Native World News

پارلیمنٹ کی مضبوطی کا خواب

پارلیمنٹ کی مضبوطی کا خواب

ارکان اسمبلی کو ہر وزیراعظم سے یہ شکایت رہتی ہے کہ وہ اسمبلی میں بہت کم آتے ہیں

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور پختونخوا ملی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس سے خطاب میں کہا کہ پارلیمنٹ کو مضبوط کریں اور حکومت اپنی غلطیوں کی اصلاح کرے۔ ’’میں وزیر اعظم سے کہتا ہوں کہ آئیں بیٹھیں اور معاملات کو آگے بڑھائیں، ایک معاہدہ کریں تاکہ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کی ٹانگیں نہ کھینچیں، اسی میں ملک کا فائدہ ہے۔‘‘ محمود اچکزئی نے جس بجٹ اجلاس میں یہ مشورے دیے، اس اجلاس میں اپوزیشن نے ہنگامہ آرائی بھی کی جس کی وجہ سے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔

کئی ماہ بعد وزیر اعظم قومی اسمبلی میں تشریف لائے اور اپنے خطاب میں کہا کہ حکومت تو اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات پر تیار ہے اور سیاسی قوتوں کے درمیان نئے قومی معاہدے کی ضرورت ہے۔ بجٹ اجلاس بہت اہم اور سال میں ایک بار ہوتا ہے ، ارکان قومی اسمبلی کی کل تعداد ساڑھے تین سو کے قریب ہے جن کی قومی ذمے داری کا یہ حال ہے کہ تقریباً تین سو ارکان نے بجٹ اجلاس میں آنا گوارا نہیں کیا۔

حالانکہ سب کو پتا تھا کہ بجٹ اجلاس میں وزیر اعظم بھی ضرور آئیں گے اور انھیں ان سے ایوان میں ملنے کا موقعہ مل جائے گا ۔ وزیر اعظم ملکی مصروفیات کے باعث قومی اسمبلی اجلاس میں مہینوں بعد آتے ہیں کیونکہ انھیں ملکی معاملات کے ساتھ ساتھ غیر ملکی معاملات بھی دیکھنے ہوتے ہیں ،وہ بہت سے معاملات طے کرنے کے لیے غیر ملکی دوروں پر رہتے ہیں ،اس لیے وہ اس ایوان میںکم ہی آتے ہیں۔

ارکان اسمبلی کو ہر وزیراعظم سے یہ شکایت رہتی ہے کہ وہ اسمبلی میں بہت کم آتے ہیں، ان کی یہ شکایت بجا ہے مگر انھیں وزیر اعظم کی مصروفیات کا بھی خیال رکھنا چاہیے کہ انھیں پورے ملک کے اندرونی اور بیرونی معاملات طے کرنا ہوتے ہیں،اگر وہ ہر اسمبلی اجلاس میں گھنٹوں شرکت کرنے لگیں تو پھر دیگر ملکی معاملات کون چلائے گا۔ارکان اسمبلی کو سابق وزیر اعظم نواز شریف سے بھی یہ شکایت رہتی تھی کہ وہ اسمبلی اجلاس میں بہت کم آتے ہیں۔ میاں نواز شریف جب اپنے اقتدار میں ایک سال تک سینیٹ اجلاس میں شریک نہیں ہوئے تھے تو پی پی سینیٹر اعتزاز احسن نے وزیر اعظم کے نہ آنے پر طنزیہ بیان دیا تھا۔

پارلیمنٹ کے اجلاسوں میں شرکت کا ریکارڈ صرف وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور وزیر اعظم میر ظفر اللہ جمالی اور وزیر اعظم محمد خان جونیجو کا بہت اچھا اور باقی کا اس کے برعکس رہا ہے کہ وہ جس ایوان کے ذریعے منتخب ہوتے ہیں اور بعد میں اسی کے اجلاسوں میں کم آتے ہیں بلکہ قومی اسمبلی آنے سے ان کے وزرا بھی کتراتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ قومی اسمبلی کے ذریعے منتخب ہونے والا وزیر اعظم ہی اجلاسوں میں نہیں آئیں گے تو ان کے وزیروں کو کیا پڑی کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاسوں میں شرکت کریں اور ارکان کے سوالات کا جواب دیں۔

