صوبے میں زگ زیگ طریقہ کار کے بغیر کسی بھی اینٹوں کے بھٹے کو چلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی
پنجاب میں اینٹوں کی تیاری کے لیے بائیوماس گیس کے استعمال کی تجاویز سامنے آگئی ہیں جبکہ ادارہ تحفظ ماحولیات پنجاب نے واضح کیا ہے کہ صوبے میں زگ زیگ طریقہ کار کے بغیر کسی بھی اینٹوں کے بھٹے کو چلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ محکمہ ماحولیات کا کہنا ہے کہ نان زگ زیگ بھٹوں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی اور کالے دھویں کے اخراج کی بھی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی۔
یہ بات ڈائریکٹر جنرل ماحولیات پنجاب عمران حامد شیخ نے برکس کلن اونرز ایسوسی ایشن کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں پنجاب بھر سے بھٹہ مالکان، مختلف سرکاری محکموں کے نمائندوں اور صنعت سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔ اجلاس میں بھٹہ انڈسٹری کو درپیش مسائل، ماحول دوست ٹیکنالوجی، بائیوماس گیس کے استعمال اور اینٹوں کی تیاری میں جدید مشینری کے فروغ سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس کی صدارت برکس کلن اونرایسوسی ایشن کے چیئرمین شعیب خان نیازی نے کی جوشدیدعلالت کے باوجود اجلاس میں شریک ہوئے
ڈی جی ماحولیات عمران حامد شیخ نے کہا کہ پاکستان کی دیہی ترقی میں بھٹہ انڈسٹری ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور لاکھوں افراد کا روزگار اس شعبے سے وابستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ ماحولیات اس امر کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ صنعت بھی چلتی رہے اور ماحول کو بھی نقصان نہ پہنچے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھٹہ مالکان نے آگے بڑھ کر زگ زیگ طریقہ کار کو اپنایا جسے دنیا بھر میں ایک کامیاب ماڈل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ محکمہ بھٹہ مالکان کی جائز تجاویز کو تسلیم کرے گا اور بائیوماس گیس کے استعمال کی اجازت دینے کے حوالے سے سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق کوئلے کے ساتھ بائیوماس گیس کے استعمال کی اجازت کے امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور اس سلسلے میں ایک سٹڈی جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سٹڈی کے نتائج مثبت آئے تو قواعد و ضوابط میں ضروری ترمیم کرکے بائیوماس گیس کے استعمال کی اجازت دی جا سکتی ہے۔
عمران حامد شیخ نے مزید بتایا کہ میکانائزڈ برکس کے حوالے سے ایک ٹیکنیکل کمیٹی کام کر رہی ہے۔ ایک کمیٹی اینٹوں کی تیاری کے دوران خارج ہونے والے اخراج کا جائزہ لے رہی ہے جبکہ دوسری کمیٹی محکمہ مواصلات و تعمیرات کے ساتھ مل کر اینٹوں کی طلب اور پیداوار کے معاملات کا جائزہ لے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ معیاری اور ماحول دوست اینٹوں کی تیاری کو فروغ دیا جائے۔
انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ کالے دھویں کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی اور نان زگ زیگ بھٹوں کو چلانے کی اجازت بھی نہیں دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ماحولیاتی قوانین پر عملدرآمد ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر اور صنعتکار ایس ایم تنویر نے کہا کہ بھٹہ انڈسٹری ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب وہ وفاقی وزیر تھے تو اسی دور میں زگ زیگ ٹیکنالوجی پر بات چیت کا آغاز ہوا تھا اور آج یہ خوش آئند امر ہے کہ پنجاب بھر میں زگ زیگ نظام کو وسیع پیمانے پر اپنایا جا چکا ہے۔
ایس ایم تنویر نے کہا کہ انڈسٹری کی جانب سے حکومت کو پیش کیے گئے مطالبات بجٹ میں شامل کر لیے گئے ہیں جس پر صنعتی حلقے اطمینان کا اظہار کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کالے دھویں کی اجازت نہ دینے کا حکومتی فیصلہ درست ہے تاہم اس مسئلے کا ایسا قابل عمل حل تلاش کیا جانا چاہیے جس سے دھواں بھی ختم ہو اور صنعت بھی متاثر نہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ تعمیراتی شعبے میں تیزی سے ترقی ہو رہی ہے جو ملکی معیشت کے لیے خوش آئند ہے۔ ان کے مطابق بھٹہ انڈسٹری ملکی ترقی میں نہایت اہم کردار ادا کر رہی ہے جبکہ فیڈرل چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری بھٹہ مالکان ایسوسی ایشن کے ساتھ کھڑی ہے۔
اس موقع پر برکس کلن اونرز ایسوسی ایشن کے سینئر وائس چیئرمین مہر عبدالحق نے کہا کہ اینٹوں کے بھٹوں کو شروع اور بند کرتے وقت دھواں نکلنا ایک فطری عمل ہے جسے مکمل طور پر روکنا ممکن نہیں۔ انہوں نے ڈی جی ماحولیات سے مطالبہ کیا کہ اگر دنیا میں کوئی ایسی ٹیکنالوجی موجود ہے جس سے بھٹوں میں آگ جلانے کے آغاز پر دھواں خارج نہ ہو تو اس سے صنعت کو آگاہ کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ زگ زیگ ٹیکنالوجی میں کوئلے کے ساتھ بائیو گیس کے استعمال کی اجازت بھی دی جانی چاہیے تاکہ ایندھن کے متبادل ذرائع کو فروغ مل سکے اور ماحولیاتی آلودگی میں مزید کمی لائی جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ بہت جلد اینٹوں کے بھٹوں کو چینی ٹیکنالوجی پر چلانے کے لیے ایسوسی ایشن کا وفد چین کا دورہ کرے گا۔
مہر عبدالحق نے کہا کہ اس وقت نیپال میں استعمال ہونے والی زگ زیگ ٹیکنالوجی پاکستان میں رائج ہے لیکن اس نظام میں بھی بھٹوں کو جلانے کے آغاز اور اختتام پر کالا دھواں خارج ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید چینی ٹیکنالوجی کا جائزہ لینے کے بعد اس کے فوائد اور عملی امکانات کا تعین کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ پنجاب میں فضائی آلودگی اور سموگ کے تدارک کے لیے حکومت نے گزشتہ چند برسوں کے دوران زگ زیگ ٹیکنالوجی کو لازمی قرار دیا تھا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق زگ زیگ نظام پر منتقل نہ ہونے والے سینکڑوں بھٹے بند یا مسمار کیے جا چکے ہیں جس کے نتیجے میں ہزاروں مزدور اور دیگر وابستہ افراد روزگار سے محروم ہوئے۔ تاہم محکمہ ماحولیات کا مؤقف ہے کہ فضائی آلودگی میں کمی اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے زگ زیگ نظام پر عملدرآمد ناگزیر ہے۔
Discussion
Sign in to join the thread, react, and share images.