اسلام آباد مفاہمتی یاداشت پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے دستخط موجود ہیں
وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے اسلام آباد مفاہمتی یاداشت اسلام آباد میمورنڈم آف انڈراسٹیڈنگ) پر بطور ثالث دستخط کردیے۔
وزیر اعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق اسلام آباد مفاہمتی یاداشت پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے دستخط موجود ہیں۔
وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے اسلام آباد مفاہمتی یاداشت (Islamabad Memorandum of Understanding) پر بطور ثالث دستخط کردئے۔اسلام آباد مفاہمتی یاداشت پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے دستخط موجود ہیں۔@CMShehbazpic.twitter.com/9bKN6bPWiG
اس سے قبل وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے ایک بڑی سفارتی کامیابی کا اعلان کرتے ہوئے بتایا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط مکمل ہو گئے ہیں۔ معاہدے پر دونوں ممالک کے صدور نے دستخط کیے جبکہ پاکستان نے ثالث کے طور پر اس کی توثیق کی ہے۔
شہباز شریف نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ اعلیٰ ترین حکومتی سطح پر ہونے والے اس معاہدے نے اس امر کا واضح ثبوت دیا ہے کہ واشنگٹن اور تہران تنازع کے حل کے لیے سفارتی راستہ اختیار کرنے پر متفق ہیں۔ مفاہمتی یادداشت فوری طور پر نافذ العمل ہو گئی ہے۔
I am honoured to announce that the historic ‘Islamabad Memorandum of Understanding’ has been electronically signed today between the United States of America. the Islamic Republic of Iran. The Memorandum has been signed by honourable Presidents of both the countries and also…
انہوں نے کہا کہ معاہدے کے تحت پہلے مرحلے میں ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے کھول دے گا جبکہ امریکا اپنی بحری ناکہ بندی فوری طور پر ختم کرے گا۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان شریک ثالث ریاست قطر کے تعاون سے 19 جون 2026 کو سوئٹزرلینڈ میں اس تاریخی پیش رفت کی یاد میں باضابطہ تقریب کی میزبانی کرے گا جہاں دونوں ممالک کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات کا آغاز بھی متوقع ہے۔
اس موقع پر شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ ان کی سفارت کاری سے وابستگی اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دینے کی پالیسی نے ایک ایسے بحران کا خاتمہ ممکن بنایا جو پورے خطے اور دنیا کے لیے تباہ کن نتائج کا سبب بن سکتا تھا۔
وزیر اعظم نے امریکی مذاکراتی ٹیم کے ارکان جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیریڈ کشنر کی خدمات کو بھی سراہا گیا، جنہوں نے معاہدے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔
شہباز شریف نے ایرانی قیادت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خمینی اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی بصیرت، دور اندیشی اور امن کے لیے عزم کو سراہا گیا۔
وزیر اعظم نے اسی طرح ایرانی مذاکراتی ٹیم کے ارکان محمد باقر قالیباف، عباس عراقچی اور اسکندر مومینی کی کوششوں کو بھی معاہدے کی کامیابی میں کلیدی قرار دیا گیا۔
بیان میں شہباز شریف نے قطر کی قیادت کی تعمیری شمولیت اور سفارتی تعاون کو خصوصی طور پر سراہا گیا، جبکہ سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کی قیادت کے کردار کو بھی ناگزیر اور انتہائی اہم قرار دیا گیا۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے خصوصی طور پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ ان کی انتھک کاوشیں، بے لوث وابستگی اور پسِ پردہ سفارتی کردار اس پیش رفت کو ممکن بنانے اور خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینے میں فیصلہ کن ثابت ہوئے۔
شہباز شریف نے اس امید کا اظہار کیا گیا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت خطے میں بہتر باہمی تفہیم، احترام، اعتماد اور مشترکہ خوشحالی کی ایک مضبوط اور دیرپا بنیاد ثابت ہوگی اور مستقبل میں امن و تعاون کے نئے دروازے کھولے گی۔
قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے ہیں۔ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ امریکی اور ایرانی صدور نے یادداشت کے متن پر الیکٹرانک دستخط کیے، جس کے بعد معاہدہ نافذ العمل ہو گیا۔انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو فراہم کی جانے والی خدمات کے عوض فیس وصول کی جائے گی۔ ایران کے پاس افزودہ یورینیم کو کم درجے پر لانے کا آپشن موجود ہے، تاہم ایرانی جوہری مواد ملک سے باہر نہیں بھیجا جائے گا۔اسماعیل بقائی کے مطابق آئندہ 60 روز کے دوران کسی بھی فریق کو خطے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھانے یا نئی پابندیاں عائد کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ایران پر عائد تیل کی پابندیاں ختم ہونی چاہئیں اور ایران کو فوری طور پر اپنی تیل برآمدات جاری رکھنے کی اجازت ملنی چاہیے۔ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکہ ایران کے منجمد اثاثوں تک رسائی میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کا پابند ہوگا، جبکہ ایران اپنی دفاعی صلاحیتوں کے بارے میں کسی بھی فریق کے ساتھ مذاکرات نہیں کرے گا۔دریں اثنا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پیزشکیان کی جانب سے مفاہمتی یادداشت پر دستخطوں کی تصدیق کے تقریباً ایک گھنٹے بعد وائٹ ہاؤس نے صدر ٹرمپ کی دستخط کرتے ہوئے ویڈیو جاری کر دی۔امریکہ نے ایران کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کا سرکاری متن بھی جاری کر دیا ہے۔ معاہدے کا عنوان "اسلام آباد مفاہمتی یادداشت" رکھا گیا ہے۔سی این این ورلڈ کے مطابق امریکی انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار نے 14 نکاتی دستاویز کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے، ایران پر عائد بعض مالی پابندیوں میں نرمی اور مستقبل کے تکنیکی مذاکرات کے دوران ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق توقعات کا تعین کیا گیا ہے۔سینئر امریکی عہدیدار کے مطابق یہ معاہدہ آبنائے ہرمز کی فوری بحالی، ایران کے جوہری مواد سے متعلق اقدامات اور پابندیوں میں مرحلہ وار نرمی کے لیے ایک فریم ورک فراہم کرتا ہے، جس کے نتیجے میں ایران کی اقتصادی صورتحال میں بہتری آ سکتی ہے۔
Discussion
Sign in to join the thread, react, and share images.