مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ ایران کے منجمد اثاثے ہیں
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور حالیہ فوجی حملوں کے باوجود جنگ بندی معاہدے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق قطری وفد کا دورہ اس بات کا اشارہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان رابطے مکمل طور پر منقطع نہیں ہوئے اور ثالثی کی کوششیں بدستور جاری ہیں۔
ایک امریکی عہدیدار نے سی این این کو بتایا کہ امریکا سے مشاورت کے بعد قطری مذاکرات کار تہران کے لیے روانہ ہوگئے ہیں تاکہ ممکنہ امریکا ایران معاہدے کو حتمی شکل دینے کی کوشش کی جا سکے۔
ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے سی این این کو بتایا کہ مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ ایران کے منجمد اثاثے ہیں۔ کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے امریکا کو ایران کے تقریباً 24 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے جاری کرنے پر آمادہ ہونا ہوگا۔
انھوں نے مزید بتایا کہ ایران کی تجویز ہے، ابتدائی مرحلے میں 12 ارب ڈالر جاری کیے جائیں جبکہ باقی رقم بعد میں فراہم کی جائے۔
یاد رہے کہ ایران کا ہمیشہ سے مؤقف رہا ہے کہ جب تک ان منجمد اثاثوں کے بارے میں واضح پیش رفت نہیں ہوتی کسی جامع معاہدے تک پہنچنا ناممکن ہوگا۔
Discussion
Sign in to join the thread, react, and share images.