کیوبا کے سابق صدر 94 سالہ راول کاسترو عظیم انقلابی رہنما فیدول کاسترو کے بھائی بھی ہیں
امریکا نے 1996 میں دو سویلین طیارے مار گرائے جانے کے مقدمے میں کیوبا کے سابق صدر پر فردِ جرم عائد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی محکمہ انصاف نے دعویٰ کیا کہ راول کاسترو پر امریکی شہریوں کے قتل کی سازش، طیاروں کی تباہی اور چار افراد کے قتل کے الزامات لگائے گئے ہیں۔
امریکی محکمہ انصاف کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر 94 سالہ راول کاسترو پر یہ الزامات ثابت ہو گئے تو انھیں امریکا میں عمر قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہ مقدمہ اُس واقعے سے متعلق ہے جب 1996 میں کیوبا کی فضائیہ نے جلا وطن کیوبن کارکنوں کی تنظیم “برادرز ٹو دی ریسکیو” کے دو چھوٹے طیارے مار گرائے تھے۔ جس میں 4 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
اُس وقت راول کاسترو کیوبا کے وزیر دفاع اور ان کے بھائی عالمی شہرت یافتہ انقلابی رہنما فیدول کاسترو صدر تھے۔ امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ جہاز مار گرانے کی کارروائی کی منظوری وزیر دفاع نے دی تھی۔
یاد رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ مہینوں میں کیوبا کی کمیونسٹ حکومت پر دباؤ مزید بڑھا دیا ہے اور نہ صرف پرانے مقدمات دوبارہ کھولے ہیں بلکہ کیوبا کو ایندھن فراہم کرنے والے ممالک اور کمپنیوں کو بھی پابندیوں کی دھمکیاں دی ہیں۔
کیوبن حکومت کا مؤقف ہے کہ امریکا ایک بار پھر سرد جنگ جیسی پالیسی اپنا رہا ہے اور معاشی دباؤ کے ذریعے کیوبا میں حکومت کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
قبل ازیں صدر ٹرمپ کے حکم پر اسمگلنگ جیسے سنگین مقدمات میں وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کو خفیہ آپریشن کے ذریعے گرفتار کرکے نیویارک لایا گیا اور اب مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔
کیوبا کے سابق صدر اور وزیر دفاع راول کاسترو پر جہازوں کے مار گرائے جانے کے مقدمے میں فرد جرم عائد کرنے سے قبل امریکی حکام متعدد بار کیوبا کا دورہ بھی کرچکے ہیں۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ بھی متعدد بار کہہ چکے ہیں وینزویلا اور ایران میں رجیم چینج کے بعد اب باری کیوبا کی ہے جسے کیوبا نے کھلی دہشت گردی اور داخلی معاملات میں مداخلت قرار دیکر شدید احتجاج کیا تھا۔
Discussion
Sign in to join the thread, react, and share images.