جسٹس ارباب محمد طاہر نے درخواست پر فیصلہ جاری کیا اور فیصلے کی کاپی چیف کمشنر اور جیل سپرنٹنڈنٹ کو بھجوانے کا حکم دیا
اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی سے ان کی فیملی کی ملاقات اور ذاتی معالج تک رسائی کی درخواست پر فیصلہ جاری کردیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے تحریری فیصلہ جاری کیا اور عدالت نے بشریٰ بی بی سے فیملی کی ملاقات اور ذاتی معالج تک رسائی کا حکم دینے کی درخواست ہدایات کے ساتھ نمٹا دی ہے۔
عدالت نے فیملی کی بشریٰ بی بی سے ملاقات کا معاملہ دوبارہ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو بھجوا دیا اور کہا ہے کہ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل فیملی ملاقات کی درخواست پر دوبارہ فیصلہ کریں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصلے میں کہا ہے کہ اگر سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل درخواست مسترد کرتے ہیں تو آئی جی جیل خانہ جات کا فورم موجود ہے، روزمرہ اشیا کی بشریٰ بی بی تک فراہمی کے حوالے سے سپرنٹنڈنٹ جیل پہلے بتا چکے ہیں۔
فیصلے میں کہا گیا کہ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کے مطابق بشریٰ بی بی تک روزمرہ کی اشیا کی فراہمی ہو رہی ہے۔
عدالت نے کہا کہ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کے مطابق بشری بی بی کا علاج معالجہ بھی جاری ہے، ضرورت کے مطابق بشریٰ بی بی کو اسپتال سے باہر منتقل بھی کیا گیا۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ قید میں موجود بشریٰ بی بی کی میڈیکل صورت حال کا معاملہ ایگزیکٹیو کے دائرہ اختیار میں آتا ہے، اگر اس حوالے سے کوئی اعتراض ہو تو جیل رولز کے مطابق فورم موجود ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے چیف کمشنر اسلام آباد اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو عدالتی فیصلے کی کاپی بھیجنے کا حکم بھی دیا۔
Discussion
Sign in to join the thread, react, and share images.