حکومتی نمائندوں کے ساتھ ملاقات میں ڈیڈلاک برقرار رہا اور مذاکرات ناکام ہوگئے، صدر کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد
کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد نے ای چالان، بھاری جرمانوں اور دیگر مطالبات کے حق میں جمعے کو بھی شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ ہڑتال جاری رکھنے کااعلان کردیا ہے جبکہ حکومتی نمائندوں کے ساتھ ملاقات میں ڈیڈلاک برقراررہا اور مذاکرات ناکام ہوگئے۔
کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد کی جانب سے جمعرات کو شہر میں پہیہ جام ہڑتال کی گئی، جس کےدوران رات سے مختلف اڈوں پر کھڑی بسیں علی الصبح سڑکوں پرنہیں آسکی، پبلک ٹرانسپورٹ کی ہڑتال کی وجہ سے یومیہ بنیاد پر بسوں سے سفر کرنے والے شہری بس اسٹاف پر بسوں، منی بسوں اور کوچز کے متلاشی رہے۔
واضح رہے کہ شہرمیں 8 ہزارکے لگ بھگ بسوں، منی بسوں اور کوچز پر شہریوں کی ایک بہت بڑی تعداد کا انحصار ہے، جو یومیہ بنیاد پر دفاتر،کاموں کی جگہوں اور فیکٹریوں کو آمدروفت کےلیے پبلک ٹرانسپورٹ کے ذریعے سفر کرتے ہیں۔
ایکسپریس نیوزسےگفتگو کرتے ہوئے کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد کے صدر حاجی تواب خان نے کہا کہ جمعرات کو صوبائی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے دوران ڈیڈلاک برقرار رہا، جس کا کوئی معنی خیرنتیجہ نہیں نکل سکا، لہٰذا جمعے کو بھی پبلک ٹرانسپورٹ مکمل طور پر بند رکھی جائے گی۔
ان کا کہنا ہے کہ پہیہ جام ہڑتال کا فیصلہ مختلف صوبائی اداروں سے رابطوں کے فقدان اور ہر جانب سے مایوسی کے بعد کیا، پبلک ٹرانسپورٹرز کا سب سےبڑا مطالبہ یہ کہ ای چالان کےجرمانوں کا حجم کم کیا جائےکیونکہ جس قسم کا میکنزم بنایا گیا ہے، اس میں ٹرانسپورٹرز کی اصل کمائی سےکئی گنا زیادہ جرمانے وصول کیے جا رہےہیں۔
انہوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹرز سے وعدہ کیا گیا تھا کہ ای چالان کےبعد مینول چالان کا سلسلہ بند ہوجائےگا مگر ایسا نہیں ہوا، ہمارے پاس اس بات کے ثبوت موجود ہیں کہ ای چالان کےعلاوہ مینول چالان بھی ڈرائیورز کوتھمائے جا رہےہیں، 3ماہ گزر چکے ہیں مگر انہیں ایندھن کی قیمتوں کے دوران کرائے نہ بڑھانے کی صوبائی حکومت کےوعدے کےتحت سبسڈی کی مدمیں آج تک ایک دھیلا نہیں ملا۔
حاجی تواب خان کے مطابق اب معاملہ اس حد تک سنجیدہ ہوچکا ہے کہ بس اڈوں پر کھڑی ٹرانسپورٹ پر اوور اسپیڈنگ سمیت دیگر الزامات لگا کر50 ہزار تا ایک لاکھ روپے کے جرمانےعائد کر دیےجاتے ہیں،گاڑیوں کی فٹنس اور پرمٹ کے قانون کےمکمل طور پر حامی ہیں مگر جس وقت ان ادائیگی کےلیے ٹرانسپورٹرز ذمہ دار اداروں سے رجوع کرتے ہیں،تو انہیں پہلےتھرڈ پارٹی کو12ہزار روپے ادائیگی کا مشورہ دیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے میں یہ سوال ضرور بنتا ہے کہ انشورنس کا معاملہ ٹرانسپورٹرز اور انشورنس کمپنی جانے کیونکہ بھاری بھر کم ادائیگی میں ٹرانسپورٹ کو یہ جاننے کا حق ہے کہ اسے کس قسم کےفوائد ملیں گے، اس کے ساتھ ساتھ گاڑیوں کے بائیومیٹرک کا مرحلہ بھی انتہائی پیچیدہ بنا دیا گیا ہے، جس پر ٹرانسپورٹرزکے تحفظات ہیں۔
صدرکراچی ٹرانسپورٹ اتحاد کا مزید کہنا تھا کہ فی الوقت ان کی ہڑتال غیرمعینہ مدت تک جاری رہے گی، تاہم اس دوران اگر نمائندہ تنظیموں کے اجلاس میں کوئی نیا فیصلہ ہوا تو اس کےمطابق آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائےگا۔
Discussion
Sign in to join the thread, react, and share images.