دنیا بھر میں ہر سال 20 جون کو عالمی یومِ مہاجرین منایا جاتا ہے۔
دنیا بھر میں ہر سال 20 جون کو عالمی یومِ مہاجرین منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد ان لاکھوں افراد کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنا ہے جو جنگ تنازعات ظلم و ستم قدرتی آفات اور دیگر سنگین حالات کی وجہ سے اپنے گھروں اور وطن کو چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ مہاجرین بھی انسان ہیں اور انھیں بھی عزت، تحفظ ،تعلیم ،صحت اور بہتر زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔
مہاجر وہ شخص ہوتا ہے جو اپنی جان آزادی یا بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنے ملک سے دوسرے ملک میں پناہ لینے پر مجبور ہو جائے۔ دنیا میں مختلف خطوں میں جاری جنگیں اور سیاسی عدم استحکام لاکھوں افراد کو بے گھر کر چکا ہے۔ ان افراد میں مرد خواتین بچے اور بزرگ سب شامل ہیں جو اپنے گھروں کاروبار تعلیمی اداروں اور سماجی زندگی کو پیچھے چھوڑ کر نامعلوم مستقبل کی طرف سفر کرتے ہیں۔
عالمی یومِ مہاجرین کی بنیاد اقوام متحدہ نے رکھی۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے سال 2000 میں فیصلہ کیا کہ ہر سال 20 جون کو عالمی یومِ مہاجرین منایا جائے۔ اس دن دنیا بھر کے لوگوں کو مہاجرین کے مسائل مشکلات اور حقوق کے بارے میں آگاہی فراہم کی جاتی ہے۔ مختلف ممالک بین الاقوامی ادارے اور سماجی تنظیمیں اس دن خصوصی تقریبات سیمینار اور آگاہی مہمات کا انعقاد کرتے ہیں۔
ہجرت زدہ افراد کو اپنے سفر کے دوران بے شمار مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انھیں خوراک، پانی، رہائش اور طبی سہولتوں کی کمی کا سامنا ہوتا ہے۔ بہت سے مہاجرین خطرناک راستوں سے گزرتے ہیں جہاں ان کی جان کو شدید خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ سمندر کے ذریعے دوسرے ممالک پہنچنے کی کوشش میں ہزاروں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ اس کے علاوہ انھیں نئے ممالک میں زبان، ثقافت، روزگار اور تعلیم جیسے مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔
بچوں پر ہجرت کے اثرات سب سے زیادہ گہرے ہوتے ہیں۔ لاکھوں بچے تعلیم سے محروم ہو جاتے ہیں اور انھیں نفسیاتی دباؤ خوف اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بعض اوقات یہ بچے اپنے والدین سے بچھڑ جاتے ہیں یا یتیم ہو جاتے ہیں۔ ایسے حالات میں ان کی جسمانی اور ذہنی نشوونما شدید متاثر ہوتی ہے۔ اسی لیے عالمی ادارہ مہاجرین بچوں کی تعلیم اور فلاح و بہبود کے لیے خصوصی پروگرام ترتیب دیتے ہیں۔ خواتین مہاجرین بھی بیحد مشکلات کا سامنا کرتی ہیں۔ انھیں عدم تحفظ ،صنفی امتیاز اور بعض اوقات تشدد کے خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مہاجر کیمپوں میں رہنے والی خواتین کے لیے صحت کی سہولیات اور بنیادی ضروریات کی فراہمی ایک بڑا چیلنج ہوتی ہے۔ اس لیے بین الاقوامی تنظیمیں خواتین اور بچوں کے تحفظ کو اپنی ترجیحات میں شامل کرتی ہیں۔
دنیا کے مختلف حصوں میں جاری تنازعات نے ہجرت زدہ افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ کیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ ،افریقہ، ایشیا اور دیگر خطوں میں ہونے والی جنگوں نے لاکھوں افراد کو نقل مکانی پر مجبور کیا ہے۔ بہت سے لوگ اپنے ملک کے اندر ہی بے گھر ہو جاتے ہیں جب کہ کچھ دوسرے ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ان حالات نے عالمی برادری کے لیے ایک بڑا انسانی مسئلہ پیدا کر دیا ہے جس کے حل کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔
پاکستان بھی مہاجرین کی میزبانی کرنے والے اہم ممالک میں شامل رہا ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان نے لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ فراہم کی۔ یہ ایک قابلِ ذکر انسانی خدمت ہے جسے دنیا بھر میں سراہا گیا، اگرچہ اس عمل کے دوران پاکستان کو معاشی اور سماجی چیلنجز کا سامنا بھی کرنا پڑا لیکن اس نے انسانی ہمدردی کی ایک روشن مثال قائم کی۔
عالمی یومِ مہاجرین ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ مہاجرین صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ خوابوں امیدوں اور جذبات رکھنے والے انسان ہیں۔ انھیں ترس یا ہمدردی سے زیادہ مواقع احترام اور انصاف کی ضرورت ہے، اگر انھیں مناسب ،تعلیم ،روزگار اور سماجی قبولیت فراہم کی جائے تو وہ سماج کی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں۔ دنیا کے کئی ممالک میں مہاجرین نے سائنس، تعلیم، کاروبار، فنون اور کھیل کے میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
اس دن کا ایک اہم پیغام رواداری محبت اور انسانیت کا فروغ بھی ہے۔ مختلف قوموں مذاہب اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کو قبول کرنا اور ان کے ساتھ مساوی سلوک کرنا ،ایک مہذب سماج کی علامت ہے۔ نفرت تعصب اور امتیازی رویے مہاجرین کی مشکلات میں مزید اضافہ کرتے ہیں جب کہ تعاون اور ہمدردی ان کے لیے نئی امید پیدا کرتے ہیں۔
تعلیمی اداروں میڈیا اور سماجی تنظیموں کا فرض ہے کہ وہ مہاجرین کے مسائل کو اجاگر کریں اور عوام میں شعور بیدار کریں۔ نوجوان نسل کو یہ سکھانا ضروری ہے کہ ہر انسان عزت اور احترام کا مستحق ہے چاہے اس کا تعلق کسی بھی ملک زبان یا ثقافت سے ہو۔ اسی سوچ کے ذریعے ایک زیادہ منصفانہ اور پرامن دنیا کی تعمیر ممکن ہے۔
عالمی یومِ مہاجرین صرف ایک یادگاری دن نہیں بلکہ انسانیت کے ساتھ وابستگی کے عزم کی تجدید کا موقع ہے۔ یہ دن ہمیں ان لوگوں کی مشکلات کو سمجھنے اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کرنے کی ترغیب دیتا ہے جو اپنے گھروں سے محروم ہو چکے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم مہاجرین کے ساتھ ہمدردی احترام اور تعاون کا رویہ اپنائیں تاکہ وہ بھی امن وقار اور امید کے ساتھ اپنی زندگی دوبارہ تعمیر کر سکیں۔ ایک بہتر اور پرامن دنیا کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ ہم مہاجرین کے مسائل کو اپنی مشترکہ ذمے داری سمجھیں اور ان کے لیے روشن مستقبل کی راہ ہموار کریں۔
Discussion
Sign in to join the thread, react, and share images.