Native World News

سندھ اسمبلی اجلاس: حکومتی اور اپوزیشن ارکان کی بجٹ پر تفصیلی بحث

سندھ اسمبلی اجلاس: حکومتی اور اپوزیشن ارکان کی بجٹ پر تفصیلی بحث

ترقیاتی منصوبوں، تعلیم، صحت، زراعت، بلدیاتی اختیارات اور امن و امان سمیت مختلف امور پر اپنے خیالات کا اظہار کیا گیا

کراچی: سندھ اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ پر تفصیلی بحث کرتے ہوئے ترقیاتی منصوبوں، تعلیم، صحت، زراعت، بلدیاتی اختیارات اور امن و امان سمیت مختلف امور پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

پیپلز پارٹی کی رکن شازیہ کریم نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا مسلسل بجٹ پیش کرنا سیاسی استحکام کی علامت ہے۔ انہوں نے کراچی اور لاہور کا موازنہ کرنے والوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ شہری سندھ کی نمائندگی کا دعویٰ کرنے والوں نے بجٹ کا بائیکاٹ کیا اور کراچی کے بنیادی مسائل پر کبھی مؤثر آواز نہیں اٹھائی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کی تقسیم کی باتیں ناقابل قبول ہیں اور لیاری سمیت مختلف علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے۔

پیپلز پارٹی کی رکن یاسمین شاہ نے کہا کہ شاہراہ بھٹو کراچی کے عوام کے لیے ایک بڑا تحفہ ہے۔ انہوں نے زرعی آمدنی پر عائد ٹیکس کو 43 فیصد سے کم کرکے 20 فیصد کرنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ زراعت اس وقت مشکلات کا شکار ہے اور سندھ کی معیشت کا انحصار بڑی حد تک زرعی شعبے پر ہے۔ انہوں نے بدین کے لیے مختص دو ارب روپے کے اجراء اور ضلع میں آئی بی اے سکھر کے زیر انتظام کالج کے قیام کا مطالبہ بھی کیا۔

ایم کیو ایم کے عامر صدیقی نے بجٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کراچی سے ٹیکس وصول کیا جاتا ہے لیکن شہر کے منتخب نمائندوں کو اختیارات نہیں دیے جاتے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تعلیم اور صحت کے لیے مختص خطیر فنڈز کے باوجود عوام کو مطلوبہ سہولیات میسر نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اٹھارویں ترمیم سے عوام کو فائدہ نہیں پہنچا اور کراچی سمیت سندھ بھر میں بلدیاتی اداروں کو وسائل منتقل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے میئر کراچی کے لیے 200 ارب روپے مختص کرنے اور غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی کا مطالبہ کیا۔

پیپلز پارٹی کے محمد آصف خان نے کیماڑی اور ملحقہ علاقوں میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پانی کی نئی لائنیں بچھائی جا رہی ہیں، ڈسپنسریوں کو اسپتالوں میں تبدیل کیا جا رہا ہے اور شاہراہ بھٹو کو قیوم آباد سے بندرگاہ تک توسیع دی جائے گی۔ انہوں نے جدید بسوں کی فراہمی پر سندھ حکومت کو خراج تحسین پیش کیا۔

پیپلز پارٹی کے پارس ڈیرو نے سانگھڑ میں این آئی سی وی ڈی کے قیام اور اساتذہ کی بھرتیوں کے منتظر امیدواروں کے مسائل حل کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بے نظیر ہاری کارڈ کے ذریعے کسانوں کو نمایاں سہولتیں فراہم کی گئی ہیں۔

سردار خان چانڈیو نے قمبر ضلع میں زچگی کی سہولیات بڑھانے، امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے اور وزراء کو براہ راست عوام کے درمیان جا کر مسائل سننے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ آئی بی اے نے دیہی علاقوں کے نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا کیے ہیں اور وزیراعلیٰ سندھ کو تھانوں اور سرکاری اداروں کے دورے کرنے چاہئیں۔

ایم کیو ایم کے عادل عسکری نے تعلیم اور صحت کے شعبوں میں مختص بجٹ کے مؤثر استعمال پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر آئندہ چند برسوں میں تعلیم پر خصوصی توجہ نہ دی گئی تو صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔ انہوں نے شاہراہ بھٹو منصوبے میں مبینہ بے ضابطگیوں، سندھ پبلک سروس کمیشن کے معاملات، سرکاری اخراجات اور صنعتی علاقوں کے مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ کورنگی انڈسٹریل ایریا سمیت صنعتی زونز کی بحالی اور ترقی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔

اجلاس کے دوران حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان بجٹ، ترقیاتی فنڈز، بلدیاتی اختیارات، زراعت، تعلیم، صحت اور کراچی کے مسائل پر سخت جملوں کا تبادلہ بھی دیکھنے میں آیا، جبکہ بجٹ پر بحث کا سلسلہ جاری رہا۔

Source: https://www.express.pk/story/2818284/karachi-in-the-sindh-assembly-budget-session-government-and-opposition-members-held-a-detailed-discussion-on-the-budget-for-the-fiscal-year-2026-27-2818284

Discussion

Sign in to join the thread, react, and share images.