Native World News

اسد قیصر کا افسران کی موجودگی میں میٹنگ کا اعتراف، خواجہ آصف سے استعفے کا مطالبہ

اسد قیصر کا افسران کی موجودگی میں میٹنگ کا اعتراف، خواجہ آصف سے استعفے کا مطالبہ

ہاں میرے گھر میں آئی ایس آئی کے افسران کے ساتھ حکومت اپوزیشن مذاکرات ہوتے رہے، قومی اسمبلی میں خطاب

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے اپنے گھر پر افسران کی موجودگی میں مذاکرات کا اعتراف کرتے ہوئے خواجہ آصف سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کردیا۔

تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کے اجلاس میں مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی اراکین کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ۔ ہوا اور اراکین ایک دوسرے کیخلاف  غیر پارلیمانی الفاظ کا استعمال کیا جن کو اسپیکر نے حذف کردیا۔

سابق سپیکر اسد قیصر نے وزیر دفاع خواجہ آصف سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ ہاں میرے گھر میں آئی ایس آئی کے افسران کے ساتھ حکومت اپوزیشن مذاکرات ہوتے رہے مگر خواجہ آصف کا ضمیر ریحانہ ڈار کا مینڈیٹ چوری کرتے ہوئے کیوں نہ جاگا۔

اسد قیصر نے ذاتی وضاحت دیتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف پر متعدد سوالات اٹھائے اور کہا کہ ایف اے ٹی ایف کے بلز پر ان کی رہائش گاہ اسپیکر ہاؤس میں آئی ایس آئی افسران کی موجودگی میں مذاکرات ہوتے تھے اس پر تو خواجہ آصف کے ضمیر پر بوجھ ہے۔

انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف کے ضمیر پر آٹھ فروری 2024 کا الیکشن چوری کرنے کا کوئی بوجھ نہیں ؟خواجہ آصف کے ضمیر ریحانہ ڈار کا بھاری مینڈیٹ چوری کرنے کا کوئی بوجھ نہیں؟ خواجہ آصف کو شک ہے تو استعفی دیں چیلنج قبول کریں اور ریحانہ ڈار سے مقابلہ کرکے دیکھ لیں۔

قومی اسمبلی اجلاس کے دوران وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے زراعت پالیسی پر کہا کہ کسانوں کے لئے متعدد سکیمیں بجٹ میں لائی گئی ہیں ٹیکس کو فیس لیس نظام سے منسلک کیا جارہا ہے اب کوئی کسی ٹیکس گزار کو بلیک میل نہیں کرسکے گا۔

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے بجٹ کو غریب کش قرار دیتے ہوئے کہا کہ فیس لیس ٹیکس نظام غیر آئینی ہے اسے واپس لیا جائے۔ وفاقی وزیر رانا تنویر کی تقریر کے دوران اس وقت جھڑپ ہوئی جب اپوزیشن رکن عاطف خان نے شور کردیا۔

ضمیر کا بوجھ ہلکا کرنا چاہتا ہوں، ہم آئی ایس آئی افسران کی موجودگی میں قانون سازی کرتےتھے، وزیر دفاع

رانا تنویر نے بھی جوابا پی ٹی آئی ارکان کو غیر پارلیمانی الفاظ کہے دونوں ایک دوسرے کی طرف بڑھنے لگے تھے کہ بمشکل ارکان نے معاملہ ٹالا۔ حکومت اور اپوزیشن میں اس وقت ایک اور جھڑپ ہوگئی جب مسلم لیگ ن کے رکن اظہر قیوم ناہرہ تقریر کررہے تھے تو انہوں نے بانی پی ٹی آئی پر تنقید تو اپوزیشن رکن شفقت اعوان نے انہیں غیر پارلیمانی الفاظ کہہ دیا،

جوابا اظہر قیوم ناہرہ نے بھی انہیں اسی طرح کے الفاظ کہہ دیے خواتین ارکان نے نامناسب الفاظ پر احتجاج شروع کردیا۔ وزیر مملکت طلال چوہدری اور دیگر ارکان نے بمشکل معاملے کو ٹھنڈا کیا۔

بجٹ بحث کے دوران ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی کے ارکان بھی ایک دوسرے پر طنز کے نشتر چلاتے رہے پی پی پی کی رکن ناز بلوچ نے ایم کیو ایم کا نام لئے بغیر سوالات اٹھائے اور کہ سانحہ بلدیہ ٹاؤن کیس نے کیا تھا ؟بوری بند لاشیں اور بھتہ کس کی شناخت ہے ؟پارکوں کی چائنا کٹنگ کس کی پہنچان ہے ۔؟

ایم کیو ایم رکن خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ اربوں روپے کی کرپشن کرنے والے سیاست کے نام پر چھوڑ دئیے گئے، یہ آج سندھ کی محرومی کا رونا رو کر تصدیق کررہے ہیں کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم ناکام ہوگئی اسے اب واپس لیا جائے۔

پیپلزپارٹی رکن قومی اسمبلی شازیہ مری نے مطالبہ کیا کہ گلگت بلتستان میں ان کی حکومت بننے میں روڑے نہ اٹکائے جائیں اسلام آباد ایئرپورٹ کا نام شہید بے نظیر بھٹو کے نام پر رکھا جائے۔

بجٹ اجلاس کے دوران اراکین کی عدم دلچسپی کا یہ عالم رہا کہ ڈپٹی سپیکر سید غلام مصطفی شاہ نے اجلاس ہی نہ چلانے کی دھمکی دے ڈالی اجلاس کے دوران مغرب کی نماز کے بعد تو ارکان کی حاضری کا یہ عالم تھا صرف انیس ارکان ایوان میں موجود تھے۔

اجلاس میں بجٹ پر بحث جاری تھی کہ اجلاس کو کل دن گیارہ بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

Source: https://www.express.pk/story/2817994/asad-qaiser-demand-resign-khawaja-asif-2817994

Discussion

Sign in to join the thread, react, and share images.