چھوٹی کشتی میں سوار نقاب پوش افراد نے تجارتی جہاز کے قریب آکر اندھا دھند فائرنگ کی
یمن کے جنوبی ساحل سے 14 ناٹیکل میل دور بحیرہ عرب میں ایک تجارتی کنٹینر جہاز پر ایک چھوٹی کشتی (اسکف) میں سوار مسلح افراد نے فائرنگ کرنے کے بعد جہاز پر چڑھنے کی کوشش کی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس بات کی تصدیق برطانیہ کے بحری تجارتی آپریشنز ادارے(UKMTO)نے کی۔
برطانوی ادارے UKMTO کے بیان میں کہا گیا ہے کہ کنٹینر جہاز نے اطلاع دی کہ ایک چھوٹی کشتی اس کے قریب آئی جس میں موجود افراد نے جہاز پر فائرنگ کی اور اس پر سوار ہونے کی کوشش کی۔
تاحال اس واقعے میں کسی قسم کے جانی اور مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ حملہ آور جہاز میں چڑھنے کی کوشش میں ناکامی کا سامنا کرنے کے بعد ہوائی فائرنگ کرتے ہوئے واپس چلے گئے۔
اب تک کسی گروپ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ متعلقہ حکام نے تحقیقات شروع کر دی ہیں تاہم فوری طور پر حملہ آوروں کی شناخت، ان کے مقاصد یا کسی جانی نقصان کے بارے میں تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
برطانوی بحری ادارے نے علاقے سے گزرنے والے تمام تجارتی جہازوں کو محتاط رہنے، حفاظتی اقدامات مزید سخت کرنے اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع دینے کی ہدایت کی ہے۔
بحری سلامتی سے متعلق اداروں کا کہنا ہے کہ یمن اور خلیج عدن کے اطراف کے سمندری راستوں میں حالیہ مہینوں کے دوران اس نوعیت کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
چند روز قبل بھی یمن کے جنوب مغرب میں ایک مال بردار جہاز کے قریب مسلح افراد پر مشتمل کشتی آئی تھی، جس کے بعد دونوں جانب فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور حملہ آور فرار ہو گئے تھے۔
ماہرین کے مطابق خلیج عدن، بحیرۂ عرب اور یمن کے ساحلی پانی دنیا کی اہم ترین تجارتی گزرگاہوں میں شمار ہوتے ہیں۔ اس خطے میں گزشتہ چند برسوں کے دوران قزاقی، مسلح لوٹ مار اور علاقائی کشیدگی کے باعث بحری سلامتی کے خدشات مسلسل برقرار رہے ہیں۔
Discussion
Sign in to join the thread, react, and share images.