امریکا اور ایران کے درمیان معاملات طے کرنے کے لیے پاکستان کی کوششیں مسلسل جاری ہیں
امریکا، ایران مذاکرات میں اہم پیش رفت ہونے کے بعد فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سرکاری دورہ پر ایران پہنچ گئے ہیں۔ پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے تہران میں ایرانی شخصیات سے ملاقاتیں کی ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایران اور امریکا کے درمیان جاری ثالثی کی کوششوں کے سلسلے میں تہران گئے ہیں۔تہران پہنچنے پر ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔اس موقع پر وزیر داخلہ محسن نقوی بھی موجود تھے۔
خلیج کی جنگ نے پوری دنیا کو متاثر کیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان معاملات طے کرنے کے لیے پاکستان کی کوششیں مسلسل جاری ہیں۔ پاکستان کی کوششوں کا اعتراف امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کیا ہے جب کہ ایرانی قائدین بھی پاکستان کی ثالثی پر اعتماد کا اظہار کرتے ہیں۔
عوامی جمہوریہ چین کی قیادت نے بھی پاکستان کے کردار کو سراہا ہے۔ پاکستان کے وزیر داخلہ بھی اس سلسلے میں مسلسل کوششیں کر رہے ہیں۔ اب پاک فوج کے سربراہ بھی اسی مقصد کے لیے ایران گئے ہیں۔ امید ہے کہ وہ اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہوںگے۔
ادھرترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ پاک فوج کے سربراہ کے دورے کا یہ مطلب نہیں کہ ہم کسی ٹرننگ پوائنٹ یا فیصلہ کن نکتے پر پہنچ چکے ہیں۔امریکا اور ایران کے درمیان خلیج بہت گہری ہے۔ بہت سے علاقائی اور غیرعلاقائی ممالک جنگ بندی کی کوششیں کررہے ہیں تاہم پاکستان ہی دونوں اطراف کا باقاعدہ ثالث ہے۔ اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ بندی بہت اہم ہے ۔
موجودہ صورت حال یہ ہے کہ امریکا اور ایران دونوں کے پاس اپنے اپنے آپشنز موجود ہیں۔ دونوں ان آپشنز کا جائزہ لے رہے ہیں۔ یوں امید وبیم کی صورت حال بدستور قائم ہے۔ جنگ کے خدشات بھی موجود ہیں جب کہ امن کے چراغ بھی روشن ہیں۔
دونوں جانب سے لچک بھی نظر آتی ہے اور اپنے اپنے مؤقف پر قائم رہنے کا عزم بھی ظاہر کیا جاتا ہے۔ اس معاملے کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے، اس بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہا جاسکتا البتہ پاکستان اور دیگر ممالک کی کوششیں امن قائم کرنے کے لیے ہیں۔
ادھر آبنائے ہرمز بند کرنے کے معاملے پر جمعہ کو یورپی یونین کی طرف سے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی سمیت کئی ایرانی شخصیات پر پابندیاں لگانے کا اعلان کیا گیا۔ ایران، امریکا معاہدے کی کوششوں کے تحت قطری وفد بھی ایران پہنچ گیا ہے۔
جمعہ کے روز وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی۔ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق ملاقات میں ایران امریکا جنگ کے خاتمے کے لیے مسودوں پر تفصیلی بات چیت اور قیام امن کے طریقہ کار پر غور کیا گیا۔
محسن نقوی امریکا ایران مذاکرات سے متعلق اہم ملاقاتیں جاری ہیں۔ وہ اس وقت سعودی عرب کے ساتھ بھی رابطے میں ہیں۔ ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے سلسلہ وار پیغامات میں کہا ہے کہ مذاکرات کا حتمی مسودہ تیار ہو چکا ہے، تاہم دو بڑے نکات اب بھی کسی حتمی معاہدے کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔
ایرانی یورینیم ذخائر اور آبنائے ہرمز کے کنٹرول جیسے اہم معاملات پر اب بھی تعطل برقرار ہے۔اس تعطل کو ختم کرنے کے لیے ’واضح مؤقف، سمجھوتہ اور فیصلہ کن اقدامات ضروری ہیں۔
دریں اثنا امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے سویڈن میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ فیلڈ مارشل عاصم منیر سے مسلسل رابطے میں ہیں، امید ہے ایران سے جلد معاہدہ طے پا جائے گا اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دیا جائے گا،پلان بی بھی موجود ہے۔
ایران آبنائے ہرمز میں ٹول نظام کے نفاذ کی کوشش کر رہا ہے جسے کوئی قبول نہیں کرے گا۔ انھوں نے کہا کہ امریکا ایران بات چیت میں پاکستان ہی ثالث ہے، ایران کے ساتھ ڈیل ہماری پہلی ترجیح ہے۔
جمعہ اور ہفتے کے روز ہونے والی ڈویلپمنٹس خاصی معنی خیز ہیں۔ یورپی یونین کی طرف سے آبنائے ہرمز کے حوالے سے تشویش میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ اس سے ایران کے لیے مشکلات بھی پیدا ہو سکتی ہیں۔
کیونکہ امریکا آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ’’دیکھو اور انتظار کرو‘‘ کی پالیسی پر گامزن ہے۔ امریکی پالیسی سازوں کو اس حقیقت کا ادراک ہے کہ آبنائے ہرمز جتنا بڑا مسئلہ امریکا کے لیے ہے، اس سے کہیں زیادہ بڑا مسئلہ یورپی یونین، برطانیہ، جاپان، بھارت اور چین کے لیے بھی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ خلیج کے ممالک بھی آبنائے ہرمز بند ہونے سے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ اس لیے امریکا اس معاملے میں انتظار کی پالیسی پر گامزن ہے۔ اس کا خیال ہے کہ یورپی یونین امریکا کے ساتھ تعاون پر آمادہ ہو جائے تو وہ پھر کوئی ایکشن کی منصوبہ بندی کر سکتا ہے۔
