پیپلز پارٹی کی قیادت کی جانب سے مسلم لیگ پر الزام تراشی یا توہین آمیز رویہ اختیار کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے
مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے پاکستان پیپلز پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی کی مقامی حکومت حاصل کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کرنے والے اور ہماری ضمانت پر ایم کیو ایم کے ساتھ کیے گئے وعدوں سے پھرنے والے مسلم لیگ (ن) کو لاہور میں حکومت سازی کے طعنے نہیں دے سکتے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ ’گلگت بلتستان کے انتخابات میں پیپلز پارٹی نے تقریباً 28 فی صد اور مسلم لیگ ن نے 22 فی صد ووٹ حاصل کیے، غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق پی پی پی نے 10 اور مسلم لیگ ن نے 6 نشستیں جیتیں جبکہ 2 آزاد امیدوار مسلم لیگ ن کے حمایت یافتہ تھے‘۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین اچھی طر ح جانتے ہیں کہ اعلیٰ مسلم لیگی قیادت نے الیکشن کے بعد 72 گھنٹے کے اندر از خود رابطہ کر کے صدر زرداری اور انھیں پیپلز پارٹی کو گلگت بلتستان اسمبلی میں سنگل لارجسٹ پارٹی تسلیم کرتے ھوئے، حکومت سازی میں حمایت کرنے کا عندیہ دیدیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کا مقصد گلگت بلتستان کو ہارس ٹریڈنگ اور سیاسی سودے بازی سے بچانا تھا، اس کے باوجود ppp قیادت کی جانب سے مسلم لیگ پر الزام تراشی یا توہین آمیز رویہ اختیار کرنے کا کوئی جواز تھا نہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ 15 جون کو چند حلقوں میں ہونیوالے جزوی انتخابات کروانے کی مکمل ذمہ داری مقامی شکایت کنندگان اور الیکشن کمشن پر ہے، مسلم لیگ ن کے ایک حلقے کے نتائج کو بھی چیلنج کیا گیا ہے۔
رہنما مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ کراچی کی مقامی حکومت حاصل کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کرنے والے اور ہماری ضمانت پر MQM کے ساتھ کیے گئے وعدوں سے پھرنے والے مسلم لیگ ن کو لاہور میں حکومت سازی کے طعنے نہیں دے سکتے۔
سعد رفیق نے کہا کہ ہم PPP قیادت کی بہت عزت کرتے ہیں لیکن احترام کی یک طرفہ ٹریفک نہیں چل سکتی۔
گلگت بلتستان کے انتخابات میں پیپلز پارٹی نے تقریباً 28 فی صد اور مسلم لیگ ن نے 22 فی صد ووٹ حاصل کیے ۔۔ غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کیمطابق پی پی پی نے 10 اور مسلم لیگ ن نے 6 نشستیں جیتیںجبکہ دو آزاد امیدوار مسلم لیگ ن کے حمایت یافتہ تھےپیپلز پارٹی کے چئیرمین اچھی طر ح جانتے…
Discussion
Sign in to join the thread, react, and share images.