پارلیمنٹ کا یہ حال ہے کہ وزرا سوالات کا جواب دینے کی ذمے داری پارلیمانی سیکریٹریوں اور اعلیٰ افسروں پر ڈال دیتے ہیں اور وہ بھی ایوان میں نہیں آتے۔ آئین کے مطابق جو قائمہ کمیٹیاں بنتی ہیں اور وزیروں کو طلب کرتی ہیں تو متعلقہ وزیر وہاں بھی جانا گوارا نہیں کرتے جب وہ پارلیمان کے اجلاسوں میں نہیں جاتے تو وہ چیئرمین قائمہ کمیٹی کی طلبی پر وہاں کیوں جائیں۔ ایسے اجلاسوں میں تو بلانے پر متعلقہ افسران بھی جانا پسند نہیں کرتے جس پر قائمہ کمیٹیوں میں ان کی غیر حاضری پر اظہار برہمی ہوتا رہتا ہے۔

ہر حکومت میں سینیٹ، قومی و صوبائی اسمبلیوں میں بھی ارکان کی عدم دلچسپی کا یہی حال رہا ہے جہاں ارکان کی تاخیر کی وجہ سے کبھی اجلاس وقت پر شروع نہیں ہوتا اور معمولی کورم پر اگر شروع ہو بھی جائے تو ارکان اپنی حاضری لگا کر مراعات کے حقدار بن جاتے ہیں اور جاری اجلاس سے اٹھ کر چلے جاتے ہیں اور کورم ٹوٹ جاتا ہے مگر حیرت تو یہ ہے کہ کورم کے لیے ارکان کی تعداد چوتھائی بھی مقرر نہیں اور کورم ٹوٹنے پر بھی اجلاس اس وقت تک جاری رکھا جاتا ہے جب کہ کوئی اس کی نشان دہی نہ کر دے اور بعض دفعہ نشان دہی پر بھی برہمی کا اظہار کیا جاتا ہے۔ کورم پورا کرنے کے لیے گھنٹیاں بجتی رہتی ہیں اور نہ ہونے پر اجلاس ملتوی ہو جاتا ہے جس سے کروڑوں روپے کا نقصان ہوتا ہے۔

موجودہ قومی اسمبلی اور سینیٹ اس لیے منفرد ہے کہ جہاں اکلوتی نشست رکھنے والے رکن اسمبلی اپوزیشن لیڈر بنائے گئے ہیں اور یہ تقرری پی ٹی آئی کی طرف سے ہوئی ہے جہاں اپنی پارٹی میں کوئی ایسا اہل نہیں تھا کہ اپوزیشن لیڈر بنایا جاسکتا ،جہاں ایک ایک نشست رکھنے والے اپوزیشن لیڈر ہوں وہ پارلیمان کیسے مضبوط ہو سکتی ہے۔ جہاں بجٹ اجلاس میں ارکان کی اکثریت کی بجائے صرف 52ممبران ہوں اس پارلیمنٹ کی مضبوطی کا صرف خواب ہی دیکھا جاسکتا ہے۔

جس پارلیمنٹ کو خود حکمران طبقہ غیر اہم سمجھے اس کا مضبوطی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ پارلیمنٹ کی مضبوطی کا خواب دیکھنے والی حکومت اور اپوزیشن کو پہلے اپنی اصلاح کرکے، غیر ذمے داری چھوڑ کر پارلیمنٹ کے اجلاسوں میں خود ذاتی دلچسپی لینا ہوگی تاکہ اجلاس وقت پر شروع ہوں جہاں کورم کے لیے گھنٹیاں نہ بجانی پڑیں۔ حکومت اور اپوزیشن کو پہلے یہ معاہدہ کرنا چاہیے کہ دونوں مل کر پہلے پارلیمنٹ کے اجلاسوں میں شرکت یقینی بنائیں اور پارلیمنٹ میں حاضری لگا کر مراعات حاصل کرنے کی بجائے عوام کی ان توقعات کو پورا کریں جس کے لیے انھیں منتخب کیا جاتا ہے۔

Source: https://www.express.pk/story/2818026/parliament-ki-mustahkami-ka-khwab-2818026/

Discussion

Sign in to join the thread, react, and share images.