23 اپریل کو دنیا بھر میں لائبریری اور کاپی رائٹ کا عالمی دن منایا جاتا ہے اور 21 فروری کو ’’عالمی یوم کتاب‘‘ منایا جاتا ہے
23 اپریل کو دنیا بھر میں لائبریری اور کاپی رائٹ کا عالمی دن منایا جاتا ہے اور 21 فروری کو ’’عالمی یوم کتاب‘‘ منایا جاتا ہے، لیکن پاکستان میں بس ان دو دنوں کے حوالے سے کچھ تقریبات منعقد ہوتی ہیں اور بس۔ نہ کتاب بکتی ہے نہ خریدی جاتی ہے۔ 23 اپریل کو گورنمنٹ ڈگری کالج بلاک ایم، نارتھ ناظم آباد میں بھی ایک تقریب منعقد ہوئی جس میں لائبریرین فرحین محمود نے مجھے چیف گیسٹ کی حیثیت سے مدعو کیا، تقریب بہت پروقار تھی، اساتذہ، پرنسپل اور طالبات نے مل کر اس تقریب کو یادگار بنا دیا۔
میں نے اپنی زندگی میں کتاب سے محبت کرنے والی چار شخصیات دیکھی ہیں، پہلی افسانہ نگار مظہرالاسلام کی جو کافی عرصے تک نیشنل بک فاؤنڈیشن کے ایم ڈی رہے ہیں۔ انھوں نے ہی کتاب سے میری محبت اور لگاؤ کو دیکھتے ہوئے بذات خود مجھے ’’بک ایمبیسڈر‘‘ بنایا اور بعد میں اسلام آباد میں یوم کتاب کے حوالے سے ہونے والی تقریبات میں بھی بلوایا کرتے تھے۔ انھوں نے ایک ’’گشتی لائبریری‘‘ کا بھی ڈول ڈالا تھا تاکہ دیہاتوں اور قصبوں میں رہنے والے بھی کتابیں پڑھ سکیں۔ پھر انھوں نے کراچی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بھی کتاب کارنر قائم کیا اور ایک وفاقی وزیر سے اس کا افتتاح کروایا۔ اس تقریب میں میرے علاوہ میرے وہ احباب بھی مدعو تھے جنھیں کتابیں پڑھنے کا جنون ہے۔ مظہرالاسلام کی کتاب سے محبت قابل ستائش ہے۔
دوسرے نمبر پر ہیں محترمہ فرحین محمود جو آج کل بلاک ایم والے کالج میں لائبریرین ہیں۔ ان کا اور میرا تعلق گورنمنٹ ویمن کالج ناظم آباد نمبر 1 سے جڑا۔ دراصل میں نے جن کالجوں میں بھی پڑھایا وہاں میگزین اور ہم نصابی سرگرمیوں کی انچارج رہنے کے علاوہ لائبریری کمیٹی میں بھی شامل رہتی تھی اور لائبریری کی کتب کی خریداری میں بھی میں نے فعال کردار ادا کیا ہے۔ 1998 تک میرا اور فرحین محمود کا ساتھ رہا، لیکن جب میرا ٹرانسفر گورنمنٹ دہلی بوائز کالج میں ہو گیا تو بھی فرحین مجھے بھولی نہیں۔ وہ جب بھی لائبریری کا کوئی فنکشن کرتی ہیں بطور خاص مجھے مدعو کرنا نہیں بھولتیں، فرحین کی ایک خوبی آپ کو بتاؤں، وہ یہ کہ وہ جناتوں کی طرح کام کرتی ہیں، چاہے گھر داری ہو یا کالج کی سرگرمیاں وہ ہر جگہ فعال پائی جاتی ہیں۔
تیسری اور میرے لیے سب سے اہم شخصیت تھی میرے والد مرحوم کی، جنھیں کتابیں پڑھنے کا جنون تھا، وہ انگریزی، فرانسیسی اور اردو کے ماہر تھے۔ شعور کی آنکھ کھلی تو میں نے اپنے اطراف کتابیں اور موسیقی کو دیکھا۔ والد نے محض اپنے شوق کی خاطر باقاعدہ موسیقی کی تعلیم حاصل کی، ان کے ان استاد کا تو میں نام بھول گئی جو ہندو تھے اور بڑے گنی استاد ہونے کے علاوہ بڑے رحم دل اور مزاج شناس تھے اور اپنے شاگردوں میں میرے والد کو بہت پسند کرتے تھے۔ دوسرے استاد تھے استاد امراؤ بندو خاں، میرے والد وائلن اور ستار بہت اچھا بجاتے تھے۔
