کراچی میں سوئی گیس کی نایابی بڑھ رہی ہے۔ مقررہ وقت پر بھی گیس نہیں ہوتی جو قبل از وقت بند کر دی جاتی ہے۔
پٹرولیم مصنوعات، بجلی اور سوئی گیس سب سے اہم تین اشیا ایسی ہیں کہ جن کے بغیر پاکستان کے عوام کی زندگی ادھوری رہ جاتی ہے اور صنعتی ترقی تو دور کی بات موجودہ صنعتیں اور کاروبار بری طرح متاثر ہو چکے ہیں۔ مہنگی بجلی اور گیس کی وجہ سے نہ صرف صنعتیں بند ہو رہی ہیں اور درآمدات بھی متاثر ہیں جس پر ملک کے صنعتکار مسلسل حکومت کی توجہ مبذول کرا رہے ہیں اور احتجاج بھی کر رہے ہیں مگر صنعت کار حکمرانوں کے کانوں پر جوں نہیں رینگ رہی اور حکومت کا سب سے زیادہ زور صنعتکاروں، تاجروں، ملازمت پیشہ افراد کے بعد چھوٹے دکانداروں پر آ گیا ہے جن کو گوشوارے جمع کرانے کے لیے 25 ہزار روپے جمع کرانا ہوں گے۔ وزارت خزانہ کی توجہ ایف بی آر کے اکثر افسروں کی کارکردگی پر ہونی چاہیے جن کی نااہلی کے باعث ٹیکس وصولی کے اہداف پورے نہیں ہو رہے جس پر ملک میں تنقید بھی ہو رہی ہے۔
ملک کا ہر شہری حکومت کو کسی نہ کسی صورت میں ٹیکس ادا کر رہا ہے مگر پھر بھی حکومتی آمدنی نہیں بڑھ رہی اور حکومت ٹیکس پر ٹیکس لگا کر عوام کی زندگی اجیرن بنائے ہوئے ہے اور ایف بی آر ٹیکس چوری روکنے کی بجائے ٹیکسوں میں اضافہ کر رہا ہے جس پر اپوزیشن ہی نہیں حکومتی اتحادی بھی کہہ رہے ہیں کہ نئے بجٹ میں ان ڈائریکٹ ٹیکسوں سے عوام پر بوجھ ڈالا گیا ہے۔
حکومت مسلسل عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ تو بڑھاتی آ رہی ہے اور عوام کے لیے خوراک جیسی اہمیت رکھنے والی اشیا جن میں پٹرولیم مصنوعات، بجلی اور گیس سر فہرست اور عوام کی اشد ضرورت ہیں یہ تینوں حکومت کی کمائی کا سب سے بڑا ذریعہ بنی ہوئی ہے۔
ملک میں عالمی بحران کے باوجود پٹرولیم مصنوعات کی قلت پیدا نہیں ہوئی مگر بجلی اور گیس کی قلت کم ہونے کی بجائے حکومت ان دونوں کی قیمتیں بھی بڑھا رہی ہے اور فکسڈ چارجز کے نام پر گیس کے بعد اب بجلی کے استعمال پر دیگر ٹیکسوں کے باوجود فکسڈ چارجز مسلط کر دیے گئے ہیں اور جو شخص بجلی و گیس کم استعمال کرے اسے بھی فکسڈ چارجز ہر حال میں ادا کرنے ہیں جب کہ ماضی میں بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز نہیں تھے جو حکومت کی عوام مخالفت کا ثبوت ہے جو عوام کو ریلیف دینے کی بجائے عوام کو ٹیکسوں کے ذریعے نچوڑ رہی ہے۔
سوئی گیس اور بجلی ملک میں پیدا ہو رہی ہے مگر عوام کو مہنگے نرخوں پر دستیاب ہے جس پر ملک کو اس دور میں پہنچا دیا گیا ہے جب گیس و بجلی ہوتی ہی نہیں تھی اور عوام زندگی گزار لیا کرتے تھے۔ موجودہ حکومت کا کہنا ہے کہ ملک میں بجلی کی قلت نہیں مگر لوڈ شیڈنگ پھر بھی جاری ہے۔ سوئی گیس نہ ملنے پر لوگ بازاروں سے سلنڈر بھروا کر ضرورت پوری کر رہے ہیں اور بجلی کے حصول کے لیے سولر سسٹم اور جنریٹر استعمال کرکے خود پر مالی بوجھ بڑھا کر زندگی گزار رہے ہیں۔
