میلانوما کو ختم کرنے والا بیکٹیریا سمندری جانداروں ایسیڈینز پر نشوونما پا رہا تھا
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اینٹارکٹیکا کے برفیلے سمندری پانیوں میں رہنے والی ایک قسم کے بیکٹیریا میں مستقبل کے کینسر کے علاج (خصوصاً میلینوما کے خلاف) کے اہم راز چھپے ہو سکتے ہیں۔
محققین نے دریافت کیا کہ یہ میلانوما کو ختم کرنے والا بیکٹیریا سمندری جانداروں ایسیڈینز (جنہیں سی اسکوئرٹس بھی کہا جاتا ہے) پر نشوونما پا رہا تھا۔
یہ دریافت دنیا کے انتہائی دور افتادہ اور دشوار گزار علاقوں میں کی جانے والی چھ ہفتوں پر مشتمل ایک سائنسی مہم کے دوران ہوئی۔
یونیورسٹی آف ساؤتھ فلوریڈا میں کیمسٹری کے پروفیسر بِل بیکر نے بتایا کہ ہم نے سب سے پہلے دریافت کیا کہ یہ سمندری جاندار ایک ایسے بیکٹیریا کی میزبانی کرتا ہے جس میں ایک زہریلا مرکب موجود ہے۔ یہ مرکب میلینوما کینسر کے خلیات کو ہلاک کر دیتا ہے، جبکہ عام انسانی خلیات کو نقصان نہیں پہنچاتا۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ دواؤں کی تیاری میں یہی خصوصیت سب سے زیادہ اہم ہوتی ہے کیونکہ مقصد بیماری کا علاج کرنا ہے، مریض کو نقصان پہنچانا نہیں۔
Discussion
Sign in to join the thread, react, and share images.