امریکا کی جانب سے پلان بی کی بات کرنے کا مقصد بھی یہی نظر آتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا آبنائے ہرمز کو ’’آزاد بین الاقوامی آبی گزرگاہ‘‘ کے طور پر دیکھنا چاہتا ہے اور وہاں کسی قسم کے ٹول یا فیس کی حمایت نہیں کرے گا۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا کو اس وقت آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل ہے اور امریکی بحری ناکہ بندی سو فیصد مؤثر ثابت ہوئی ہے۔ کوئی بھی اس فولاد کی دیوار کو عبور نہیں کرسکا۔
اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا بھی یورپی یونین اور عوامی جمہوریہ چین کے اعصاب کو چیک کر رہا ہے کہ وہ کتنی دیر تک آبنائے ہرمز کی بندش پر خاموش رہتے ہیں یا ایران کا ساتھ دیتے ہیں۔ ایران کے معاملات کی طرف دیکھیں تو ادھر بھی واضح پکچر نظر نہیں آتی۔
ایران کے وزیرخارجہ یہ تو کہتے ہیں کہ جنگ بندی کے لیے پیش رفت خاصی ہو چکی ہے تاہم جب تک کوئی عملی شکل سامنے نہیں آتی، اس وقت تک کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی لائن واضح ہے۔
انھوں نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے حوالے سے اپنا مؤقف واضح طور پر بیان کیا ہے جب کہ یہ بھی کہا ہے کہ واشنگٹن کی اولین ترجیح یہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔
وائٹ ہاؤس میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ایران کو سخت نقصان پہنچایا، ہمارے پاس دوسرا کوئی آپشن نہیں تھا، ایران کے ساتھ وہی کیا جو وینزویلا کے ساتھ کیا تھا۔ ایران معاہدہ کرنے کے لیے بے تاب ہے، ہمارے پاس دنیا کی سب سے بڑی فوج ہے۔
آبنائے ہرمز کے حوالے سے اگلے روز کی خبروں میں ایرانی پاسداران بحریہ نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ 24گھنٹوں میں ایرانی اجازت کے بعد آئل ٹینکرز، کنٹینرز سمیت 35 جہازوں نے آبنائے ہرمز عبور کی ہے۔
ایرانی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا کی جانب سے بھیجے گئے حالیہ پیغامات سے دونوں ممالک کے درمیان بعض معاملات پر فاصلے کم ہوئے ہیں تاہم اعتماد کی فضا اب بھی مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکی۔
سعودی نیوزچینل العربیہ کے مطابق پاکستان کی سفارتی کوششوں سے معاہدے کا 9نکات پر مبنی ابتدائی فریم ورک تیارکیا گیا ہے۔مسودے میں سب سے اہم شق فوری جامع اور غیر مشروط جنگ بندی ہے جو تمام محاذوں پر نافذ العمل ہوگی۔
دونوں فریق اس بات کے پابند ہوں گے کہ وہ ایک دوسرے کی فوجی، سویلین یا اقتصادی تنصیبات کو نشانہ نہیں بنائیں گے، اس کے ساتھ ساتھ میڈیا وار بھی ختم کردیںگے۔مسودے میں ایران اور امریکا دونوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام اور ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت پر زوردیا گیا ہے۔
مسودے میں خلیج عرب،آبنائے ہرمز اورخلیج عمان میں بحری جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانے کی شق بھی شامل ہے۔ ایران کی جانب سے شرائط پر عملدرآمد کی صورت میں امریکا اپنی پابندیاں مرحلہ وار ختم کرنے کا عمل شروع کرے گا۔
مسودے میں تنازعات کے حل اور نگرانی کے لیے ایک مشترکہ میکانزم کے قیام کی تجویز دی گئی ہے اس کے ساتھ یہ شرط بھی شامل ہے کہ معطل شدہ امور پر مذاکرات 7دن کے اندر شروع کیے جائیں گے۔
معاہدے میں بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی پاسداری کی توثیق بھی کی گئی ہے۔یہ مسودہ دونوں فریقین کی رضامندی کی صورت میں ایک عبوری معاہدے کی بنیاد بن سکتا ہے۔
العربیہ نے پاکستانی سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ معاہدے کے لیے امید پائی جاتی ہے تاہم فریقین میں اختلافات اب بھی نمایاں ہیں۔یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز جیسے حساس امور اب بھی مذاکرات کا مرکزی نکتہ ہیں۔
پاکستان اس عمل میں چین کے کردار پر بھی انحصار کر رہا ہے تاکہ پیش رفت ممکن بنائی جا سکے۔ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ تہران مذاکرات کو سنجیدگی سے لے رہا ہے لیکن ماضی کے تجربات کے باعث کچھ تحفظات اب بھی موجود ہیں۔
متحدہ عرب امارات کے صدارتی مشیر انورقرقاش نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے کا امکان50فیصد ہے۔ ایران کے مذاکراتی وفد کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی کو ایرانی مذاکراتی وفد کا ترجمان مقرر کردیا ہے۔
دنیا کی خواہش ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان معاہدہ ہو جائے تاکہ جنگ مکمل طور پر ختم ہو جائے۔ دونوں جانب سے اچھے اشارے بھی مل رہے ہیں۔ فریقین کو حالات کی نزاکت کا پورا احساس ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ کوئی نہ کوئی مثبت حل نکل آئے۔
Discussion
Sign in to join the thread, react, and share images.