زیڈ۔اے بخاری صاحب ان کے بچپن کے دوست تھے، سول سروس میں آنے سے پہلے میرے والد شوقیہ تھیٹر میں میوزک دیا کرتے تھے اور بخاری صاحب نسوانی کردار ادا کیا کرتے تھے، کیونکہ ایک تو بخاری صاحب دھان پان سے تھے۔ دوسرے اس دور میں خواتین اسٹیج پر کام نہیں کیا کرتی تھیں۔ ہمارے گھر کا ماحول ادبی تھا، مجھ سے بڑی بہن کی پسندیدہ کتاب الف لیلیٰ تھی جسے وہ کئی بار پڑھ چکی تھیں لیکن ان کا جی نہیں بھرتا تھا۔ وہ مجھ سے سولہ سال بڑی تھیں، لیکن جب میں نے ہوش سنبھالا تو بھی الف لیلیٰ میری بہن کے پاس تھی۔ میری والدہ فارسی اور اردو پڑھی ہوئی تھیں، اسی لیے اردو کی طویل داستانیں انھوں نے پڑھ رکھی تھیں۔ وہ میری دادی کو بھی الف لیلیٰ اور قصہ چہار درویش پڑھ کر سنایا کرتی تھیں، والد صاحب ہر ماہ کتابیں خریدتے تھے اور مختلف لائبریریوں کی ممبر شپ ان کے پاس علیحدہ تھی۔ سول سروس میں آنے کے بعد ان کی دلچسپی صرف کتابوں تک رہ گئی تھی۔ انھوں نے انڈیا میں سول ایوی ایشن جوائن کیا اور ریٹائرمنٹ تک اسی ادارے سے وابستہ رہے۔
بخاری صاحب نے آل انڈیا ریڈیو چنا اور وہیں سے ریٹائرمنٹ لی۔ جب پاکستان بن گیا تو میرے والد سے انگریز افسران نے پوچھا کہ وہ انڈیا میں رہیں گے یا پاکستان جائیں گے؟ انھوں نے پہلی فرصت میں پاکستان کا انتخاب کیا۔ وہ مسلم لیگ کے جلسوں میں باقاعدگی سے شرکت کیا کرتے تھے، ان کی ملاقاتیں قائد اعظم اور نواب زادہ لیاقت علی خان سے بھی تھیں۔ ان کے پاس مسلم لیگ کے ممبر شپ گلابی کارڈ پر قائد اعظم کے دستخط تھے، جسے انھوں نے بڑے سنبھال کر رکھا۔ بعد میں انھوں نے وہ کارڈ مجھے دے دیا جو بہت عرصے تک میرے پاس رہا، پھر ایک دن میری سوتیلی والدہ کے بھانجے زبردستی وہ کارڈ یہ کہہ کر لے گئے کہ وہ مسٹر جناح کے آٹو گراف اپنے بینک میں دکھائیں گے اور پھر چراغوں میں روشنی نہ رہی۔ ان صاحب نے ایک ہفتے بعد والد صاحب کو بتایا کہ وہ آٹو گراف والا کارڈ کہیں راستے میں گر گیا ہے۔ اس بات پر والد نے ٹھیک ٹھاک بیگم کو جھاڑ پلائی کہ انھی کی سفارش پر وہ کارڈ انھیں دیا تھا۔
میرے دونوں بڑے بھائیوں کو بھی کتابیں پڑھنے سے دلچسپی تھی ۔ والد صاحب جب کسی لائبریری سے کوئی کتاب ایشو کروا کے لاتے تھے تو دونوں بھائی بھی پڑھتے تھے اور اگر بڑی بہن میکے آئی ہوئی ہوتی تھیں تو وہ بھی پڑھتی تھیں، البتہ میرے لیے ہمدرد نونہال، تعلیم و تربیت کے علاوہ بہت سی انگریزی اور اردو کی کہانیاں لے کر آتے تھے۔ میں نے اسکول کے زمانے ہی میں باغ و بہار، الف لیلیٰ، قصہ کلیلہ و دمنہ اور سندباد جہازی کے سفر پڑھ ڈالے لیکن مجھے بچوں کے رسالوں میں صرف شمع دہلی والوں کا ’’کھلونا دہلی‘‘ پسند تھا کہ اس میں کہانیوں کا معیار بڑا بلند تھا۔ جب والد صاحب نے دیکھا کہ میں بچوں کی کہانیاں زیادہ دلچسپی سے نہیں پڑھتی تو انھوں نے مجھے انگریزی اور فرانسیسی ناولوں کے تراجم لا کر دینے شروع کیے۔
