Native World News

مریخ پر زندگی کا اشارہ؟ ناسا روور کی بڑی دریافت سامنے آگئی

مریخ پر زندگی کا اشارہ؟ ناسا روور کی بڑی دریافت سامنے آگئی

ناسا کے پرزیورینس روور نے مریخ کی چٹانوں میں پیچیدہ کاربن مالیکیولز دریافت کیے ہیں

ناسا کے پرزیورینس روورنے مریخ کی چٹانوں میں پیچیدہ کاربن مالیکیولز دریافت کیے ہیں جو پہلے ہی اس لیے زیرِ بحث ہیں کہ ان میں قدیم خردبینی زندگی کے ممکنہ نشانات موجود ہو سکتے ہیں۔

روور کے شرلوک آلے کے ذریعے حاصل کردہ پیمائشوں میں برائٹ اینجل آؤٹ کراپ کی مٹی پتھریلی چٹانوں میں نامیاتی کاربن کی موجودگی سامنے آئی ہے۔ یہ مقام نیریٹوا ویلِس کے ساتھ واقع ہے، جو ایک خشک ہو چکا دریا ہے اور اربوں سال قبل پانی کو مریخ کے جیزیرو کریٹر تک لے جاتا تھا۔

دریافت ہونے والے کاربن کی یہ شکل میکرو مالیکیولر کاربن (ایم ایم سی) کہلاتی ہے جو بعض اوقات زندہ جانداروں سے بھی جنم لے سکتی ہے۔ تاہم، ماہرین کے مطابق یہ مادہ جغرافیائی عمل کے نتیجے میں بھی بن سکتا ہے اس لیے اس کی موجودگی کو مریخ پر ماضی کی زندگی کا حتمی ثبوت قرار نہیں دیا جا سکتا۔

ایریزونا کے پلینیٹیری سائنس انسٹیٹیوٹ کی ڈاکٹر ایشلے مرفی کے مطابق ایم ایم سی مختلف اقسام کے ماحول اور چٹانوں میں پایا جا سکتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ حیاتیاتی ذرائع سے بھی بن سکتا ہے، جیسے مائیکروبیل میٹس میں موجود فوسلائزڈ نامیاتی مادہ یا کوئلے جیسی ساختیں جبکہ یہ پانی اور چٹانوں کے تعامل یا شہابی پتھروں کے ٹکرانے سے بھی پیدا ہو سکتا ہے۔

برائٹ اینجل آؤٹ کراپ کی یہ مٹی پتھریلی چٹانیں 2024 میں اس وقت توجہ کا مرکز بنی تھیں جب روور کو ان کی سطح پر ایسے دلچسپ دھبے اور نوڈلز ملے جو زمین پر فوسلائزڈ جرثوموں سے ملتی جلتی ساخت رکھتے ہیں۔

گزشتہ سال جب سائنسی تفصیلات شائع ہوئیں تو ناسا کے سابق قائم مقام سربراہ شان ڈفی نے کہا کہ یہ اب تک مریخ پر زندگی کا سب سے واضح اشارہ ہو سکتا ہے۔

تاہم، سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ دریافت اگرچہ نہایت اہم ہے لیکن فی الحال اسے مریخی زندگی کا حتمی ثبوت قرار نہیں دیا جا سکتا۔

Source: https://www.express.pk/story/2819132/nasa-rover-detects-potential-signatures-of-ancient-microbial-life-on-mars-2819132

Discussion

Sign in to join the thread, react, and share images.