ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل نے آئل سیکٹر میں مبینہ ٹیکس چوری کا معاملہ بے نقاب کردیا ہے، ذرائع
وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) اینٹی کرپشن سرکل نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جنگی صورت حال کے دوران ملکی آئل سیکٹر میں مبینہ ٹیکس چوری کا معاملہ بے نقاب کردیا گیا۔
ایکسپریس نیوز کو ذرائع نے بتایا کہ پیٹرولیم مصنوعات درآمد کرنے والی کمپنی پر ٹرمینل ون پر اربوں روپے ٹیکس چوری کا الزام ہے، جس نے 32 ہزار ٹن سے زائد ہائی اوکٹین فیول بغیر ٹیکس ادا کیے چوری چھپے فروخت کیاگیا۔
ذرائع کے مطابق ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل کراچی نے مبینہ طور پر کسٹمز بانڈڈ پیٹرولیم مصنوعات کی غیرقانونی فروخت اور سرکاری محصولات میں بڑے پیمانے پر خردبرد کے الزام میں 24 جون 2026 کو مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ درآمد شدہ پیٹرولیم مصنوعات جو کسٹمز بانڈڈ گوداموں میں محفوظ تھیں، انہیں قانونی تقاضے پورے کیے بغیر فروخت اور منتقل کیا جاتا رہا، قانون کے مطابق ایسی مصنوعات کو کسٹمز ڈیوٹی، ٹیکسز اور پیٹرولیم لیوی کی ادائیگی اور متعلقہ گڈز ڈیکلریشن کے بغیر نہ تو منتقل اور نہ ہی فروخت کیاجاسکتا ہے۔
ایف آئی اے کا مؤقف ہے کہ تحقیقات کے دوران شواہد سامنے آئے ہیں کہ بعض افراد نے مبینہ طور پر ملی بھگت کے ذریعے بانڈڈ پیٹرولیم مصنوعات کو غیرقانونی طور پر ملک کے مختلف حصوں میں منتقل کیا اور سرکاری ریکارڈ میں مبینہ ردوبدل کرکے اصل اسٹاک اور ترسیل کی تفصیلات چھپانے کی کوشش کی گئی۔
ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ کسٹمز اور دیگر متعلقہ اداروں کے ریکارڈ کے تقابلی جائزے کے دوران ہزاروں میٹرک ٹن پیٹرولیم مصنوعات کا فرق سامنے آیا، جس سے قومی خزانے کو اربوں روپے کے نقصان کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، تحقیقات کے مطابق بعض افسران نے مشترکہ معائنے کے دوران مطلوبہ ریکارڈ فراہم کرنے سے گریز کیا اور اسٹاک کی تصدیق میں رکاوٹیں ڈالیں، جس کے باعث مزید شکوک و شبہات پیدا ہوئے۔
مقدمے میں کسٹمز ایکٹ 1969، تعزیراتِ پاکستان کی مختلف دفعات اور انسدادِ بدعنوانی قوانین کے تحت کارروائی شروع کی گئی ہے۔
ایف آئی اے حکام کا کہنا تھا کہ معاملے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور شواہد کی روشنی میں مزید گرفتاریاں اور قانونی کارروائیاں متوقع ہیں۔
حکام کے مطابق یہ کیس ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد، ذخیرہ اندوزی اور ترسیل کے نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں کی ایک بڑی مثال قرار دیا جا رہا ہے، جس کے ملکی معیشت اور سرکاری محصولات پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، تحقیقات میں سامنے آنے والے شواہد کی روشنی میں متعدد افراد کو مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق ملزمان میں گو پیٹرولیم لمیٹڈ اور ٹرمینل ون لمیٹڈ کے اعلیٰ عہدیداران شامل ہیں، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے باہمی ملی بھگت سے کسٹمز بانڈڈ پیٹرولیم مصنوعات کو غیرقانونی طور پر فروخت اور منتقل کیا، جعلی یا گمراہ کن ریکارڈ تیار کیا اور سرکاری محصولات کی ادائیگی سے بچنے کے لیے مختلف طریقے استعمال کیے۔
مقدمے میں کہا گیا ہے کہ اس مبینہ فراڈ کے نتیجے میں قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا جبکہ کسٹمز ڈیوٹی، ٹیکسز اور پیٹرولیم لیوی کی مد میں واجبات ادا نہیں کیے گئے۔
ایف آئی اے نے مقدمے میں کسٹمز ایکٹ 1969 کی دفعہ 156، تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 409، 420، 468، 471، 109 اور 34، جبکہ انسداد بدعنوانی ایکٹ 1947 کی متعلقہ دفعات شامل کی ہیں۔
ایف آئی آر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تحقیقات کے دوران اگر کسٹمز، اوگرا یا دیگر اداروں کے کسی افسر یا اہلکار کا کردار سامنے آیا تو اس کے خلاف بھی قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی،کیس کی مزید تفتیش جاری ہے اور ریکارڈ، مالی لین دین اور متعلقہ افراد کے کردار کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے اور تحقیقات کی روشنی میں مزید گرفتاریاں اور نئے انکشافات سامنے آنے کا امکان ہے۔
Discussion
Sign in to join the thread, react, and share images.