Native World News

امریکا کے متکبر صدور

امریکا کے متکبر صدور

ابھی حال ہی میں صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کو پاگل قرار دیا تھا

امریکا جیسا دنیا کا اہم ترین ملک کہ جس کی دولت اور فوجی طاقت کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے، اگر کہا جائے کہ وہ دنیا کا قائد اور مربی ہے تو اس میں کوئی شک نہیں مگر ایسے ملک کا قائد یعنی صدر اگر جنگ یا دھمکی آمیز لہجے میں بات کرتا ہو تو پھر یہ صرف امریکا کے لیے ہی نہیں پوری دنیا کے لیے لمحہ فکریہ ہے تاہم اسے کیا کہا جائے کہ دنیا کے خوشحال ترین ملک کی قسمت میں کئی سالوں سے ایسا ہی ہوتا چلا آ رہا ہے۔

صدر بش جونیئر اور ان کے بعد جتنے بھی وہاں صدر منتخب ہوئے سب کے سب عمر رسیدہ ہی نہیں بلکہ متکبر اور خودپسندی کا شکار تھے۔ بش جونیئر کے دور میں نائن الیون کا سانحہ پیش آیا۔ اس سانحے میں ان کے ردعمل نے ظاہر کر دیا تھا کہ وہ امریکا جیسے اہم ملک کی قیادت کے قابل نہیں تھے۔

انھوں نے اس سانحے کو مذہبی رنگ دے دیا اور اس طرح دنیا کو مسلم اور غیرمسلم حلقوں میں بانٹ دیا۔ اگرچہ ان سے پہلے نکسن، کلنٹن جانسن، فورڈ، ریگن کارٹر نے امریکی صدارت کو سنبھالا تھا مگر ان میں سے کسی نے مذہبی کارڈ نہیں کھیلا۔

وہ حقیقت میں امریکی صدارت کے قابل ہی نہیں تھے مگر چونکہ وہ عوامی ووٹوں سے منتخب ہو چکے تھے چنانچہ امریکیوں کے لیے انھیں برداشت کرنا مجبوری تھا۔ انھی موصوف نے عراق میں صدام حسین کے خلاف جنگ چھیڑی جس میں ان کے ساتھ 32 دوست ممالک بھی شامل ہو گئے تھے، ان سب نے مل کر عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی مگر جس اصل مسئلے پر حملہ کیا گیا تھا، آخر میں وہ الزام بے بنیاد نکلا اس لیے کہ عراق کے پاس دنیا کو تباہی سے ہمکنار کرنے والا کوئی بھی ہتھیار برآمد نہیں ہوا۔

دراصل یہ عراق کو تباہ کرنے کی سازشی منصوبہ بندی تھی جس کا مقصد صرف یہ تھا کہ عراق چونکہ اس وقت تمام عرب ممالک میں فوجی لحاظ سے مضبوط تھا تو وہ کہیں اسرائیل کو نقصان نہ پہنچا دے۔

اب اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی بش والے نظریے پر ڈٹے ہوئے ہیں کہ کسی طرح کوئی عرب ملک یا ایران اسرائیل کو تباہ و برباد نہ کر دے۔ صدر ٹرمپ ایران کی طاقت سے واقف ہیں۔

وہ جانتے ہیں کہ پورے مشرق وسطیٰ میں صرف ایران ہی ایک ایسا ملک ہے جو اسرائیل کا مقابلہ کر سکتا ہے اور اسے بھاری نقصان بھی پہنچا سکتا ہے چنانچہ اسے تباہ و برباد کر دیا جائے۔ پھر ایران کو ایٹم بم بنانے کی تو پہلے سے ہی اجازت نہیں ہے مگر ایرانی قیادت خود بھی واضح کر چکی ہے کہ وہ دنیا میں تباہی پھیلانے والے اس ہتھیار کو نہیں بنانا چاہتی مگر اسرائیل اور امریکا کو یقین نہیں آیا اور انھیں ایران کی پرامن مقاصد کے لیے افزودہ یورینیم بھی برداشت نہیں ہے۔

امریکا اس پر بھی قبضہ کرنا چاہتا ہے یا اس کو تلف کرنے پر بضد ہے۔ صدر ٹرمپ اس وقت تقریباً 80 برس کے ہو رہے ہیں مگر وہ خود کو بہت چست اور ذہین ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں تاہم ان کے بارے میں بہت کچھ کہا جارہا ہے، اول تو وہ کافی بوڑھے ہو چکے ہیں، پھر وہ اپنی باتوں کو ذرا سی دیر میں بھول جاتے ہیں، وہ آج ایک بیان دیتے ہیں اور دوسرے دن اس بیان کی الٹ بات کرنے لگتے ہیں۔

