وزیر اعظم شہباز شریف، مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کے ٹرولرز کا خصوصی طور پر نشانہ ہیں۔
پاکستان میں ایسے بااثر لوگ موجود ہیں جو برملا کہتے ہیںکہ دہشت گردی کے خاتمے کا واحد حل یہ ہے کہ صوبہ خیبرپختونخوا سے فوج واپس بلا لی جائے اور پولیس بھی ختم کر دی جائے۔ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے اکثر سیاستدان خصوصاً پی ٹی آئی کے لیڈر ایسی باتیں کرنے میں پیش پیش ہیں، حال ہی میں پی ٹی آئی کی ایک خاتون رہنما نے بھی ایسی ہی بات کی ہے، موصوف ایسی متنازعہ بیان بازی میں ہمیشہ پیش پیش رہی ہیں اور یہ بھی کہہ چکی ہیں کہ ہمیں پاکستان سے زیادہ اپنا بانی عزیز ہے۔ بانی ہے تو پاکستان ہے۔
پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی اقبال آفریدی نے تو انتہا کر دی،ان کے بیٹے نے بلیو پاسپورٹ حاصل کرلیا، جو اقبال آفریدی کے رکن پارلیمان ہونے کی وجہ سے جاری کیا گیا تھا۔ بلیو پاسپورٹ لے کر موصوف نے اٹلی پہنچ کر وہاں سیاسی پناہ کی درخواست کی ہے جس کا باپ پاکستان کی قومی اسمبلی کے رکن ہونے کی حیثیت سے سرکاری مراعات سے فیض یاب ہو رہا ہے اور اسی حیثیت میں اپنے بیٹے کو بھی بلیو پاسپورٹ پر ملک سے باہر بھیج کر کہہ رہا ہے کہ پاکستان رہنے کے قابل نہیں ہے، اس کے بیٹے نے اٹلی میں سیاسی پناہ کے لیے جو کیا وہ درست ہے ۔
حکومت نے تاحال اس پر کوئی کارروائی نہیںکی ہے، وزیر اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی و دیگر کو بھی کھلی چھٹی ملی ہوئی ہے کہ وہ جو چاہیں ملک کے خلاف بیانات دیں ۔ سوشل میڈیا پر تو پی ٹی آئی کے ملک و اندرون ملک رہنے والے صحافیوں، وی لاگرز،کو بھی آزادی حاصل ہے کہ وہ اپنے ملک کے خلاف جو چاہیں کہیں،کوئی انھیں روکنے والا نہیں کیونکہ سیاسی مفادات و اقتداری مصلحتوں کی شکار موجودہ حکومت آزادی اظہار رائے پر یقین رکھتی ہے۔
یہ حکومت تو وہی حکومت ہے جس کے تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں وجود میں آنے پر برطرف وزیر اعظم و بانی تحریک انصاف نے کھلے عام کہا تھا کہ تحریک عدم اعتماد کے ذریعے مجھے ہٹانے سے بہتر تھا کہ پاکستان پر ایٹم بم مار دیا جاتا۔ پی ٹی آئی کے بعض رہنما کھلے عام کہہ رہے ہیں کہ بانی آزاد نہیں تو ہمیں یہ ملک قبول نہیں۔ ہمیں یہ ملک اسی صورت میں قبول ہوگا کہ بانی کو رہا کرکے نااہل حکومت کو ہٹا کر اقتدار بانی پی ٹی آئی کے حوالے کر دیا جائے۔
وزیر اعظم شہباز شریف، مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کے ٹرولرز کا خصوصی طور پر نشانہ ہیں۔ مریم نواز خاتون ہونے کے باوجود پی ٹی آئی حکومت میں قید رہی تھیں مگر اب ان کی اپنی حکومت میں بانی کی تینوں بہنوں کو مکمل آزادی حاصل ہے کہ وہ جو چاہیں میڈیا کے سامنے بولیں۔ ان کی ایک بہن نے تو بھارتی چینل پر جو کچھ کہا وہ اس موجودہ حکومت کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہونا چاہیے تھا ۔
حکومت سوشل میڈیا کے آگے بے بس ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے چین کے دورے سے واپسی پر یہ کہا کہ ایران کے خلاف جنگ بندی میں نے پاکستان کی درخواست پر کی، حالانکہ میں جنگ بندی کا حامی نہیں تھا۔ واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے حامیوں کا موقف رہا ہے کہ جنگ بندی پاکستان نے نہیں کرائی۔ صدر ٹرمپ نے اس کی نہ صرف تردید کی بلکہ وزیر اعظم پاکستان اور اس کے فیلڈ مارشل کی ایک بار پھر تعریف کی اور اس سلسلے میں دونوں کے کردار کو سراہا۔
اہم عالمی معاملے پر غلط پروپیگنڈے کا جواب امریکی صدر نے دے دیا تو میاں نواز شریف، وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے خلاف سوشل میڈیا پر جو جو کچھ کہا جارہا ہے،کیا اس کی تردید اور حقائق کی وضاحت بھی امریکا کے صدر کی ذمے داری ہے؟
میں بھارت سے تو نہیں کہہ سکتا لیکن پی ٹی آئی کو ہی چاہیے کہ وہ حکومت کی جہاں تک اخلاقی حد میں ضرور مخالفت کرے مگر حکومت کی مخالفت سے بالاتر رہ کر اپنے ملک کے وقار کا خیال رکھے اور حکومت کی مخالفت میں اس حد تک نہ جائے جہاں وہ جا چکی ہے۔ پاکستان کو ملنے والی موجودہ عالمی عزت کا تقاضا ہے کہ اسے سیاست کی نذر نہ کیا جائے کیونکہ یہ عزت افزائی پاکستان کو ملی ہے ۔
Discussion
Sign in to join the thread, react, and share images.