Native World News

اسپتال انتظامیہ کی غفلت

اسپتال انتظامیہ کی غفلت

جو دانا ہیں وہ غم زدہ ہیں، پریشان ہیں کہ کیا ہو رہا ہے؟

گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ وہ سب واقعات ظہور پذیر ہو رہے ہیں جن کا ذکر قرآن پاک میں ہے۔ شرم ناک حالات عروج پر ہیں، بادشاہ اور اس کے نو رتن اپنی ذمے داریوں سے دستبردار ہو چکے اور عوام نے بھی غلط رنگ اپنا لیا ہے۔

مغلیہ سلطنت کی تاریخ میں ایسے واقعات نظر آتے ہیں۔ خاص طور پر مغل بادشاہ محمد شاہ ہیں جنھیں تاریخ میں محمد شاہ رنگیلے کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے اور امور سلطنت سے غفلت کے باعث بھی۔ وہ اپنے عیش و عشرت میں اس قدر مگن تھے کہ انھیں بیرونی خطرات کا علم ہی نہیں تھا، ان کی اپنی حکومت اور عوام سے بے گانگی اور غیر ذمے داری کی وجہ سے نادر شاہ نے ہندوستان پر حملہ کیا اور وہ دلی تک پہنچ گیا تب بھی وہ ناعاقبت اندیش بادشاہ ملک میں ہونے والی سرگرمیوں سے بے خبر رہا۔

اللہ ہمارے ملک پر رحم کرے، پاکستان اندرونی و بیرونی سازشوں کا شکار ہے ایسے میں حالات کی نزاکت کو سمجھنے اور مسائل کو حل کرنے کی سخت ضرورت ہے۔ بلوچستان و گلگت کے حالات، اس کے ساتھ ہی آزاد کشمیر کے خونی حالات اور ایسے واقعات کو دیکھ کر اندازہ ہو چکا ہے کہ نظام حکومت کمزور ہو چکا ہے صرف ضد، ہٹ دھرمی اور اقتدار کو طول دینا ہی گویا مقصد ہے۔ جنگیں ہمیں اس حقیقت سے آگاہ کرتی ہے کہ حالات کا کیسے مقابلہ کرنا ہے ۔ اقتدار کی ہوس جیتی ہوئی بازی پلٹ دیتی ہے۔ ملک میں انتشار ناعاقبت اندیشی اور ناقص حکمت عملی کے تحت ہے۔

جو دانا ہیں وہ غم زدہ ہیں، پریشان ہیں کہ کیا ہو رہا ہے؟ اس انتشار سے کہیں دشمن فائدہ نہ اٹھا لے۔

ایک طبقہ وہ بھی ہے جو زندگی کو تفریح کے طور پر جینے پر یقین رکھتا ہے۔ وہ اپنی زندگیوں میں خوشیوں اور محبتوں کے رنگ بھرنے کے لیے جائز و ناجائز کام کرتا ہے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ سب دائمی نہیں ہے لیکن وہ زندگی کی رعنائی اور دلکشی کے حصول کے لیے اچھے اور برے اصولوں کی کوئی تمیز نہیں کرتا ہے صرف اور صرف خواہشات کا غلام اور نفس مطمئنہ کا گلے میں پٹا ڈال کر گھومتا ہے، اس کا نفس اسے جس بات کے لیے اکساتا ہے، وہ ہاتھ باندھ کر وہی کام کرتا ہے ۔

اب اورنگی ٹاؤن کے بابے کو ہی لے لیجیے۔ یہ عمر اللہ اللہ کرنے کی اور اپنی عاقبت سنوارنے کی تھی لیکن اس نے اپنی منکوحہ کو ہی بے دردی سے قتل کر دیا اور پھر بے حیائی کے ساتھ تشہیر بھی کر رہا ہے جیسے کوئی کارنامہ انجام دیا ہو۔ اسے شاید یہ نہیں معلوم تھا کہ قاتل جہنم کا ایندھن بن کر رہے گا ۔

دوسرے ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنے حسن کی نمائش کر رہے ہیں۔ حیا ایمان کا حصہ ہے، ترجمہ: جس میں حیا نہیں اس میں ایمان نہیں۔ اسی قبیل کے بے شمار لوگ انٹرنیٹ پر نظر آ رہے ہیں، ضعیف و ناتواں، چلنے پھرنے کی سکت نہیں۔

