جسٹس سید حسن اظہر رضوی نے اس حوالے سے تحریری فیصلہ جاری کر دیا
وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ سرکاری ملازمین کی سینیارٹی لسٹیں نہیں چھپائی جاسکتیں اور تمام فہرستیں ویب سائٹس پر ڈالنا لازمی ہے، کنٹریکٹ ملازمین کو سنیارٹی میں شامل نہیں کیا جاسکتا۔
جسٹس سید حسن اظہر رضوی نے اس حوالے سے 20 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
وفاقی آئینی عدالت نے حکم دیا کہ تمام سرکاری محکموں، خود مختار اداروں اور کارپوریشنز کی سینیارٹی لسٹیں ہر سال جنوری میں اپ ڈیٹ کی جائیں۔ عدالت کے مطابق ایک ہی بیچ کے ملازمین کی سینیارٹی کا تعین میرٹ لسٹ میں دی گئی میرٹ پوزیشن کے مطابق ہی کیا جانا چاہیے۔
عدالت نے قرار دیا کہ ’’پہلے آؤ، پہلے پاؤ‘‘ کا من مانا عنصر پبلک ایڈمنسٹریشن کے منصفانہ نظام کے منافی ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ سینیارٹی لسٹوں کی معلومات تک رسائی ہر شہری اور ملازم کا آئینی و بنیادی حق ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ ملازمت کے معاہدے میں لکھی گئی خلاف قانون شرط ملازم کے حقوق ختم نہیں کر سکتی۔ عدالت نے فیصلے کی کاپی فوری طور پر چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز کو عمل درآمد کے لیے بھیجنے کا حکم بھی دیا۔
عدالت نے مستقلی کے 7 سال بعد تک سینیارٹی لسٹ جاری نہ کرنے پر پورٹ قاسم اتھارٹی پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ عدالت کے مطابق تمام سرکاری اور نیم سرکاری محکمے نئی بھرتی، ترقی یا مستقلی کے فوراً بعد سینیارٹی لسٹیں ریوائز کرنے کے پابند ہوں گے۔
وفاقی آئینی عدالت نے پائلٹ کیپٹن محمد علی خان کی سینیارٹی سے متعلق اپیل منظور کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ غیر قانونی قرار دے دیا۔ عدالت نے پورٹ قاسم اتھارٹی کی جاری کردہ متنازع سینیارٹی لسٹ بھی کالعدم قرار دے دی۔
عدالت نے پورٹ قاسم اتھارٹی کو فوری طور پر نئی اور درست سینیارٹی لسٹ جاری کرنے کا حکم دیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ پورٹ قاسم اتھارٹی نے میرٹ کے باوجود درخواست گزار کو صرف ایک دن تاخیر سے جوائن کرنے پر جونیئر قرار دیا تھا۔
وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ ایک ہی بیچ اور ایک ہی اشتہار کے تحت بھرتی ہونے والے ملازمین کی سینیارٹی جوائننگ کی تاریخ کے بجائے میرٹ نمبر سے طے ہوگی۔ عدالت کے مطابق سلیکشن کمیٹی کی سفارشات پر محکمہ مرضی سے جوائننگ لیٹر دے کر سینیارٹی خراب نہیں کر سکتا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جوائننگ کی تاریخ کی بنیاد پر جونیئر کرنا آئین میں دیے گئے برابری کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ ملازم کو جوائن کرنے کے لیے 7 دن کا وقت ملتا ہے اور اس دوران پہلے یا بعد میں آنے سے سینیارٹی پر فرق نہیں پڑتا۔
وفاقی آئینی عدالت نے کہا کہ بے روزگاری کے خوف سے ملازم سخت شرائط ماننے پر مجبور ہوتا ہے اور محکمہ ملازم کی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر قانون نہیں بدل سکتا۔ عدالت نے قرار دیا کہ سندھ ہائی کورٹ نے پرانے عدالتی فیصلوں کے اصول اس کیس پر غلط لاگو کیے۔
صرف مستقل ملازمین سنیارٹی کا حق دار قرار
وفاقی آئینی عدالت نے صرف مستقل ملازمین کو سنیارٹی کا حق دار قرار دیا اور کہا کہ واضح قوانین کی عدم موجودگی میں کنڑیکٹ ملازمین سنیارٹی میں شامل نہیں کیا جاسکتا، کنٹریکٹ ملازمین اور ریگولر ملازمین کی تقرری برابر نہیں ہوسکتی، کنٹریکٹ ملازمین کو ریگولر ملازمین کے طور پر ڈیل نہیں کیا جاسکتا، ریگولر ہونے سے پہلے کی ملازم کو ریگولر کیڈر کے طور شمار نہیں کیا جاسکتا۔
آئینی عدالت نے کہا کہ کنٹریکٹ ملازم سنیارٹی میں حق نہیں رکھتا، سنیارٹی صرف ریگولرائزیشن سے شروع ہوتی ہے۔
آئینی عدالت نے سندھ ایمپلائز سوشل سیکیورٹی کو سنیارٹی فہرست دوبارہ مرتب کرنے کا حکم دے دیا اور کہا کہ ساٹھ روز میں دوبارہ سنیارٹی فہرست مرتب کی جائے۔
عدالت نے ڈائریکٹر نادر حسین کی پچھلی تاریخوں سے ریگولرائزیشن اور سنیارٹی کے نوٹیفکیشن بھی کالعدم کردیے اور سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ بھی کالعدم قرار دے دیا۔
Discussion
Sign in to join the thread, react, and share images.