بچوں سے مشقت کے خاتمے کا سب سے مؤثر ذریعہ تعلیم ہے
ہر سال 12 جون کو دنیا بھر میں بچوں سے مشقت کے خلاف عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد عالمی برادری کی توجہ اس سنگین مسئلے کی جانب مبذول کرانا ہے جو لاکھوں بچوں کے بچپن، تعلیم، صحت اور مستقبل کو نگل رہا ہے۔
بچے کسی بھی قوم کا سرمایہ، مستقبل کے معمار اور سماج کی امید ہوتے ہیں مگر بدقسمتی سے دنیا کے کئی ممالک کی طرح پاکستان میں بھی لاکھوں بچے، کتابوں اور کھلونوں کے بجائے بھاری بوجھ اٹھانے، ورکشاپوں میں کام کرنے، ہوٹلوں میں برتن دھونے اور فیکٹریوں میں مشقت کرنے پر مجبور ہیں۔
بچپن زندگی کا سب سے خوبصورت دور ہوتا ہے۔ یہ سیکھنے ،کھیلنے، خواب دیکھنے اور شخصیت کی تعمیر کا زمانہ ہے مگر جب ایک کم عمر بچہ اپنے ننھے ہاتھوں سے مزدوری کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے تو اس کا بچپن اس سے چھن جاتا ہے، وہ عمر جس میں اسے سکول کی راہداریوں میں دوڑنا چاہیے، وہ کسی ورکشاپ کے شور میں گم ہو جاتی ہے۔
جس وقت اسے دوستوں کے ساتھ کھیلنا چاہیے، وہ روزگار کی فکر میں الجھا ہوتا ہے۔ یوں ایک بچہ صرف مزدور نہیں بنتا بلکہ اس کے خواب، صلاحیتیں اور مستقبل بھی متاثر ہوتے ہیں۔
بین الاقوامی ادارہ محنت (ILO) کے مطابق دنیا بھر میں کروڑوں بچے مختلف اقسام کی مزدوری میں مصروف ہیں۔ ان میں سے بہت سے بچے خطرناک حالات میں کام کرتے ہیں جہاں ان کی جسمانی اور ذہنی صحت کو شدید خطرات لاحق ہوتے ہیں۔
بعض بچے کانوں، بھٹوں، کیمیکل فیکٹریوں اور دیگر ایسے مقامات پر کام کرتے ہیں جہاں بالغ افراد کے لیے بھی کام کرنا مشکل ہوتا ہے۔ یہ صورتحال انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے کیونکہ ہر بچے کو محفوظ ماحول، تعلیم اور بہتر زندگی کا حق حاصل ہے۔
پاکستان میں بچوں سے مشقت کی بنیادی وجوہ میں غربت، بے روزگاری، مہنگائی، ناخواندگی اور سماجی عدم مساوات شامل ہیں۔ جب ایک خاندان اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہوتا ہے تو وہ اپنے بچوں کو بھی کمانے کے لیے کام پر بھیج دیتا ہے۔
والدین کی مجبوری اپنی جگہ مگر اس کا خمیازہ بچہ پوری زندگی بھگتتا ہے۔ تعلیم سے محروم رہنے والا بچہ اکثر عمر بھر کم آمدنی والے کاموں تک محدود رہ جاتا ہے اور یوں غربت کا یہ چکر ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتا رہتا ہے۔
اس مسئلے کا ایک افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ بعض اوقات سماج بچوں سے مزدوری کو معمول کی بات سمجھنے لگتا ہے۔ چائے کے ہوٹل پر کام کرتا ہوا بچہ، گاڑیوں کے شیشے صاف کرتا ہوا کم سن لڑکا یا گھروں میں ملازمت کرتی ہوئی بچی ہمیں روزمرہ زندگی کا حصہ دکھائی دیتی ہے۔
ہم ان مناظر کو دیکھتے ہیں مگر ان کے پیچھے چھپی محرومیوں اور مسائل پر کم ہی غور کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر مزدور بچہ ہماری اجتماعی ناکامی کی علامت ہے۔
حکومت نے بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے مختلف قوانین بنائے ہیں۔ پاکستان میں بھی کم عمر بچوں سے خطرناک کام لینے پر پابندی عائد ہے اور تعلیم کو بنیادی حق قرار دیا گیا ہے تاہم قوانین کی موجودگی کافی نہیں ہوتی، ان پر مؤثر عملدرآمد بھی ضروری ہے۔
جب تک نگرانی کا نظام مضبوط نہیں ہوگا اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا نہیں ملے گی تب تک مسئلہ مکمل طور پر حل نہیں ہو سکے گا۔
بچوں سے مشقت کے خاتمے کے لیے صرف حکومت ہی نہیں بلکہ پورے سماج کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ والدین کو تعلیم کی اہمیت سمجھنا ہوگی، اساتذہ کو سکول چھوڑنے والے بچوں پر توجہ دینی ہوگی، سماجی تنظیموں کو آگاہی مہم چلانی ہو گی اور کاروباری اداروں کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ ان کے ہاں کسی بچے سے مزدوری نہ لی جائے۔
