حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پوری تین رات خواب میں اپنے بیٹے کو ذبح کرتے دیکھا
ان کی کہانی تیار تھی، فائنل ہو چکا تھا (فائنل دراصل بٹر پیپر پر ہوئی وہ کمپوزنگ، اشاعتی زبان میں کہلاتی ہے جس کو اب محض چھپائی کے لیے بھیجنا ہے، مکمل تیار مواد) کہانی ہمارے پرنٹ میڈیا کی اور مشہور ڈرامہ رائٹر (جن کا کچھ عرصہ قبل ہی انتقال ہوا ہے) کی بہن کی تھی۔
’’یہ کیا اس کہانی میں یہ لکھا ہے کہ انتقال ہو گیا تو میت کو اس کے علاقے میں ہوائی جہاز سے بھیجنے کے لیے سب نے پیسے جمع کیے۔‘‘
’’جی اور اس کے لیے قربانی کے لیے جمع کیے گئے پیسوں کو سب محلے والے ملا کر دیتے ہیں کہ میت بہ ذریعہ ہوائی جہاز مرنیوالے کے علاقے میں جائے۔‘‘
’’پہلی بات تو یہ کہ یہ ہمارے اسلام میں نہیں ہے یعنی جس شخص کا جہاں جس جگہ انتقال ہوا ہے (شہر) اسے وہیں دفن کیا جائے اور دفنانے میں بھی دیر نہیں کرنی چاہیے۔‘‘
’’لیکن سنا ہے کہ بیرون ملک اکثر مرنیوالے کو اس کے ساتھی مل بانٹ کر خرچا کرکے پاکستان بھیجتے ہیں۔‘‘
وہ ایک الگ مسئلہ ہے کہ بیرون ملک پر اندرون ملک۔ بہرحال یہ کیا کہانی ہوئی۔ اور پھر مدد کی قربانی کے پیسوں سے۔ اگر مدد ۔۔۔۔‘‘یہ ایک بحث جاری رہی جو ایک مثبت سوچ اور فکر کو انجام پاتی ختم ہوئی۔
قربانی کا جذبہ، اس کا فلسفہ آج کل کے سوشل میڈیا کے دور میں گو اپنی مرضی سے تراش خراش کرکے ایک نئی سوچ اور جذبے کو لوگوں تک پہنچا کر سمجھتے ہیں کہ انھوں نے ایک بہترین آئیڈیا پیش کیا ہے کہ صدیوں سے جو ہوتا چلا آیا ہے اسے ہم یوں بھی تو کر سکتے ہیں۔
’’لوگ اپنے پیسے قربانی پر خرچ کرتے ہیں جانور خریدتے ہیں اگر ان پیسوں سے کسی غریب کی مدد کر دیں۔‘‘
یہ سوال چند سالوں سے سن رہے ہیں، کیا یہ ہے قربانی کا فلسفہ۔ بحث معمولی نہیں لیکن توجہ طلب ہے۔ ابھی حال ہی میں ایک قابل قدر ہستی نے اس کو آسان الفاظ میں سمجھایا۔
’’بات دراصل یہ ہے کہ لوگوں کا یہ کہنا کہ قربانی پر جو پیسے لوگ خرچ کرتے ہیں تو ان سے کسی غریب کی مدد کر دی جائے تو پھر قربانی کا کیا۔ اس طرح ایک رجحان پیدا کرنا اور قربانی یعنی جانور کو قربان کرنا جو اللہ کی رضا کے لیے کیا جاتا ہے اس نسبت سے دور کرنا ہے، بہ ظاہر یہ ایک اچھی بات اور جذبے کو اجاگر کرتا ہے لیکن اصل مقصد سنت ابراہیمی سے دور کرنا۔
دوسری بات یہ کہ اسلام میں ایسا ہرگز نہیں ہے کہ گھر میں جتنے بھی افراد ہیں سب کی جانب سے ایک ایک جانور قربان کریں، ہمارے یہاں ایسی قومیں بھی ہیں جو پیدا ہوئے بچے کے نام پر بھی جانور قربان کرتے ہیں یہ غلط ہے۔
حدیث اٹھا کر پڑھ لو۔۔۔ اتنی کتابیں رکھی ہیں کہ سب گھر کے افراد کی طرف سے ایک جانور بھی قربان کیا جا سکتا ہے اور جو پیسے قربانی کے لیے بچے انھیں لوگوں کی مدد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے لیکن اگر دکھاوا کرنا ہو کہ اتنے لاکھوں کا بیل، گائے بکرا لیا ہے تو اسے قربانی کہنا کیا جائز ہوگا، خود سوچو۔۔۔۔ لیکن جو سنت ہے اس کا مقصد اور فلسفہ اس سے پیچھے نہیں ہٹنا اسے زندہ رکھنا ہے۔
