امریکی صدر کے دورے کے دوران چین کی ’’فوڈ ڈپلومیسی‘‘ نے سب کی توجہ حاصل کرلی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورۂ چین کے دوران بیجنگ کے عظیم الشان سرکاری عشائیے میں صرف سفارت کاری ہی نہیں بلکہ لذیذ کھانوں نے بھی خوب تڑکا لگایا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو چین میں شاندار پروٹوکول دیا گیا۔ چینی ہم منصب نے مہمانوں کے لیے ایک شاندار ضیافت کا بھی اہتمام کیا۔
دونوں صدور کے درمیان کھانے کی میز پر ہونے والی ہونے والی اس ملاقات میں جہاں تجارت، تائیوان تنازع اور عالمی سیاست زیرِ بحث آئے وہیں ضیافت کا مینو بھی عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گیا۔
چینی صدر کے عشائیے میں مہمانوں کی تواضع ایسے شاہانہ انداز میں کی گئی کہ سوشل میڈیا پر لوگ کہنے ہر مجبور ہوگئے کہ یہ مذاکرات تھے یا فوڈ فیسٹیول؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ چینی سفارتی تقریبات میں کھانے صرف کھانے نہیں سمجھے جاتے بلکہ ہر ڈش ایک سیاسی پیغام بھی رکھتی ہے۔
اس بار ضیافت میں ’’ہوائی یانگ‘‘ کھانوں کا انتخاب کیا گیا جو چین کے شاہی اور سفارتی کھانوں میں شمار ہوتے ہیں۔ یہ کھانے ہلکے مصالحے، نفیس انداز اور خوبصورت پیشکش کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔
رائٹرز کے مطابق مینو کو خاص طور پر اس انداز میں ترتیب دیا گیا کہ اس میں روایتی چینی ذائقوں کے ساتھ امریکی مہمانوں کی پسند کا بھی خیال رکھا جائے۔
بیف رِبز اور زیادہ ڈیزرٹس کو مبصرین نے ٹرمپ کی معروف فوڈ چوائسز کی طرف اشارہ قرار دیا۔
مہمانوں کو ابتدا میں خصوصی ہارس ڈوؤرز پیش کیے گئے جس کے بعد مرکزی کھانوں میں لوبسٹر ٹماٹو سوپ، کرسپی بیف رِبز، مشہور بیجنگ روسٹ ڈک، موسمی سبزیوں کا اسٹو، مسٹرڈ ساس میں آہستہ پکا سالمَن اور پین فرائیڈ پورک بن شامل تھے۔
ڈنر مینو میں میٹھے کا بھی خاص اہتمام کیا گیا تھا جس میں ٹرمپٹ شیل نما پیسٹری، تیرامیسو، فروٹ اور آئس کریم نے گویا محفل لوٹ لی۔
اگر یہ کہا جائے کہ چین نے اس ضیافت کے ذریعے ’’فوڈ ڈپلومیسی‘‘ کا بھرپور مظاہرہ کیا تو بے جا نہ ہوگا۔
سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ چرچا “بیجنگ روسٹ ڈک” اور “ٹرمپٹ شیل پیسٹری” کا رہا۔
کئی صارفین نے مزاحیہ تبصرے کرتے ہوئے لکھا کہ ’’ٹرمپ شاید پہلی بار برگر چھوڑ کر اصلی شاہی دعوت سے لطف اندوز ہوئے ہوں گے۔
بعض رپورٹس کے مطابق تقریب کے دوران ایک دلچسپ لمحہ بھی سامنے آیا جب ٹرمپ کے بیٹھنے سے قبل ان کی کرسی سے ایک اضافی کشن ہٹا دیا گیا، جس کی ویڈیوز اور تصاویر بھی وائرل ہوئیں۔
چین نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ بیجنگ میں سفارت کاری صرف مذاکراتی میز تک محدود نہیں بلکہ پلیٹ، چمچ اور ذائقوں کے ذریعے بھی عالمی سیاست کو متاثر کیا جاتا ہے۔
Discussion
Sign in to join the thread, react, and share images.