Native World News

قربانی کے جانور مہنگے یا سستے؟ قیمتوں کے تعین پر خریدار اور بیوپاری آمنے سامنے

قربانی کے جانور مہنگے یا سستے؟ قیمتوں کے تعین پر خریدار اور بیوپاری آمنے سامنے

جانوروں کی قیمت کے تعین کا کوئی سرکاری طریقہ کاریا فارمولہ نہیں ہے، ماہرین

مویشی منڈیوں میں قربانی کے جانوروں کی قیمتیں موضوع بحث رہتی ہیں۔ خریدار شکوہ کرتے ہیں کہ قیمتیں بہت زیادہ ہیں جبکہ بیوپاری کہتے ہیں کہ ان مناسب قیمت نہیں مل رہی ہے۔ قربانی کے جانوروں کی قیمت کے تعین کا کوئی سرکاری طریقہ کاریا فارمولہ نہیں ہے۔ ماہرین کے مطابق جانور کی قیمت کا تعین اس کی عمر، وزن، نسل ،صحت ، خوبصورتی اور  مارکیٹ رحجان کو دیکھ کر کیا جاتا ہے۔

مویشی منڈیوں میں عام نسل کے بکرے اور چھترے 90 ہزار سے ایک لاکھ 25 ہزار روپے تک فروخت کیے جا رہے ہیں جبکہ اعلیٰ نسل کے بکرے دو لاکھ سے چار لاکھ روپے تک مانگے جا رہے ہیں۔ اسی طرح درمیانے درجے کے بیل اور بچھڑے تین لاکھ سے سات لاکھ روپے جبکہ اچھی نسل اور زیادہ وزن والے جانور آٹھ لاکھ سے 15 لاکھ روپے تک دستیاب ہیں۔ اونٹوں کی قیمتیں پانچ لاکھ روپے سے شروع ہو کر 20 لاکھ روپے تک پہنچ رہی ہیں۔

بیوپاریوں کا کہنا ہے کہ قربانی کے جانور کی قیمت کسی ایک پیمانے پر مقرر نہیں کی جاتی بلکہ اس میں کئی عوامل شامل ہوتے ہیں۔ بہاولپور سے بکرے فروخت کرنے کے لیے آنے والے بیوپاری عبدالرحمن نے بتایا کہ جانور کی نسل، وزن، صحت، خوبصورتی، قد و قامت اور مارکیٹ میں طلب کے رجحان کو مدنظر رکھتے ہوئے قیمت مقرر کی جاتی ہے۔ ان کے مطابق اچھی نسل اور خوبصورت جانوروں کی طلب زیادہ ہونے کے باعث ان کی قیمت بھی نسبتاً زیادہ رکھی جاتی ہے۔

ایک اور بیوپاری میاں شفیق نے کہا کہ جانوروں کی خوراک، دیکھ بھال، ادویات اور ٹرانسپورٹ پر آنے والے اخراجات بھی قیمت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ منڈی میں جس نسل یا وزن کے جانور کی طلب زیادہ ہو، اس کی قیمت خود بخود بڑھ جاتی ہے جبکہ کم طلب والے جانور نسبتاً کم قیمت پر فروخت ہوتے ہیں۔

بریڈنگ فارم کے مالک رانا مبشر حسن نے کہا کہ اعلیٰ نسل کے جانوروں کی تیاری پر بھاری سرمایہ خرچ ہوتا ہے، اسی لیے ان کی قیمت عام جانوروں سے زیادہ ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بڑے فارموں پر جانوروں کی خوراک، دیکھ بھال اور ویکسینیشن پر مسلسل اخراجات آتے ہیں۔دوسری جانب خریداروں نے قیمتوں کو غیر معمولی قرار دیا ہے۔

شہری آفتاب احمد نے کہا کہ بیوپاری ایسی قیمتیں مانگ رہے ہیں جو “آسمان سے باتیں” کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیوپاری وزن اور نسل دیکھ کر قیمت بتاتے ہیں لیکن خریدار اپنی استطاعت کے مطابق اس سے بہت کم بولی لگاتے ہیں۔ ان کے بقول “جب بیوپاری اتنی زیادہ قیمت مانگتے ہوئے شرم محسوس نہیں کرتے تو خریدار بھی کم قیمت بتانے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے”۔

پنجاب کیٹل مارکیٹ مینجمنٹ اینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی کے ترجمان شیخ اسد ظفر نے کہا کہ قربانی کے جانوروں کی قیمت مقرر کرنے کے لیے کوئی سرکاری فارمولا یا باقاعدہ طریقہ کار موجود نہیں ہے۔ ان کے مطابق بیوپاری اپنے جانور کی نسل، وزن، صحت اور خوبصورتی کو مدنظر رکھتے ہوئے قیمت مقرر کرتے ہیں اور کمپنی اس عمل میں مداخلت نہیں کرتی۔

انہوں نے کہا کہ اگر کسی خریدار یا بیوپاری کے ساتھ دھوکا دہی کی شکایت موصول ہو تو اس پر کارروائی کی جاتی ہے۔ ترجمان نے شہریوں کو مشورہ دیا کہ وہ کمپنی کے مقرر کردہ باڑوں اور رجسٹرڈ مویشی منڈیوں سے ہی جانور خریدیں اور سڑک کنارے کھڑے جانور خریدنے سے گریز کریں۔ انہوں نے بتایا کہ قربانی کے جانوروں کی باقاعدہ ٹیگنگ یا نمبرنگ نہیں کی جاتی۔

Source: https://www.express.pk/story/2814177/qurbani-animals-prices-how-they-are-determined-2814177

Discussion

Sign in to join the thread, react, and share images.