کبھی کہتے ہیں کہ ایرانی قیادت اس قابل نہیں ہے کہ اس سے کوئی ڈیل کی جائے مگر دوسرے ہی دن کہتے ہیں کہ ایرانی قیادت قابل لوگوں پر مشتمل ہے، ان سے ڈیل کی جا سکتی ہے۔ اب تو امریکی عوام بھی صدر ٹرمپ کی کہہ مکرنیوں سے تنگ آچکے ہیں۔

ابھی حال ہی میں صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کو پاگل قرار دیا تھا۔ اس سے نیتن یاہو کی سیاسی ساکھ کو بہت دھچکا لگا ہے۔ اب کچھ مہینے بعد اسرائیل میں عام انتخابات منعقد ہونے والے ہیں اور نیتن یاہو ان انتخابات میں حصہ لینے کے لیے بے چین ہے کیونکہ وہ فلسطینیوں اور لبنانیوں کے موجودہ قتل عام سے مطمئن نہیں ہے۔

لگتا ہے اس کی ابھی فلسطینیوں کے قتل عام سے پیاس نہیں بجھی ہے، چنانچہ وہ اگلی دفعہ اپنے دل کی بھڑاس مٹانے کے لیے بے چین و بے قرار ہے پھر اسے یقین ہے کہ وہ الیکشن میں ضرور کامیاب ہو جائے گا کیونکہ انتہاپسند یہودی اس کی قتل و غارت گری کی کارروائیوں سے بہت خوش ہیں اور اسے الیکشن میں کامیاب بنانے کے لیے بھر بھر کر ووٹ دیتے ہیں۔

بالکل یہی نقشہ بھارت میں ہے۔ مودی کی مسلم کش پالیسیوں سے خوش انتہاپسند ہندو اسے کامیاب بنا رہے ہیں مگر اس کی جیت میں زیادہ کردار الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کی جعل سازی کا ہے۔ مودی کی طرح نیتن یاہو کو بھی سمجھدار شہری مذہبی جنونی قرار دیتے ہیں۔

نیتن یاہو عرب ممالک کے کئی حصوں پر قبضہ کرکے گریٹر اسرائیل قائم کرنے کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہا ہے۔ اسی طرح مودی بھی پاکستان اور بنگلہ دیش کو بھارت میں شامل کرکے مہابھارت بنا کر رام راج نافذ کرنا چاہتا ہے۔ جس طرح نیتن یاہو کبھی اپنے ناجائز مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکتا، اسی طرح مودی بھی ناکام ونامراد ہی رہے گا۔

حقیقت یہ ہے کہ دونوں ہی ممالک ایک ہی ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔ جس طرح مودی کو پاکستان ہر وقت نظروں میں کھٹکتا ہے، اسی طرح نیتن یاہو کی نظروں میں مسلم مقدس مقامات کھٹکتے رہتے ہیں۔ اس وقت گوکہ مشرق وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی چل رہی ہے مگر نیتن یاہو امن معاہدے کے خلاف ہے اور بس اسی لیے صدر ٹرمپ امن معاہدے کو حتمی شکل دینے کی ایرانی کوششوں پر سست روی دکھا رہے ہیں۔

تاہم ایران پر حملے نے صدر ٹرمپ کی ساکھ کو بہت نقصان پہنچایا ہے مگر یہ سب کچھ انھیں اسرائیل سے بے پناہ محبت کا ثمر ملا ہے، اب لگتا ہے صدر ٹرمپ جلد ہی امن معاہدے کو حتمی شکل دے کر اس مسئلے سے جان چھڑائیں گے اور پھر کیوبا کی بربادی کے لیے اقدام شروع کر دیں گے لیکن کچھ دن قبل تو صدر ٹرمپ فلسطینی ریاست بنانے کے لیے سرگرم تھے پھر ایران کی جنگ میں پھنس گئے، یہ دراصل سب نیتن یاہو کی ہوشیاری کا کمال ہے۔

Source: https://www.express.pk/story/2817428/americas-arrogant-presidents-2817428

Discussion

Sign in to join the thread, react, and share images.