل ملازمت نہیں کر سکتا تو یہ بتائیے کہ آپ نے وکیل کا یونیفارم پہن کر کتنے انٹرویو دیے۔
ڈسپلنری کمیٹی کو رمشا اقبال نے جواب دیا کہ یونیفارم پہن کر 6 سے 7 انٹرویو دیے، جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا آپ مومنہ اقبال کے کیس میں وکیل ہیں یا صرف بہن ہونے پر بات کی تو اس پر انہوں نے کہا کہ میں مومنہ کی بہن ہونے کے ناطے اس کے ساتھ کھڑی ہوں۔
رمشا اقبال نے کہا کہ مجھ پر جو الزامات لگائے ہیں وہ بے بنیاد ہیں، اگر میں کہیں ملازمت کرتی ہوں تو تصدیقی دستاوایزت پیش کیے جائیں۔
چیئرمین ڈسپلنری کمٹی نے کہا کہ دو پرائیوٹ لوگوں کی لڑائی کو وکلا نے اپنی انا کا مسئلہ بنالیا ہے۔
عباس علی چڈھر نے رمشا اقبال سے سوال کیا کہ کیا آپ نے جو ملازمت کی اس کے متعلق پنجاب بار کو آگاہ کیا تھا، جس پر رمشااقبال نے کہا کہ میں آسٹریلیا میں پڑھ رہی تھی اس کے ساتھ اضافی گھنٹوں میں کام کیا تھا۔
Discussion
Sign in to join the thread, react, and share images.