توانائی کا شعبہ بدستور آئی ایم ایف کی تشویش کا مرکز بنا ہوا ہے
پاکستان نے آئی ایم ایف کے پروگرام کے تحت عائد بیشتر شرائط پر مکمل یا جزوی عملدرآمد کر لیا ہے تاہم توانائی، نجکاری اور ٹیکس نیٹ کی توسیع جیسے شعبوں میں پیش رفت تاحال سست روی کا شکار ہے۔
باخبر ذرائع کے مطابق حکومت نے متعدد اہم اصلاحات پر پیش رفت دکھائی ہے جسے آئی ایم ایف کے ساتھ جاری مذاکرات میں مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ کر کے انہیں لاگت کے قریب لانے کی شرط پر جزوی عملدرآمد مکمل کیا جا چکا ہے۔
اسی طرح روپے کی قدر پر مصنوعی دباؤ کم کر کے ایکسچینج ریٹ کو بڑی حد تک مارکیٹ بنیادوں پر چھوڑ دیا گیا ہے، جسے فنڈ کے اہم مطالبات میں شمار کیا جاتا تھا۔
اسٹیٹ بینک کی خودمختاری سے متعلق قانون سازی اور اصلاحات کو بھی نافذ کیا گیا ہے جب کہ اضافی ٹیکس اقدامات کے ذریعے محصولات میں اضافے کی کوشش کی گئی ہے۔
نان فائلرز اور غیر دستاویزی معیشت کے خلاف کارروائیاں بھی تیز کی گئی ہیں تاکہ ٹیکس نیٹ کو وسعت دی جا سکے۔
تاہم بعض شعبوں میں اہداف مکمل طور پر حاصل نہیں ہو سکے۔ زرعی آمدنی ٹیکس سے متعلق قوانین میں ترامیم تو کی گئیں مگر ان پر مؤثر عملدرآمد ابھی باقی ہے۔
آئی ایم ایف کی جائزہ رپورٹ، پاکستانی معیشت میں بہتری مگر مشرق وسطیٰ کی جنگ کو خطرہ قرار دے دیا
آئی ایم ایف اور حکومت میں بجٹ مذاکرات شروع، 15 ہزار 300 ارب روپے اکٹھا کرنے کا ہدف
بجٹ 2026-27 آئی ایم ایف شرائط اور مشاورت سے تیار کیے جانے کا امکان
ایف بی آر کی ڈیجیٹلائزیشن اور پوائنٹ آف سیل نظام پر کام جاری ہے لیکن ٹیکس دہندگان کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو سکا۔
توانائی کا شعبہ بدستور آئی ایم ایف کی تشویش کا مرکز بنا ہوا ہے۔ حکومت گردشی قرضہ کم کرنے میں مکمل کامیابی حاصل نہیں کر سکی جبکہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری اور تنظیمِ نو کا عمل بھی سست رفتار ہے۔
ذرائع کے مطابق خسارے میں چلنے والے متعدد سرکاری اداروں پر مالی بوجھ کم کرنے کے اقدامات بھی محدود نتائج دے سکے ہیں اگرچہ پی آئی اے کی نجکاری کا عمل آخری مراحل میں بتایا جا رہا ہے۔
حکومت نے توانائی شعبے میں سبسڈیز محدود کی ہیں، تاہم مکمل ہدفی سبسڈی نظام ابھی نافذ نہیں ہو سکا۔ اسی طرح صوبائی مالیاتی سرپلس کے اہداف بھی مکمل طور پر حاصل نہیں کیے جا سکے۔
ذرائع کے مطابق درآمدی پابندیوں اور زرِ مبادلہ پر عائد مصنوعی کنٹرول میں نرمی کی گئی ہے، لیکن آئی ایم ایف مکمل آزاد مارکیٹ نظام کے نفاذ پر زور دے رہا ہے۔
ماحولیاتی مالیاتی اصلاحات کے لیے پالیسی فریم ورک تیار کیا جا چکا ہے تاہم اس پر عملی پیش رفت ابتدائی مرحلے میں ہے۔
حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اصلاحات کا عمل جاری ہے اور آئندہ جائزہ مذاکرات تک مزید پیش رفت متوقع ہے جبکہ معاشی استحکام کے تسلسل کے لیے آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط پر عملدرآمد ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے۔
Discussion
Sign in to join the thread, react, and share images.