Native World News

وزیراعظم اور مولانا فضل الرحمٰن کے درمیان تنہائی میں کیا باتیں ہوئیں؟ قومی اسمبلی میں دلچسپ مکالمہ

وزیراعظم اور مولانا فضل الرحمٰن کے درمیان تنہائی میں کیا باتیں ہوئیں؟ قومی اسمبلی میں دلچسپ مکالمہ

جلسوں میں کیا نواز شریف کنٹینر پر آرمی چیف اور فوج کے خلاف تقاریر نہیں کیا کرتے تھے؟ مولانا فضل الرحمٰن کا سوال

قومی اسمبلی میں وزیراعظم شہباز شریف اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے درمیان دلچسپ مکالمہ ہوا۔

مولانا فضل الرحمٰن کے خطاب کے دوران وزیراعظم محمد شہباز شریف قومی اسمبلی کے اجلاس میں پہنچے اور اپوزیشن کی نشستوں پر جاکر محمود خان اچکزئی، مولانا فضل الرحمٰن سمیت دیگر قیادت سے ہاتھ ملایا جبکہ بلاول بھٹو زرداری نے وزیر اعظم سے ان کی نشست پر جاکر ہاتھ ملایا۔

اجلاس میں نکتہ اعتراض میں بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے سوال اٹھایا تھا کہ جلسوں میں کیا نواز شریف کنٹینر پر آرمی چیف اور فوج کے خلاف تقاریر نہیں کیا کرتے تھے؟ کیا فوج کو نواز شریف محکمہ زراعت نہیں کہا کرتے تھے؟

مولانا کی گفتگو کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف اپنی نشست پر کھڑے ہوگئے اور کہا کہ مولانا صاحب، ہم سب کے لیے انتہائی لائق احترام ہیں جبکہ میرے ان سے بہترین تعلقات بھی ہیں اور ہمیشہ شفقت فرماتے ہیں۔ میں اکثر قدم بوسی کے لیے ان کے پاس حاضر ہوتا ہوں۔

کشمیر سے متعلق دیے گئے بیان پر قائم ہوں، کسی دلیل کی وجہ سے بات کی، خواجہ آصف

قومی اسمبلی؛ مختلف وزارتوں، ڈویژنوں اور محکموں کے 482ارب روپے کی ضمنی گرانٹس منظور

وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ مولانا نے اپنی تقریر کے آخر میں جو باتیں کہیں اس متعلق کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارے درمیان تنہائی میں جو باتیں ہوئیں ان پر بات نہیں کروں گا کیونکہ وہ قبر تک میرے ساتھ جائیں گی۔

مولانا فضل الرحمٰن نے اس حوالے سے کہا کہ اگر تنہائی میں کوئی بات کی ہے تو وزیراعظم کو یہاں بات کرنے اجازت ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ میں مولانا فضل الرحمٰن کی پیشکش قبول نہیں کروں گا، اگر میں بات کروں گا تو بات بہت دور تک جائے گی اور معاملات واپس نہیں آئیں گے۔

Source: https://www.express.pk/story/2819072/pm-maulana-fazlur-rehmans-private-meeting-sparks-curiosity-in-national-assembly-2819072/

Discussion

Sign in to join the thread, react, and share images.