مسئلہ عید قرباں کے خریدے گئے جانوروں کی قیمت ہے یا وہ جذبہ جو اچانک عود کر آتا ہے جسے لوگوں کی مدد کرنا کہتے ہیں، کیا وہ اس وقت سو جاتا ہے جب عید قرباں گزر جاتی ہے یا بہت دور ہوتی ہے۔
’’یقین کریں میرے گھر تو ایک بوٹی بھی نہیں آئی گوشت کی۔‘‘’’کیا واقعی۔۔۔۔ آس پڑوس سے بھی گوشت نہیں آیا؟‘‘’’سچ کہتی ہوں، ایک بوٹی جو آئی ہو۔ لگتا ہے لوگ قربانی اپنے لیے کرتے ہیں اور اپنے فریجوں میں بھر لیتے ہیں۔‘‘
یہ ایک افسوس ناک پہلو ہے جسے سمجھنا مشکل نہیں شاید ہم سمجھنا ہی نہیں چاہتے۔ وہ ایک غریب خاتون جو کسی فیکٹری میں سارا دن لگا کر اپنی فیملی کو سپورٹ کرتی ہے، کرائے کے گھر اور گیس بجلی کے بلوں کے علاوہ کھانے پینے کے اخراجات الگ، ایسے میں عید قرباں ایسے لوگوں کے لیے نعمت سے کم نہیں ہوتی لیکن جب اس نعمت پر کنجوسی اور خودغرضی کا خول چڑھ جائے تو اس کے فلسفے کا کیا؟
ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پوری تین رات خواب میں اپنے بیٹے کو ذبح کرتے دیکھا، ایک پیغمبر نے اپنے بیٹے کو ذبح کرتے دیکھا اور اس کا مقصد کھوجتے بیٹے سے پوچھتے، دونوں باپ بیٹے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اس حکم خداوندی کو بجا لانے کا فیصلہ کر لیا۔
جب طے پا گیا تو شیطان نے تین بار باپ بیٹے کو بہکانے کی کوشش کی، وہ مقام منیٰ کا تھا جہاں انھوں نے شیطان کو پتھر مارے (دوران حج جمرات کے مقام پر رمی کرتے ہیں۔) یہ عمل آج بھی یاد دلاتا ہے کہ شیطان نے بہکایا تھا کہ دو عظیم ہستیاں اپنے رب کی رضا سے منہ موڑ لیں۔
باپ کا اپنے بیٹے سے شدید محبت کرنا فطری قدرتی عمل ہے اور کیسے کوئی باپ اپنے ہی لخت جگر کو رب کی رضا کے لیے قربان کر سکتا ہے، لیکن دونوں اپنے فیصلے پر ڈٹے رہے۔
مصمم ارادہ تھا قائم رہے۔ پر آج ہم کیا کر رہے ہیں، قربانی کے فلسفے کو دفن کرکے باربی کیو پارٹیز، قیمے، نہاری، پائے اور نہ جانے کیا کچھ ایک دوسرے کو کھلا کر نئے کھانوں کے ذائقوں سے مستفید ہوتے ہیں لیکن وہ لوگ جو اس اصل قربانی کے گوشت کے حق دار ہیں ، انھیں محروم رکھا جاتا ہے۔
زیادہ ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں وہ ہمارے ہی ارد گرد کسی مزدور، محنت کش یا خاموش تماشائی کی صورت مل ہی جاتے ہیں بس ان تک پہنچنا ہی آپ کا اصل کمال ہے، وہ قدرت کے نظام میں آپ کے درجے مقرر کرتا ہے اور کیا ہمیں اس اصل تحفے سے مستفید نہیں ہونا جو عید قرباں کے جانور کی قربانی سے حاصل ہو سکتا ہے، کسی کی دعا، کسی کی مسکراہٹ اور کسی کی اشکبار آنکھوں سے آنسو کی صورت کہ کب اس کی بارگاہ میں ہماری بازیابی ہو جائے۔ کیا پتا اسی عید قرباں پر۔
Discussion
Sign in to join the thread, react, and share images.