جنریٹروں کے لیے پٹرول و ڈیزل خریدنا مجبوری ہے جو بڑھتی لیوی کے باعث مسلسل مہنگا ہو کر حکومتی آمدنی بڑھا رہا ہے اور سولر سسٹم پر حکومت کو ٹیکس نہیں ملتا اس لیے حکومت سولر سسٹم کی حوصلہ افزائی کی بجائے حوصلہ شکنی کر رہی ہے اور نہیں چاہتی کہ عوام سولر سسٹم لگا کر مہنگی بجلی سے محفوظ رہ سکیں اسی لیے دیگر ذرائع سے سولر سسٹم مہنگا کر دیا گیا ہے جو غریبوں کی پہنچ سے پہلے سے دور ہے۔ سوئی گیس کا متبادل سلنڈر گیس ہے جو اب ہر گھر کی مجبوری بن چکے ہیں جن سے ملک میں جانی نقصان بھی ہو رہے ہیں اور لوگ خوفزدہ ہونے کے باوجود استعمال کرنے پر مجبور ہیں اور اپنی زندگی داؤ پر لگائے ہوئے ہیں۔
سلنڈر گیس کی ضرورت بڑھنے کے باعث حکومت سلنڈر گیس کے نرخ بھی مسلسل بڑھا رہی ہے جو ساڑھے چار سو روپے کلو تک پہنچ گئی ہے مگر زیادہ رقم دے کر سلنڈر گیس پانی ملا کر وزن بڑھایا جاتا ہے جب کہ پوری مقدار بھی نہیں مل رہی کیونکہ اس کے میٹر کھلے عام نہیں لگے ہوتے کہ لوگ پٹرول پمپ پر لگے میٹروں کی طرح دیکھ سکیں اس لیے سلنڈر گیس بھی کم بھرنے کی شکایات بڑھ گئی ہیں مگر حکومت کچھ نہیں کر رہی۔ سوئی گیس صارفین کی شکایات کا فوری ازالہ ہو جاتا تھا مگر اب صارفین پریشان ہیں۔ گیس و بجلی صارفین کی شکایات بے حد بڑھتی جا رہی ہیں اور صارفین کی تحریری شکایات کی وصولی بند کر دی گئی تھی صرف آن لائن یا دونوں اداروں کے دفاتر جا کر ٹوکن لے کر گھنٹوں انتظار کے بعد شکایت درج کرائی جاتی ہے جس کا صارف کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہوتا اور دونوں اداروں نے اضافی بلوں کی درستگی ناممکن بنا رکھی ہے اور شکایات پر توجہ کم ہی دی جاتی ہے۔
کراچی میں سوئی گیس کی نایابی بڑھ رہی ہے۔ مقررہ وقت پر بھی گیس نہیں ہوتی جو قبل از وقت بند کر دی جاتی ہے۔ دستگیر سوسائٹی بلاک 15 میں کئی ماہ سے گیس بالکل نہ ہونے کی شکایات بے حد بڑھ چکی ہیں جہاں پچاس سال پرانی زیر زمین لائنیں اتنی شکستہ ہو چکی ہیں کہ سوراخوں کے ذریعے سیوریج کا پانی گیس لائنوں میں داخل ہوکر گیس سپلائی بند کر دیتا ہے اور کئی ہفتوں بعد گیس کمپنی کی گاڑی آتی ہے تو ان کے پاس نکاسی آب کا پمپ نہیں ہوتا اور محلہ والوں سے مانگ کر غلیظ پانی لائنوں سے نکال کر گیس بحال کی جاتی ہے مگر جب عملہ چیک کرتا ہے تو گیس بند ہونے کا وقت ہو جاتا ہے اور عملہ واپس نہ آنے کے لیے لوٹ جاتا ہے۔ گیس بند رہنے سے عوام سلنڈر استعمال کرتے ہیں جس سے کمپنی کی گیس کم استعمال ہوتی ہے مگر صارفین کو فکسڈ چارجز پورے دینے پڑ رہے ہیں۔ شکستہ لائنیں تبدیل نہیں ہو رہی ہیں جس کی سزا مہنگی گیس استعمال کرنے والے صارفین بھگت رہے ہیں۔
Discussion
Sign in to join the thread, react, and share images.