ایک بار انھوں نے مجھے ایک ناول لا کر دیا جسے جناب ثریا اقبال نے اردو میں ترجمہ کیا تھا، یہ ناول تھا رائیڈر ہیگرڈ کا شہرہ آفاق ناول جوکہ دوحصوں پر مشتمل ہے، پہلا حصہ She اور دوسرا حصہ Return of She، جس کا ترجمہ ’’روح کا سفر‘‘ اور’’ روح کی واپسی‘‘ کے نام سے کیا گیا تھا۔ کیا لاجواب ناول تھا۔ اس ناول کا ترجمہ کئی زبانوں میں ہوا ہے، خاص کر عربی میں اس کا ترجمہ ’’عذرا‘‘ اور ’’عذرا کی واپسی‘‘ کے نام سے کیا گیا ، بڑی دلچسپ اور منفرد کہانی ہے۔ کچھ عرصہ قبل ایک ہفت روزہ میں اس پرچے کے مدبر نے رائیڈر ہیگرڈ کی اس معرکۃ الآرا تصنیف کو ’’شعلوں کا کفن‘‘ کے نام سے اپنے نام سے شائع کردیا۔ میرے علاوہ اور بھی جاننے والوں نے ان کی یہ چوری پکڑ لی۔ کتابوں سے میری محبت آج تک کم نہیں ہوئی، پھر ایک امریکی نژاد برطانوی مصنف ہنری جیمس کی تصنیف The Portrait of a Lady کا ترجمہ پڑھا، ’’ہمیں چراغ ہمیں پروانے‘‘ کے نام سے جسے میری محبوب ادیبہ قرۃ العین حیدر نے کیا تھا۔ اب کتابیں بہت مہنگی ہو گئی ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ لوگ دو ہزار کا پیزا خوشی سے خرید لیتے ہیں لیکن ہزار یا پانچ سو روپے کی کتاب کوئی نہیں خریدتا، لائبریریاں دن بہ دن کم کیا ختم ہوتی جا رہی ہیں، لوگ موبائل میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔
چوتھی شخصیت ہے میرے شریک حیات قاضی محمد اختر جوناگڑھی کی جو شاعر بھی تھے، صاحب دیوان، ادیب بھی تھے، صحافی بھی تھے اور زبردست مترجم بھی۔ انھیں اردو سے انگریزی اور انگریزی سے اردو دونوں زبانوں پر عبور تھا۔ انھیں مرحوم کہنے کو میرا جی نہیں چاہتا، حافظہ اس غضب کا تھا کہ جو چیز ایک بار پڑھ لیتے وہ ان کی یادداشت میں محفوظ ہو جاتی، برمحل اشعار کے استعمال میں ان جیسا دوسرا کوئی نہ دیکھا۔ دیوان غالب انھیں ازبر تھا، میں اکثر ان کا امتحان لینے کے لیے دیوان کا کوئی مصرعہ پڑھتی، وہ فوراً دوسرا مصرعہ کہہ دیتے۔ اکثر کہتے ’’دیوان غالب کو حفظ کرنے میں، میں نے اپنی آنکھیں جلائی ہیں‘‘ جو کتاب اچھی لگتی خرید لاتے، ہم دونوں کا شوق یکساں تھا اور ذہنی ہم آہنگی کا یہ عالم تھا کہ جو بات وہ سوچ رہے ہوتے میں اسے کہہ دیتی، اسی طرح کوئی بات اگر میرے ذہن میں آئی تو انھوں نے اسے الفاظ کا روپ دے دیا، رات کو کھانا کھانے کے بعد جب تک کوئی کتاب نہ پڑھ لیتے انھیں نیند نہ آتی، چھٹی والے دن کہیں نہیں جاتے تھے۔ اخبار پڑھنے کے بعد ناشتے سے فارغ ہو کر یا تو کسی کتاب یا مضمون کا ترجمہ کرنے بیٹھ جاتے یا پھر شعر کہنے کو جی چاہا اور تین چار اشعار تو فوراً ہو جاتے تھے۔ ان کے جانے کے بعد میری زندگی بہت تکلیف دہ ہو گئی۔ بس یوں سمجھ لیجیے کہ:
ایسا کہاں سے لاؤں جو تجھ سا کہیں جسے
Discussion
Sign in to join the thread, react, and share images.