اس طرح عام شہری بھی اپنی ذمے داری ادا کر سکتے ہیں، اگر ہم کسی کم سن بچے کو خطرناک حالات میں کام کرتے دیکھیں تو متعلقہ اداروں کو اطلاع دیں اور ایسے رویوں کی حوصلہ شکنی کریں جو بچوں کے استحصال کا سبب بنتے ہیں۔
بچوں سے مشقت کے خاتمے کا سب سے مؤثر ذریعہ تعلیم ہے۔ ایک تعلیم یافتہ بچہ نہ صرف اپنا مستقبل سنوار سکتا ہے بلکہ اپنے خاندان اور سماج کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
جب بچوں کو معیاری اور مفت تعلیم کے مواقع میسر ہوں گے تو مزدوری کی شرح میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک نے تعلیم کو اپنی اولین ترجیح بنایا اور بچوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا۔
12 جون کا دن ہمیں صرف ایک مسئلے کی یاد دہانی نہیں کراتا بلکہ ایک عہد کی دعوت دیتا ہے۔ یہ دن ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم اپنے بچوں کو کیسا مستقبل دینا چاہتے ہیں۔ کیا ہم انھیں مزدوری کی زنجیروں میں جکڑا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں یا علم، شعور اور ترقی کی راہوں پر گامزن اس سوال کا جواب ہماری اجتماعی ترجیحات میں پوشیدہ ہے۔
ایک مہذب اور ترقی یافتہ سماج وہی ہوتا ہے جو اپنے بچوں کی حفاظت کرے، ان کی تعلیم کا بندوبست کرے اور انھیں اپنی صلاحیتیں نکھارنے کے مواقع فراہم کرے، اگر ہم واقعی روشن مستقبل کے خواہاں ہیں تو ہمیں بچوں سے مشقت کے خلاف عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔
ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ کسی بھی بچے کے ہاتھ میں اوزار، اینٹ یا برتن نہیں بلکہ کتاب ہونی چاہیے۔ اس کے چہرے پر تھکن نہیں بلکہ مسکراہٹ ہونی چاہیے۔ اس کی زندگی مشقت کے بوجھ تلے نہیں بلکہ امیدوں اور خوابوں کی روشنی میں پروان چڑھنی چاہیے۔
یہ مسئلہ صرف ترقی پذیر ممالک تک محدود نہیں تاہم غربت اور وسائل کی غیرمساوی تقسیم نے اسے ہمارے جیسے ممالک میں زیادہ سنگین بنا دیا ہے۔ پاکستان کے دیہی علاقوں میں آج بھی ایسے بے شمار بچے موجود ہیں جو کھیتوں، بھٹوں اور چھوٹی صنعتوں میں کام کرتے ہیں۔
بعض اوقات والدین کو یہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ وہ اپنے بچوں کو جس راستے پر ڈال رہے ہیں وہ ان کے لیے مستقبل کے دروازے بند کر سکتا ہے۔ ایک بچہ جو تعلیم سے محروم رہ جاتا ہے، وہ نہ صرف اپنی صلاحیتوں کے اظہار سے محروم ہوتا ہے بلکہ پورا سماج بھی اس کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کا موقع کھو دیتا ہے۔
بچوں کی مزدوری کا ایک اور المناک پہلو یہ ہے کہ اس سے ان کی جسمانی اور ذہنی نشوونما متاثر ہوتی ہے۔ مسلسل محنت، طویل اوقات کار اور نامناسب ماحول ان کی صحت پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔
کئی بچے کم عمری میں ہی مختلف بیماریوں، غذائی قلت اور نفسیاتی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یوں ان کا حال ہی نہیں بلکہ مستقبل بھی خطرے سے دوچار ہو جاتا ہے۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ بچوں سے مشقت صرف ایک معاشی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی وقار اور سماجی انصاف کا مسئلہ ہے۔ ایک ایسا سماج جو اپنے کمزور ترین افراد یعنی بچوں کے حقوق کا تحفظ نہیں کر سکتا وہ حقیقی معنوں میں ترقی یافتہ نہیں کہلا سکتا۔
اس لیے ضروری ہے کہ ریاست، تعلیمی ادارے، سماجی تنظیمیں، ذرائع ابلاغ اور عام شہری مل کر ایسا ماحول پیدا کریں جہاں کوئی بچہ مجبوری کے باعث مزدوری کرنے پر مجبور نہ ہو اور ہر بچے کو اپنی صلاحیتوں کے مطابق آگے بڑھنے کا موقع مل سکے۔
بچوں سے مشقت کا خاتمہ صرف ایک سماجی ضرورت نہیں بلکہ ایک اخلاقی ذمے داری بھی ہے۔ 12 جون کے موقع پر ہم سب کو یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہر بچے کے حق تعلیم اور حق تحفظ کے لیے اپنی آواز بلند کریں گے کیونکہ جب ایک بچے کا بچپن محفوظ ہوتا ہے تو دراصل پوری قوم کا مستقبل محفوظ ہوتا ہے۔
Discussion
Sign in to join the thread, react, and share images.