Native World News

حکومت کا 17 کھرب روپے ٹیکس ہدف، 360 ارب روپے کی مراعات

حکومت کا 17 کھرب روپے ٹیکس ہدف، 360 ارب روپے کی مراعات

حکومت نے تنخواہ دار طبقے کو 52 ارب روپے، جبکہ رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو 115 ارب روپے کی ٹیکس رعایت فراہم کی ہے

وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27کے لیے تقریباً 17 کھرب روپے محصولات کا مجموعی ہدف مقرر کرتے ہوئے تنخواہ دار طبقے، رئیل اسٹیٹ اور کاروباری شعبے کو 360 ارب روپے کی ٹیکس رعایتیں دینے کا اعلان کیا ہے جبکہ دوسری جانب 306 ارب روپے کے نئے ٹیکس عائد کیے گئے ہیں۔حکومت نے تنخواہ دار طبقے کو 52 ارب روپے، جبکہ رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو 115 ارب روپے کی ٹیکس رعایت فراہم کی ہے تاکہ معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔

اس کے برعکس 2 سے 3 کروڑ روپے مالیت کی الیکٹرک گاڑیوں پر 30 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (FED) اور 3 کروڑ روپے سے زائد مالیت والی الیکٹرک گاڑیوں پر 40 فیصد FED عائد کر دی گئی ہے۔حکومت نے 306 ارب روپے کے اضافی ٹیکس اقدامات اور 354 ارب روپے کے نفاذی اقدامات کے ذریعے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے 15.264 کھرب روپے کے ٹیکس ہدف کو حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کی ہے۔

اس کے علاوہ 1.68 کھرب روپے پٹرولیم لیوی، 50 ارب روپے کلائمیٹ سپورٹ لیوی اور 22.8 ارب روپے الیکٹرک وہیکل اپنانے کے ٹیکس سے حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔حکومت نے معاشی سرگرمیوں کو تیز کرنے کے لیے 1,914 ٹیرف لائنز پر ریگولیٹری ڈیوٹی ختم یا کم کرنے اور 3,125 ٹیرف لائنز پر کسٹمز ڈیوٹی میں کمی کی تجویز دی ہے۔

5 فیصد کسٹمز ڈیوٹی کے سلیب کو بھی متعدد شعبوں میں ختم کیا جا رہا ہے۔جوائنٹ سیکریٹری کامرس محمد اشفاق کے مطابق قومی ٹیرف پالیسی کے دوسرے مرحلے کے تحت درآمدی ڈیوٹیوں میں کمی کرکے 180 ارب روپے کی رعایت دی گئی ہے، جبکہ اوسط وزنی ٹیرف شرح 3.56 فیصد کم ہو کر 13 فیصد رہ گئی ہے۔رواں مالی سال کے برعکس آئندہ مالی سال میں ایف بی آر کا ٹیکس ہدف آئی ایم ایف پروگرام کی باقاعدہ شرط ہوگا۔

کسی بھی کمی کی صورت میں حکومت کو آئی ایم ایف بورڈ سے رعایت لینا پڑے گی۔حکومت نے تنخواہ دار طبقے کو 52 ارب روپے کا ریلیف دیا ہے۔ماہانہ 2 لاکھ 67 ہزار روپے تک آمدن پر ٹیکس شرح 23 فیصد سے کم ہو کر 20 فیصد کر دی گئی۔ماہانہ 3 لاکھ 41 ہزار روپے تک آمدن پر شرح 25 فیصد مقرر کی گئی۔ماہانہ 4 لاکھ 67 ہزار روپے تک آمدن پر 29 فیصد ٹیکس ہوگا۔ماہانہ 5 لاکھ 83 ہزار روپے تک آمدن پر 32 فیصد ٹیکس مقرر کیا گیا۔

ماہانہ 5 لاکھ 83 ہزار روپے سے زائد (سالانہ 70 لاکھ روپے سے اوپر) آمدن پر 35 فیصد شرح برقرار رکھی گئی، تاہم اس کی حد میں نمایاں نرمی دی گئی ہے جس سے ایک فرد کو سالانہ تقریباً 2 لاکھ 57 ہزار روپے تک ریلیف مل سکتا ہے۔

ایف بی آر کے رکن حمید عتیق سرور کے مطابق 35 فیصد شرح کے اطلاق کی حد 41 لاکھ روپے سے بڑھا کر 70 لاکھ روپے سالانہ کر دی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے رئیل اسٹیٹ ٹیکس میں کمی پر تحفظات کا اظہار کیا ہے اور مذاکرات جاری ہیں۔دیگر اہم اقدامات میں برآمدی آمدن پر ٹیکس 2 فیصد سے کم کر کے 1.25 فیصد،آئی ٹی برآمدات پر 0.25 فیصد ٹیکس شرح مزید تین سال کے لیے برقرار۔بیرون ملک کریڈٹ و ڈیبٹ کارڈ لین دین پر ودہولڈنگ ٹیکس 5 فیصد سے کم کر کے 0.5 فیصد۔ایف بی آر کے ڈیجیٹل نظام سے منسلک ہونے کے لیے الیکٹرانک وسائل میں سرمایہ کاری پر 10 فیصد ٹیکس کریڈٹ۔پاکستان ریڈ کریسنٹ، سی آئی یو ٹی، شاہین فاؤنڈیشن، بحریہ فاؤنڈیشن اور دیگر فلاحی اداروں کی ٹیکس چھوٹ میں توسیع۔

بیرون ملک منقولہ اور غیر منقولہ اثاثوں پر 1 فیصد کیپٹل ویلیو ٹیکس ختم۔قومی ٹیرف پالیسی 2025-30 کے تحت حکومت نے 180 ارب روپے کی رعایت دی ہے۔20 فیصد کسٹمز ڈیوٹی کو کم کر کے 15 اور 10 فیصد کیا گیا۔15 اور 10 فیصد شرحوں کو کم کر کے 10 اور 5 فیصد کیا گیا۔92 ٹیرف لائنز پر 5 فیصد ڈیوٹی ختم۔اضافی کسٹمز ڈیوٹی سینکڑوں ٹیرف لائنز پر کم یا ختم۔2 سے 3 کروڑ روپے مالیت کی الیکٹرک گاڑیوں پر 30 فیصد FED۔

3 کروڑ روپے سے زائد مالیت والی الیکٹرک گاڑیوں پر 40 فیصد FED۔2000 سے 3000 سی سی گاڑیوں پر 70 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی۔3000 سی سی سے زائد اندرونی احتراق (Internal Combustion Engine) گاڑیوں پر 81 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

Source: https://www.express.pk/story/2817298/governments-tax-target-of-rs-17-trillion-2817298

Discussion

Sign in to join the thread, react, and share images.