کم عمر لڑکیوں سے شادی کرکے گویا بڑھاپے کی لاٹھی ڈھونڈ لیتے ہیں چونکہ اولاد تو ویسے بھی آج کے زمانے میں ناخلف ہے۔ بہت کم خوش قسمت والدین ایسے ہیں جن کے بچے فرماں بردار ہیں۔ یہ بابے خوش شکل بھی نظر نہیں آتے ہیں، سر پر بال نہیں اور گال ضعف کے باعث ٹائر میں پنکچر کی طرح پچک چکے ہیں لیکن شادی ضرور کریں گے۔

کئی سال قبل اسپتالوں سے نوزائیدہ بچوں کے اغوا ہونے کی خبریں پورے شہر بلکہ پوری دنیا میں گشت کرتی تھیں اب بھی انسانی اسمگلنگ کے واقعات سامنے آتے ہیں لیکن اب ذرا کم ہو گئے ہیں۔ زندگیاں اور عزتیں خطرے میں ہیں، دو چار روز قبل کی خبر ہے جب کوئٹہ کی ڈاکٹر ماہ نور پر تیزاب پھینکا گیا، ان کا چہرہ اور بدن کا کچھ حصہ جھلس گیا۔

ڈاکٹر ماہ نور ناصر کوئٹہ کے سول سینڈیمن اسپتال میں تعینات تھیں وہ ٹرینی لیڈی سرجن، میڈیکل آفیسر ہیں، وہ فرنٹ لائن پر اپنی پیشہ ورانہ ذمے داریاں نبھا رہی تھیں۔ 6 جون 2026 کا واقعہ ہے جب وہ ڈیوٹی پر تھیں اسی دوران لفٹ آپریٹر ہمایوں شاہ سرجیکل وارڈ کے منظرنامے میں نمایاں ہوتا ہے اور ڈاکٹر ماہ نور پر تیزاب پھینک دیتا ہے، لیکن اللہ کا کرم ان کی بینائی محفوظ رہی۔

ڈاکٹر کو بچانے والا وارڈ بوائے عبدالرزاق ترکئی خود بھی زخمی ہوا لیکن اس نے اللہ کے حکم کی پیروی اور رسول پاکؐ کی سنت پر عمل کیا۔ اس نے انسانیت کی لاج رکھی، آج بھی وہ اسپتال میں زیر علاج ہے۔ ڈاکٹر ماہ نور کو ایئر ایمبولینس کے ذریعے کراچی کے ایک اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کا علاج جاری ہے اور ان کی حالت بقول ڈاکٹروں کے تسلی بخش ہے۔

اس واقعے سے پہلے بھی کئی لیڈی ڈاکٹرز تشدد کا نشانہ بنیں۔ ایک واقعہ ایبٹ آباد میں پیش آیا تھا جہاں ڈاکٹر وردہ مشتاق کو پہلے اغوا کیا گیا اور پھر قتل کر دیا گیا۔ پاکستان میں ڈاکٹرز پر تشدد اور حملوں کا مسئلہ سنگینی اختیار کر چکا ہے۔

حکومتوں کو چاہیے اپنے ملک و قوم کی بیٹیوں کا تحفظ کریں وہ مسیحا ہیں، اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر زخموں پر مرہم رکھتی ہیں۔ ڈاکٹر ماہ نور کا واقعہ خواتین ڈاکٹرز کی سیکیورٹی اور بلوچستان کے طبی نظام پر سنگین سوالات اٹھا گیا ہے۔

کوئٹہ میں ٹراما سینٹر ہونے کے باوجود ڈاکٹر ماہ نور کو علاج کے لیے کراچی اسپتال میں منتقل کرنا پڑا۔ حکومت کا فرض ہے تعلیم کو عام کرے تاکہ لوگ عقل و شعور سے آشنا ہو کر وحشیانہ عمل سے بچ سکیں۔

Source: https://www.express.pk/story/2817416/negligence-of-hospital-management-2817416

Discussion

Sign in to join the thread, react, and share images.